شکیب جلالی اور نو آبادیاتی عہد کی تلخیاں
شکیب جلالی ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے تلخ واقعات برداشت کیے اور ان واقعات کو برداشت کرتے کرتے ان کا ضبط جواب دے گیا جس کی بنا پر انہوں نے خودکشی کر لی۔ شکیب جلالی نے اتنی تکلیف دہ زندگی جینے کی بجائے موت کو ترجیح دی۔
شکیب جلالی کا شمار اردو ادب کے نامور شعراء میں ہوتا ہے۔ شکیب جلال اردو شاعری پر شہاب ثاقب کی طرح نمودار ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ انہوں نے اردو غزل کو اس دور میں اپنی شاعری کا حصہ بنایا جب اردو ادب میں نظم کو پروان چڑھایا جا رہا تھا۔ دور جدید میں ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک میں غزل کے سرمایہ میں جن شاعروں نے اضافہ کیا ان میں شکیب جلالی اہم حیثیت کے مالک ہیں۔
احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ:
”اردو غزل کی روایت میں شکیب کا مقام منفرد ہے۔ ان کے دور میں فیض اور ناصر کاظمی خوبصورت غزلیں کہہ رہے تھے مگر وہ شکیب ہی تھا جس نے غزل کو موضوع اظہار کے حوالے سے ایک متوازن جدت کا موڑ دیا۔ یوں وہ جدید غزل نگاروں کا قافلہ سالار ہے۔“ ( 1 )
شکیب جلالی کی شاعری میں شعری محاسن کو دیکھا جائے تو ان کی شاعری کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے عصری حسیت، شدت احساس، انسانی نفسیات کے ذریعے نو آبادیاتی نظام کو واضح کیا ہے کہ بر صغیر میں نو آبادکاروں نے کس طرح اپنا تسلط قائم کیا۔ شکیب جلالی چونکہ حساس دل کے مالک تھے اس لئے انہوں نے ان مضمرات کو بہت زیادہ محسوس کیا۔
نوآبادیاتی نظام سے مراد ایک ملک کا دوسرے پر تسلط ہے مگر یہ نوآبادیاتی نظام ایک آئیڈیا لوجی کے ذریعے منظم کیا گیا۔ یہ ایک باقاعدہ نظریہ ہے جس کی بنیاد ”تہذیبی مشن“ پر ہے۔ اس مشن کا مقصد ترقی یافتہ اور مہذب قوم کا پسماندہ اقوام کو مہذب اور ترقی یافتہ بنانا تھا۔ برصغیر میں تجارت کے تحت آنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہ نظام ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت اپنایا۔ برصغیر کی تہذیبی جڑوں کو ہلا کہ رکھ دیا۔
شکیب جلالی کی شاعری میں انفرادیت، خود اعتمادی اور اظہار کی بھر پور توانائی نوآبادیاتی نظام کی ہی دین ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب برصغیر پر اپنا تسلط قائم کیا تو وہاں کے لوگوں کے دل و دماغ پر اس کے اثرات پیوست ہو کر رہ گئے۔ چونکہ شکیب جلالی ایک منفرد طرز احساس رکھنے والے شاعر ہیں۔ ان کی انفرادیت کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے شدت احساس کے تجربات و مشاہدات کو کم عمری میں ہی بہت زیادہ محسوس کیا۔ اور انہی تجربات و مشاہدات نے انہیں مخصوص مزاج شاعری سے ہم آہنگ کر دیا۔
ستارے سسکیاں بھرتے تھے، اوس روتی تھی
فسانہ جگر لخت لخت ایسا تھا ( 2 )
نوآبادیاتی نظام اور اس کے سماجی رویوں نے برصغیر کی تہذیبی و ثقافتی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔ اور لوگوں کو ان کی تہذیب و ثقافت سے دور کرنے کی کوشش کی۔ شکیب جلالی کا شمار ان شعراء میں ہوتا ہے جو اپنے ماضی کی علمی و ادبی روایات سے جڑا ہوتا ہے لیکن زندگی میں نئے تجربات اور راستوں کی گنجائش ضرور ہوتی ہے۔ شکیب نے اپنے فن کے لئے نیا راستہ چننے کو ترجیح دی۔ ان کا اپنی زندگی میں بہت سے مسائل سے سامنا ہوا لیکن انہوں نے ان مسائل کا سر جھکا کر استقبال کیا اور ان کو ایک نئے طریقے سے اپنی شاعری میں بیان کیا۔ وہ کہتے ہیں :
شکیب اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام کو جائے ( 3 )
شکیب جلالی نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی تب مادی زندگی میں انسان کو نت نئے انقلابات و ایجادات کا سامنا تھا۔ جب انگریز ہندوستان میں آیا تو اس نے وہاں کا سارا نظام بدل دیا۔ نئے نئے قانون لاگو کیے۔ نئے نظام متعارف کروائے۔ وہاں کا تعلیمی نظام بدل کر رکھ دیا۔ ایسے ایسے نظام متعارف کروائے جس سے انسانی نفسیات بھی بدل گئیں۔ باطن خالی اور کھوکھلے ہو گئے۔ جب شکیب جلالی سماجی سطح پر کھوکھلے اور دوغلے رویے دیکھتے ہیں تو ظاہر اور باطن کا تضاد انہیں بہت کچھ کہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے
بدل رہا ہے جنوں زاویے اُڑانوں کے ( 4 )
استعماری نظام کے آنے سے برصغیر کے انسان اپنی اخلاقی اقدار سے بہت دور چلے گئے۔ ہر کسی کو خود کو بشر بنانے کی سوچ ستانے لگی۔ انسان احساس کمتری کا شکار ہو گئے۔ شکیب جلالی کے ہاں بھی ہمیں انسان کی اخلاقی اقدار کے حوالے سے انسانیت کے معیار کے پیمانے نظر آتے ہیں۔ ان کی سوچ کے مطابق ابن آدم جب مقصد حیات سے ہٹ جائیں تو خود غرض اور مفاد پرست بن جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جینا دشوار ہو جاتا ہے۔ شکیب جلالی جب ان تلخ حقائق کو بیان کرتے ہیں تو ان کا لب و لہجہ بڑا کاٹ دار اور طنزیہ ہوتا ہے اور ان کا یہ طنزیہ انداز بڑی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
دنیا والوں نے چاہت کا صلہ مجھے انمول دیا
پیروں میں زنجیریں ڈالیں ہاتھوں میں کشکول دیا ( 5 )
اپنے دور کے لوگوں کی بے بسی، لاچاری کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہجرت کا دکھ، درد اور کرب بھی محسوس کیا۔ وہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ بہت سے لوگ بے یار و مددگار اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ایک نئے وطن ایک نئی جگہ آ کر رہے اور یہ سب کچھ برصغیر میں نو آبادیاتی نظام کے تحت ہوا۔ جنہوں نے بہت عرصے سے رہنے والے لوگوں کو ہی نہیں بکھیرا بلکہ ان کی تہذیب و شناخت کو بھی ملیا میٹ کر دیا۔ اور یہی عصری تقاضے ہمیں شکیب جلالی کی شاعری میں نظر آتے ہیں۔ اور اس دور کے انسان کی سوچ، فکر اور کشمکش کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ اور یہی درد و غم ان کی شاعری کے اختصاصی پہلو ہیں۔ جو انہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کے ذریعے محسوس کیے۔ جو ان میں ایک نئے احساسات کو جگانے کا موجب بنے۔
بقول شمس الرحمن فاروقی:
”شکیب جلا لی کے ہاں غم یا درد مندی کا آہنگ صرف ظاہری حالات یا ذاتی محرومیوں کی بنا پر نہیں لیکن ان کا شاعرانہ کمال یہ ہے کہ وہ تمام ناکامیوں کو اپنے ذاتی تجربے کے روپ میں دکھانے پر قادر ہیں۔“ ( 6 )
جب لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے تو بے سرو سامان تھے ان کے پاس رہنے کے لیے چھت بھی موجود نہ تھی۔
یادیں ہیں اپنے شہر کی اہل سفر کے ساتھ
صحرا میں لوگ آئے ہیں در و دیوار کے ساتھ ( 7 )
شکیب جلالی کا اپنی زندگی میں بہت سے ایسے حالات و واقعات سے سامنا ہوا۔ جس کی وجہ سے وہ یقین اور شک کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے۔ شکیب کی شاعری یقین اور تشکیک کے درمیان گھومتے انسانوں کی زندگی، رویوں کی خوبصورتی اور بد صورتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے اپنے دور کے لوگوں کی خرابیوں، لوٹ مار، جبر، ناآسودگی اور بدلی اقدار کا نوحہ بڑی بے باکی سے بیان کیا ہے۔ کیونکہ وہ دور رد استعماریت اور تخریبی قوتوں کا دور تھا۔ اور لوگ اس قدر ظالم ہو گئے تھے کہ وہ اپنی سماجی اور اخلاقی اقدار بھول گئے تھے۔ شکیب جلالی جس طرف بھی جاتے تھے انہیں ہر چیز بکھرتی نظر آتی تھی۔ چاہے وہ سماجی، سیاسی، معاشرتی اقدار تھیں یا پھر انسانی حقوق۔
مانند صبا جدھر گئے ہم
کلیوں کو نہال کر گئے ہم
زنجیر بیا اگر گئے ہم
نغموں کی طرح بکھر گئے ہم
سورج کی کرن تھے، جانے کیا تھے
ظلمت میں اتر اتر گئے ہم ( 8 )
چپے چپے سے اُبلتے ہوئے خوں کے چشمے
تیری مظلومی بے حد کا پتہ دیتے ہیں
کتنے جابر ہیں نئے دور کے سلطاں زادے
تیری معصوم امنگوں کو سزا دیتے ہیں ( 9 )
شکیب نے احساس اور شعور کی مدد سے معنوی ممکنات کی باز یافت کی ہے۔ انہوں نے اپنے اشعار میں علائم و رموز کی بہت زیادہ برتا ہے۔ اور یہ علائم ان کے دور کے معاملات و مسائل کو بیان کرتی ہیں۔ اور شکیب کے فکری اساس کو بروئے کار لاتی ہیں۔ ان کی شاعری میں صحرا، پانی اور سورج کی علامتیں ہیں جو بے بسی، گھٹن، زندگی کی تلاش اور امید کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کے اشعار زندگی کے جانب ان کے گہرے ادراک کا اظہار ہیں۔
بقول احمد ندیم قاسمی:
”شکیب کے جملوں میں وہ کہیں گی ہے کہ چھو لو تو بھر بڑھ جائیں، نہ وہ حدت کہ شاعر حسن آفرینی سے الگ ہو کر صرف چونکانے پر کمر باندھ لے۔ یہ سمبل قاری کے ذہن میں ایک مکمل تصویر لے آتے ہیں۔ اور اس تصویر کے پس منظر میں چھپا ہوا خیال یا جذبہ پورے حسن سے جگمگا اٹھتا ہے۔ ( 10 )
شکیب جلالی کا واسطہ بہت برے حالات اور تلخ واقعات سے رہا ہے۔ اس لئے ان کے ہاں تخیل کی فراوانی اور تخلیقی قوت حس جمالیاتی ہیئت میں ڈھلتی ہے۔ اس میں نہ صرف وہ حسیات کی متاثر کرنے کی قوت رکھتے ہیں بلکہ ان کے ہاں گردشِ شام و سحر کے مابین تسلسل حیات کو قائم رکھنے اور عزم سفر کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔
کس کو گماں تھا، اک نقطے کی آغوش اتنی کشادہ ہوگی
جس میں انت سرے تک بھری پہنائی
گھل مل کر رہ جائے گی
کس کو خبر تھی، انجانے پن کی گرد ایک لبادہ ہوگی
جس کے تلے صدیوں کی سربستہ دانائی
اپنی چھپ دکھلائے گی
کس کو یقین تھا، دور کے لمس کی تاثیر اتنی زیادہ ہوگی ( 11 )
شکیب جلالی کی شاعری فکری لوازمات کے ساتھ ساتھ فنی لوازمات سے بھی بھری بھرپور ہے۔ تشبیہات و استعارات، منظر نگاری، داخلیت اور خارجیت کا عنصر، علامات نگاری، کہاوتوں اور ضرب الامثال کا بھرپور استعمال ملتا ہے۔ جن سے ان کی شاعری میں مزید جان پیدا ہوتی ہے۔
ہم آج ہیں پھر ملول یارو
مرجھا گئے کھل کے پھول یارو
گزرے ہیں خزاں نصیب ادھر سے
پیڑوں پہ جمی ہے دھول یارو ( 12 )
مجموعی حوالے سے اگر شکیب جلالی کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو ان کی شاعری میں انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں کا تنوع، ہجرت کا دکھ، درد، یاسیت، زندگی کے تلخ حقائق، اخلاقی اقدار سے دوری، تہذیبی و ثقافتی شناخت کا بیان ہے۔ اور یہ سب کچھ نو آبادیاتی نظام اور رد استعماریت کی دین ہے۔ اور اسی وجہ سے ہی ان کی شاعری دوسرے شعراء کے مقابلے میں بھرپور تاثر رکھتی ہے۔
حوالہ جات:
1۔ شکیب جلالی، کلیات شکیب جلالی، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، سن ندارد، ص، 21
2۔ ایضاً، ص، 28
3۔ وفا یزداں منش، ڈاکٹر، مجلہ خیابان بہار، 2021، ص، 39
4۔ شکیب جلالی، کلیات شکیب جلالی، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، سن ندارد، ص، 66
5۔ ایضاً، ص، 81
6۔ ذوالفقار احسن، شکیب جلالی شخصیت اور فن، نقش گر پبلی کیشنز، راولپنڈی، 2006، ص، 34
7۔ شکیب جلالی، کلیات شکیب جلالی، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ص، 39
8۔ ایضاً، ص، 74
9۔ ایضاً، ص، 300
10۔ ذوالفقار احسن، شکیب جلالی شخصیت اور فن، نقش گر پبلی کیشنز، راولپنڈی، 2006، ص، 23
11۔ شکیب جلالی، کلیات شکیب جلالی، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ص، 244
12۔ ایضاً، ص، 78


