پاکستان کا پاور سیکٹر: بڑھتا ہوا گردشی قرض
گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان غربت، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ان مسائل کی مد میں پاکستان کی 25 کروڑ کی عوام کو وہ قرض بھی ادا کرنے پڑھ رہے ہیں جو ان پر واجب ہی نہ تھے۔ پاکستان گردشی قرضوں کے ایک ایسے دلدل میں دھنسا ہوا ہے جس سے نکلنے کے لئے پاکستان کو ہمیشہ آئی ایم ایف کا سہارا درکار ہوتا ہے۔
پاکستان کے توانائی کو شعبے میں اس قدر تیزی سے بڑھتا ہوا گردشی قرض ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو فوری طور پر توجہ کے ساتھ شفاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ حکومت پاور سیکٹر کے گردشی قرض کو 2.31 ٹریلین سے کم رکھنے میں ناکام رہی ہے جیسا آئی ایم ایف کے ساتھ انکشاف تھا۔ یہی گردشی قرض بڑھ کر 2.64 ٹریلین سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2024 میں گردشی قرضے میں 84 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
گردشی قرض اس وقت ہوتا ہے جب ایک ادارہ اپنے کیش فلو میں مسائل کا سامنا کر رہا ہو اور اپنے سپلائرز اور قرض دہندگان کی ادائیگیاں روک دے۔ پاکستان کو کئی دہائیوں سے اس مسئلے کا سامنا ہے۔
سرکلر ڈیٹ سی پی پی اے میں نقدی رقم کا وہ شارٹ فال ہے، جو سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، ڈسکوز اور نجکاری کے الیکٹرک کی ناکارہ وصولیوں کی بناء پر انجام پاتا ہے۔ اس طرح سی پی پی اے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بر وقت ادائیگی نہیں کر سکتا۔ جس کی بناء پر آئی پی پیز اور پبلک سیکٹر جینکوز ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اپنے واجبات ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ دوسری جانب کمپنیوں کو ایندھن فراہم کرنے والے، بدلے میں ریفائنریوں اور انٹر نیشنل فیول سپلائرز کو اپنی ادائیگیوں پر ڈیفالٹ کرتے ہیں۔ ڈیفالٹ انٹرسٹ کی ادائیگی میں تاخیر پاور سیکٹر پر قرضہ کا سبب بنتی ہے۔ آمدنی کا یہ شارٹ فال توانائی کے پورے سپلائی چین، بجلی پیدا کرنے والوں سے لے کر فیول سپلائی کرنے والوں، ریفائنریز، پروڈیوسرز اور کنزیومرز تک کو جھیلنا پڑھتا ہے۔
ڈسکوز اور کے الیکٹرک کا سرکاری اور پرائیویٹ صارفین سے ناکافی ریونیو اکٹھا کرنا، بجلی کی ناکارہ پیداوار، سسٹم میں بے تحاشا چوری، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا ناقص ڈھانچہ، وزارتِ خزانہ کی جانب سے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈیز میں تاخیر، دیر سے ادائیگی کے سر چارجز جو کہ سی پی پی اے کی جانب سے آئی پی پیز یعنی پرائیویٹ سیکٹر کو ادا کیے جاتے ہیں، بین الاقوامی ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور سود پر ادائیگی پاور سیکٹر کو مزید قرض کے جال میں دھکیلتی ہے۔
ان سب مسائل نے گردشی قرض میں اضافے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید کے مطابق پاکستان کی حکومت 65 فیصد، سری لنکا کے بعد پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ سود ادا کرتی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط، حکومت کی نا اہلی اور ان اسباب کا براہِ راست اثر معاشی طور پر بد حال اور تنخواہ دار لوگ یعنی متوسط طبقے پر ہوتا ہے۔
مزید برآں، نیپرا نے 14 جون کو بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 5 روپے 72 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی تھی اور یہ اضافہ مالی سال 2024۔ 25 کے لئے کیا گیا تھا۔ توانائی کے ٹیرف میں اس قدر اضافے کے باوجود یکم جولائی، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق حکومت کی جانب سے بجلی کے فی یونٹ بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 12 پیسے تک کا مزید اضافہ کیا گیا۔
بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور گردشی قرضوں میں مسلسل اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکام نے ابھی تک اصل مسائل کو حل کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ فی الوقت صارفین کے لئے فی یونٹ بجلی کی موجودہ قیمت 62 روپے ہے۔ جس کی وجہ بجلی کے بیس ٹیرف پر لگائے مختلف قسم کے ٹیکسز ہیں۔ بنیادی ٹیرف سے زائد بجلی کے نر خوں میں شامل ٹیکسوں کی وجہ سے بجلی بڑی اکثریت کے لئے نا قابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔
پاور سیکٹر میں گردشی قرضہ مالی سال 2006 میں اُس وقت دیکھا گیا جب ایندھن کی قیمتوں میں بین الاقوامی سطح پر اضافہ ہوا۔ یہی گردشی قرض مالی سال 2006 میں صرف 111 بلین روپے تھا سال 2015 میں 600 بلین اور گزشتہ سال 2023 میں 2.3 ٹریلین تک پہنچ گیا جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا لگ بھگ 3 فیصد تھا۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پاور سیکٹر میں بڑی اصلاحات شروع کرنے کا بارہا وعدہ کیا اور ناکام رہیں۔ بجلی کی پیداوار سے لے کر تقسیم تک ہر شعبے میں حکومت کے غالب کردار کو دیکھتے ہوئے یہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ یہ گڑبڑ بڑی حد تک حکومتی ناکامیوں کی طویل داستان ہے۔
پاکستان میں انسانی آبادی کے تناسب سے مویشیوں کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے جس کے ذریعہ بائیو گیس پلانٹس کا استعمال کیا جا سکتا ہے، چین کے ذریعے سستے سولر پینلز کی تیاری پر سرمایہ کاری کی جائے، آئی پی پیز میں ڈالر انڈیکسڈ ریٹرن ریٹ کو پاکستانی روپے پر مبنی شرح منافع سے تبدیل کیا جائے۔ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ ان کے زائد منافع کو چیک کیا جا سکے، حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے پختہ اور طویل معاہدوں کو آہستہ آہستہ ختم کیا جائے، ہوا کی طاقت کو پن چکیوں کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، نہری نظام سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ تمام نتائج کو زیرِغور لاتے ہوئے ڈسٹری بیوشن سسٹم پر توجہ اور لائن لاسز کی چوری کو ڈیجیٹل میٹرز کے ذریعے کم کیا جائے۔
رہائشی صارفین، خاص طور پر درمیانی آمدنی والے گھرانے پاور سیکٹر کی ناکاری کا سب سے بڑا شکار ہیں کیونکہ وہ حکومت کی نا اہلی کی بناء ادائیگیوں پر مجبور ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ملک کے مختلف حصوں میں بد امنی کو بھڑکا سکتا ہے جس کی مثال آزاد کشمیر میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی پر کیے گئے مظاہروں سے لی جا سکتی ہے کیونکہ شدید مہنگائی اور حقیقی اُجرتوں میں کمی عام لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔
بجلی کی قیمت میں اضافے سے بجلی چوری میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی مشق غیر نتیجہ خیز ہے۔ اگرچہ سرکلر ڈیٹ جیسے چیلنج کو حل کرنا ایک پیچیدہ کوشش ہو سکتی ہے لیکن حکومتی اداروں میں جدید اصلاحات کے ذریعے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاور سیکٹر میں بڑھتے ہوئے گردشی قرض کی روک تھام کے لئے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کے ساتھ، کیے گئے غیر مستفید فیصلوں اور ماضی کے تجربات پر نظر ثانی کی سخت ضرورت ہے۔


