احتجاج سے انحراف تک
پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے مناظر سے لبریز ہے جہاں کسی بھی بڑے سیاسی لیڈر کو سزا عوامی غیظ و غضب کو للکارنے کے مترادف تصور ہوتی ہے مگر عمران خان کو سنائی جانے والی چودہ سال قید کی سزا پر پیدا ہونے والا سکوت ایک حیران کن اور غیرمعمولی لمحہ ہے۔ یہ خاموشی محض عوام کی سکوت نہیں، بلکہ ان واقعات کا منطقی نتیجہ ہے جو سال 2024 میں عمران خان کی سیاست اور تحریک انصاف کے کارکنان کے ساتھ پیش آئے۔ یہ انحراف اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ سیاست میں عوامی اعتماد اور جذبات کا کھیل انتہائی نازک ہوتا ہے اور جب قیادت اس نازکی کو نظرانداز کر دے تو انجام بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسا اب دیکھا جا رہا ہے۔
2024 کا سال پی ٹی آئی کے احتجاجوں کی صداؤں سے گونجتا رہا مگر ہر بار عوام کو جس طرح بیچ راستے چھوڑا گیا، اس نے تحریک انصاف کے حامیوں کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا۔ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہو یا ملک گیر ہڑتالوں کی کال، ہر کوشش نے عوام میں مزید مایوسی کو جنم دیا کیونکہ ان تمام اقدامات میں ایک ہیجان کے بعد غیر یقینی کا اندھیرا چھا جاتا تھا۔ قیادت کی جانب سے بار بار پیچھے ہٹنا اور کارکنان کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا، عوامی تحریکوں کی روح کو گھائل کر گیا۔ وہ جو کبھی عمران خان کے حق میں اپنی جانیں نچھاور کرنے کو تیار تھے، آج مایوسی اور بے اعتمادی کے گہرے غار میں جا گرے ہیں۔
احتجاجوں اور بلند و بانگ نعروں کا یہ سلسلہ نہ صرف ناکامی کی داستانیں لکھتا رہا بلکہ ان کے غیر موثر ہونے کی ایک بنیادی وجہ قیادت کی حکمتِ عملیوں کا فقدان تھا۔ بلند و بانگ دعوے اور حتمی فیصلوں کا اعلان کر کے جب عوام کو سڑکوں پر لایا گیا، تو ان کے ارادوں کو نصف راہ میں چھوڑ دینا ان کی توانائیوں کو زائل کر گیا۔ جب ایک رہنما اپنے حامیوں کو سیاسی جنگ میں جھونکنے کے بعد خود ہی پسپائی اختیار کرے تو وہ لوگ جو امید کے دیے جلائے کھڑے ہوں، آخر کب تک ان پگھلتے چراغوں کی لو کو تھام سکتے ہیں؟
عوام کی یہ خاموشی صرف مایوسی کا عکس نہیں بلکہ ایک اجتماعی غصے کی پرچھائی بھی ہے۔ وہ غصہ جو ہر ناکام احتجاج کے بعد عوام کے دلوں میں پلتا رہا، وہ بے اعتباری جو ہر ادھوری کال کے بعد بڑھتی گئی، اور وہ بدظنی جو ہر بار قیادت کے وعدوں کو وفا ہوتے نہ دیکھ کر گہری ہوتی گئی۔ عوام کو بارہا وہ خواب دکھائے گئے جنہیں ہر بار خود قیادت نے اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ ایسے میں عوام کی خاموشی کسی حکمتِ عملی کا فقدان نہیں بلکہ قیادت کے رویے کو خاموش جواب ہے۔
ناکام احتجاجی سلسلے اور قیادت کی بے عملی نے تحریک انصاف کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ اب، جب عمران خان کو چودہ سال قید کی سزا سنائی گئی، عوام کے لیے یہ محض ایک اور واقعہ تھا۔ وہ عوام جو کسی وقت ایک اشارے پر سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار تھے، اب خود کو اس کھیل سے الگ کر چکے ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ قیادت جس قربانی کا تقاضا کرتی ہے، وہ خود اسے ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ سیاسی قیادت کا اپنے حامیوں سے رشتہ اعتماد کی ڈور سے بندھا ہوتا ہے۔ جب یہ ڈور کمزور ہو جائے تو نہ عوام کے جذبات باقی رہتے ہیں اور نہ ان کا جوش۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو آج کے سیاسی جمود کا سامنا صرف مخالفین کے حربوں سے نہیں بلکہ اپنی ہی پالیسیوں اور فیصلوں کے نتائج سے ہے۔ عوام کی خاموشی دراصل اس شور کا جواب ہے جو گزشتہ برسوں میں ان کے جذبات کو پامال کر چکا ہے۔ اور جب عوام خاموش ہو جائیں، تو قیادت کے پاس صرف پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔


