ملک ریاض کی ’دیانت داری‘ اور وفاقی حکومت کی پریشانی
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف قانونی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہیے کہ کون کتنا دولت مند یا کتنا طاقت ور و با اختیار ہے‘ ۔ انہوں نے نیب کی پریس ریلیز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کو پاکستانی عدالتی نظام میں اپنے خلاف الزامات کا جواب دینا چاہیے۔
اس دوران گزشتہ روز نیب کی طرف سے پریس ریلیز کا جواب دیتے ہوئے ملک ریاض نے دوبئی سے ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میرا کل بھی یہ فیصلہ تھا، آج بھی یہ فیصلہ ہے۔ چاہے جتنا مرضی ظلم کر لو، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا‘ ۔ بیان میں ملک ریاض کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں۔ قدم قدم پر رکاوٹوں کے باوجود 40 سال خون پسینہ ایک کر کے اللہ کے فضل سے بحریہ ٹاؤن بنایا۔ عالمی سطح کی پہلی ہاؤسنگ کا پاکستان میں آغاز ہوا، مجھے اللہ نے استقامت دی اور اپنے ممبرز سے کیے وعدے وفا کیے۔ ان گنت رکاوٹوں، سرکاری بلیک میلنگ نے بعض اوقات وعدوں کی تکمیل میں تعطل پیدا کیا لیکن میرے رب نے ہمیشہ مجھے سرخرو کیا۔ سالوں کی بلیک میلنگ، جعلی مقدمے اور افسران کے لالچ کو عبور کیا، مگر ایک گواہی کی ضد کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی بے سروپا پریس ریلیز دراصل بلیک میلنگ کا نیا طریقہ ہے۔ میں ضبط کر رہا ہوں لیکن دل میں ایک طوفان لیے بیٹھا ہوں، اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو پھر سب کا بھرم کھل جائے گا۔ یہ مت بھولنا کہ پچھلے 25 سے 30 سال کے سب راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں۔
ملک ریاض نے خود پر دباؤ کا حوالہ دینے کے باوجود یہ نہیں بتایا کہ وہ کس کی طرف سے کیسے دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔ وہ اپنے بیان میں یہ واضح کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں کہ ان سے کس کے خلاف کیسی گواہی لینے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں جبکہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر کیس میں طویل المدت سزائیں دی جا چکی ہیں، یہی قیاس کیا جا رہا ہے کہ ملک ریاض سے عمران خان کے خلاف گواہی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہو گا کیوں کہ اس معاملہ میں برطانیہ میں جرمانہ ادا کرنے، اسے اپنے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں ایڈجسٹ کرانے اور پھر عمران خان کے القادر یونیورسٹی پراجیکٹ کے لئے بھاری مالیت کے عطیات دینے جیسے معاملات میں ملک ریاض ہی کا نام آتا ہے۔ ایسے میں یہی اندازہ ہے کہ حکومت کی خواہش ہوگی کہ اگر ملک ریاض، عمران خان کے خلاف بیان دے دیں تو اس کا کیس مضبوط ہو جائے گا اور مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں میں نیب عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیلوں کے دوران یہ گواہی مفید ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ سراسر قیاس آرائیاں یا اندازے ہیں کیوں کہ نہ تو حکومت واضح کر رہی ہے کہ اسے ملک ریاض صرف ملزم ہی کے طور پر مطلوب نہیں ہیں بلکہ سابق وزیر اعظم کے خلاف ان کی گواہی بھی اہم ہے۔ دوسری طرف ملک ریاض نے آج ایکس پر جوشیلا اور جارحانہ بیان جاری کیا ہے۔ اس میں بھی قوم و ملک پر اپنے احسانات کا حوالہ دینے، خود کو مظلوم ثابت کرنے اور حکمرانوں کو ’بلیک میل‘ کرنے کی دھمکی دینے کے باوجود یہ کہنے کی جرات نہیں کی گئی کہ آخر کس معاملے میں ان کی گواہی کی ایسی ضرورت پیش آ گئی ہے کہ ملک کے شاید سب سے مالدار اور طاقت ور شخص کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی کہ پاکستانی حکومت انہیں کیسے پریشان کر رہی ہے۔ اس لیے نیب کے بیان کی طرح ملک ریاض کا جواب بھی پبلک گیلری کے لیے جاری کیا گیا ہے تاکہ عوام کو مسلسل بے یقینی میں مبتلا رکھا جائے اور وہ یہ طے نہ کرسکیں کہ ان میں سے کون سچ بول رہا ہے اور کون اس ملک میں قانون کی بالادستی اور سچائی کی جیت کا خواہش مند ہے۔
نیب نے گزشتہ روز ایک بیان میں بحریہ ٹاؤن کے دوبئی پراجیکٹ میں سرمایہ لگانے والوں کو متنبہ کیا تھا کہ ایسی سرمایہ کاری کو منی لانڈرنگ سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس بات کی وضاحت سامنے نہیں آ سکی کہ اگر کوئی بھی پاکستانی شہری دوبئی یا دنیا کے کسی بھی ملک کے کسی پراجیکٹ میں سرمایہ لگاتا ہے، اور یہ سرمایہ باقاعدہ ٹیکس ادا کر کے جائز وسائل سے فراہم کیا گیا ہو اور اسے بنکنگ کے مروجہ طریقہ کے مطابق باہر منتقل کیا جائے تو نیب بلا تخصیص کیسے ایسی سرمایہ کاری پر منی لانڈرنگ کا شبہ ظاہر کر سکتی ہے۔ منی لانڈرنگ تو ناجائز طریقوں سے حاصل کی ہوئی دولت کو ناجائز ہتھکنڈوں سے ’سفید دھن‘ میں تبدیل کرانے کی کوششوں کو کہتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ پہلو بھی واضح نہیں ہے کہ صرف بحریہ ٹاؤن کے بیرون ملک پراجیکٹ پر سرمایہ لگانے پر ہی منی لانڈرنگ کا شبہ کیوں ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر کوئی پاکستانی دوبئی کے کسی دوسرے رہائشی منصوبہ میں سرمایہ لگائے تو کیا اس کے بارے میں نیب یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی؟ اور وہ یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کریں گے کہ ملک سے جانے والا سرمایہ دستاویزی طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور اسے جائز طریقے سے ہی بیرون ملک بھیجا گیا ہو۔ نیب اور دیگر متعلقہ اداروں نے اگر گزشتہ دو دہائی کے دوران دوبئی اور دیگر ممالک میں خوش حال پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کے بارے میں ایسا ہی سخت گیر رویہ اختیار کیا ہوتا تو اس وقت دوبئی اور دیگر ممالک میں پاکستانیوں کی ایسی کثیر سرمایہ کاری موجود نہ ہوتی جس کے قانونی ہونے کا ثبوت فراہم نہیں کیا جاسکتا۔
گزشتہ روز نیب کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں۔ حکومت متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے تاکہ ملک ریاض کو قانونی طریقے سے پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ نیب کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔ نیب کے مطابق ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے۔ ملک ریاض نے سرکاری اور نجی اراضی پر ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرتے ہوئے لوگوں سے اربوں روپے کا فراڈ کیا ہے۔
احتساب بیورو کے الزامات کے بارے میں اس وقت تک رائے نہیں دی جا سکتی جب تک عدالتوں میں انہیں ثابت کر کے فیصلے حاصل نہ کر لیے جائیں۔ اور ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔ تاکہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے اس دعوے کا ثبوت فراہم ہو سکے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی دولت مند یا طاقت ور ہو، اسے قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ دعویٰ بہت عمدہ اور دلنشین ہونے کے باوجود پاکستان کے معروضی حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ علی الاعلان غیر قانونی طریقے سے کام چلانے والے لوگوں کو ملک میں محسن اور ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی روایت راسخ ہوئی۔ ملک ریاض متعدد بار انٹرویوز اور بیانات میں یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ رشوت کے ذریعے اپنی فائلوں کو پہیے لگا لیتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کبھی یہ تفصیل نہیں بتائی کہ اس رشوت کی نوعیت کیا رہی ہے اور وہ کہاں کہاں تک پہنچائی جاتی رہی ہے۔ البتہ اس کا ایک نمونہ اس وقت ضرور دیکھنے میں آیا تھا جب ملک ریاض نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ اختلاف کی صورت میں 2012 کے دوران ایک پریس کانفرنس میں افتخار چوہدری اور ان کے صاحبزادے ارسلان افتخار پر متعدد الزامات عائد کیے تھے۔ بعد میں سپریم کورٹ نے ان کے خلاف توہین عدالت کے الزام میں کارروائی کا آغاز کیا۔ تاہم فروری 2019 میں سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے یہ وعدہ کر کے ملک ریاض کے وکیل سے معافی نامہ جمع کرانے کے لیے کہا کہ اسے قبول کر لیا جائے گا۔ یوں یہ معاملہ چند سال تک عدالتوں میں تاخیر کا شکار رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچا۔
ملک ریاض نے اپنی دولت کے بل بوتے پر اعلیٰ سیاسی قیادت سے قریبی تعلقات استوار کیے۔ اس کے علاوہ عسکری قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بحریہ ٹاؤن میڈیا کو اشتہارات دینے والا ایک بڑا ادارہ ہے لہذا ملک کا کوئی میڈیا ہاؤس کبھی ملک ریاض اور ان کے تجارتی ہتھکنڈوں کے بارے میں کبھی نہ کوئی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کر سکا اور نہ ہی رائے عام بنانے کے لیے ان غیرقانونی طریقوں کی نشاندہی کی گئی اور جوابدہی کا مطالبہ کیا گیا۔ ملک کے متعدد نامور صحافی ملک ریاض سے ذاتی تعلقات کا حوالہ دے کر خوش ہوتے اور خود کو ’معتبر‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک ریاض نے اپنے تازہ ترین بیان میں خود کو ایماندار اور اپنی دولت کو ’خون پسینہ ایک کر کے اللہ کے فضل سے‘ کمائی ہوئی دولت قرار دیا ہے۔ وہ ملکی نظام کو کرپٹ اور مشکلات پیدا کرنے والا کہتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس کرپٹ نظام میں ان جیسا ’ایماندار‘ شخص کیسے سرخرو بھی ہوا اور کیسے ملک کا امیر ترین پراپرٹی ٹائیکون بن گیا۔
ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن پر نیب یا دیگر افراد و اداروں کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو اگر فراموش بھی کر دیا جائے تو بھی سپریم کورٹ میں 460 ارب روپے ہرجانہ ادا کر کے اپنی غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف نیب کی کارروائی رکوانے کا اقدام یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کس حد تک ’ایماندارانہ‘ طریقے سے ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ اس کے بعد برطانیہ میں کرائم ایجنسی کے ساتھ ڈیل کر کے 190 ملین پونڈ ادا کرنے کے وقوعہ سے بھی یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ ملک ریاض کی ایمانداری اور سچائی کا معیار کیا ہے۔
بدقسمتی سے وزیر اطلاعات اور نیب کے بیانات کے باوجود ملکی نظام میں ملک ریاض کے سرپرستوں اور دوستوں کی طاقت اور اثر و رسوخ کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے وہ اگرچہ اپنے بیٹے کے ساتھ عدالتی مفرور ہونے کے بعد دوبئی میں مقیم ہیں لیکن ان کی کمپنیاں آزادی سے پاکستان میں کاروبار کر رہی ہیں اور اربوں روپے کما رہی ہیں۔ اگر حکومت واقعی غیرقانونی دھندے کرنے والے گروہوں کو نشان عبرت بنانا چاہتی ہے تو ملک ریاض اور اس کے زیر انتظام کام کرنے والے بحریہ ٹاؤن منصوبوں کی سرکاری سرپرستی بند کی جائے اور انہیں قانون کے سامنے جوابدہ کرایا جائے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے تو یہ پوچھا جائے کہ ایک عام شہری نے اپنے ہاؤسنگ منصوبوں کو بحریہ ٹاؤن کے نام سے کیسے منسوب کیا؟ پاک بحریہ ایک ریاستی محکمہ ہے جو ملکی دفاع کی خدمات سرانجام دینے کی وجہ سے عزت و وقار کی پہچان ہے۔ جاننا چاہیے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو ملکی قانون سے فرار ہونے والے ایک شخص کو پاک بحریہ کے نام سے اپنے تجارتی منصوبے فروخت کرنے کی اجازت دینے کا باعث بنے تھے۔
ملک ریاض کو جواب دہ بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات سے ان کی واپسی کی بات چیت سے پہلے ان سے ’بحریہ‘ کا نام لیا جائے اور پاک بحریہ کی نیک نامی کو داغدار کرنے پر ان سے ہرجانہ وصول کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت پاکستان واضح کرے کہ قانون ملک ریاض کی دولت اور سیاسی رابطوں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ جس روز حکومت یہ اقدام کرنے کا آغاز کرے گی تو وفاقی وزیروں یا نیب کو بیان بازی کے ذریعے قانون کی بالادستی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔



ملک ریاض نے پاک بحریہ سے پوچھ کر ہی نام رکھا ہوگا۔
جب اتنے برس سے ملک کے ایک ریاستی ادارے نے اپنے نام کو تجارتی مقاصد کے لئیے استعمال ہونے پر اعتراض نہیں کیا ہے تو اس کا یہ ہی مطلب ہے کہ دونوں اداروں کی باہمی رضامندی سے ایسا ہو رہا ہے۔
آپ کا ڈی ایچ اے کے متعلق کیا خیال ہے۔
ملک ریاض اوائل دنوں میں نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد سے چھوٹے موٹے ایم ای ایس کے ٹھیکے لیکر کام کرتا تھا۔
پھر کچھ "مالدار لوگ” جن میں کہنے والے ایک مرحوم بہت مشہور ڈاکٹر صاحب (صحت والے نہیں) اور نیوی کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران شامل تھے ۔۔۔ کے پیسوں سے پنڈی میں بحریہ ٹاؤن شروع کیا۔ اس زمانے میں کچھ اشتہاروں میں بحریہ فاؤنڈیشن اور لنگر کی تصویر بھی چھپی۔ جب بحریہ ٹائوں کامیاب ہوگیا تو عدالت میں مقدمہ دائر ہوا اور لنگر اور پاکستان نیوی یا نیول فاؤنڈیشن کا نام اشتہار میں استعمال کرنے پر پابندی لگ گئی۔
بیس تیس سال بعد مشرف دور میں یہ مقدمہ ایک بار پہر چلا۔ کیوں کہ فضائیہ، شاہین، عسکری اور آرمی ٹائپ کے نام مختلف جگہ استعمال ہورہے تھے۔ ان میں رینجرز ٹاؤن اور سپریم کورٹ اور کچھ وزارتوں کے نام سے پراجیکٹ مارکیٹ میں آئے۔
کراچی میں ایک پی آئی اے کے نام سے ہاؤسنگ سوساءٹی بھی بنی تھی۔ جو فراڈ تھی۔
بہرحال اب سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ یہ سب برانڈ نیم ہیں اور صرف سرکار کے متعلقہ ادارے ہی کسی پراجیکٹ میں ان ناموں کو استعمال کرسکتے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن چونکہ خود ایک مستند برانڈ بن چکا تھا تو اسے اب اجازت ہے۔ انہوں نے اور نیوی نے متعدد مرتبہ اخبار میں اشتہار دے دیا کہ ہمارا آپس میں کوئی تعلق نہیں بحریہ تاؤن کا پاکستان بحریہ سے کوئی تعلق نہیں۔
۔
ڈی ایچ اے کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسے قومی اسملی اور پارلیمنٹ سے خصوصی اجازت حاصل ہے کہ یہ کسی بھی شہر میں زمین سرکاری ریٹ پر حاصل کرسکتی ہے۔ یعنی یہ سی ڈی اے ۔ کے ڈی اے اور ایل ڈی اے سب پر بھاری ہے۔
–
تفصیلات لکھنے کا بہت شکریہ۔
پڑھ کر مزہ اگیا۔