حرف کی طاقت سے بندوق خوفزدہ

کتابیں دراصل حکام کی اجارہ داری کے خاتمے کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے کتابوں پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ کتابوں کو جلانا اور ان پر پابندی لگانا تو سنا ہو گا لیکن بلوچستان میں عام طالب علموں پر پابندی لگانا اور اسے قید و بند کروانا واقعی سوچنے کے لائق بات ہے۔ نوآبادی نظام اور کیا ہو سکتی ہے جو نام نہاد سامراج ہم بلوچوں پر مَسلط ہے اور ہم شہرِ خموشاں کی طرح ساکن ہوئے ہیں۔ ہم سب مانتے ہیں کہ تم نے بلوچستان کو افتتاح سے ایک کالونی تصور کی ہے اور ہم پر جتنے ظلم ہوسکتے ہیں تم آسانی سے کر رہے ہیں۔ اب غلاموں کو جن، دیو، پریوں کی دل بھلانے والی کہانی کی کتابوں کو فروخت کرنے کا حق بھی حاصل نہیں جس سے ایک خاندان کی چولہا چل سکتا ہے۔ ان قِصے کہانیوں میں کون سے ایٹم بم کے فارمولے موجود ہیں؟
اکیس جنوری میں بساک نامی تعلیمی تنظیم نے کتاب کارواں کے نام پر ایک بک اسٹال کوہِ باتیل کے دامن میں لگایا تھا، اس بیچارے کتاب فروش کو کیا پتا تھا کہ یہ باتیل کے دامن ہم بلوچوں کے لیے نہیں ہے اس کے سائے میں اب سامراج رہائش پزیر ہیں۔ گوادر کی مست لہریں اب بلوچوں کے لیے درآمد والی تاثر دے رہی ہے۔ اب یہ سید ہاشمی کا شہر نہیں جہانِ عالم میں سی پیک کے نام منّور ہے لیکن خود ایک اندھیری قید میں استحصالی سوچ کے پشتِ زندان ہے۔
بلوچوں کو یہ سی پیک کیا نام دے گی جو ہر روز ایک لاپتہ بیٹھے کی تصویر بزرگ ماؤں کے ہاتھوں میں تھما کر خود تماشائی بن جاتی ہے۔ ان ماؤں کی سسکیوں اور خون کی آنسوں سے یہ سی پیک کی سنگِ بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس بے حس دیوار کی ایک اینٹ یہ کتاب فروش نوجوان تھا جو گوادر کے پولیس اس دیوار کو تقویت دینے میں شپ و روز یہ کارِ خیر میں بِرسرے پیکار ہے۔ سب کو پتا ہے کہ اس نیک کام میں پولیس اتنی خوشنودی کے ساتھ کیوں سرانجام دے رہا ہے۔
ریاست کو بلوچ کے ہاتھ کا کتاب ایٹم بم لگتی ہے۔ اس کی اصل ٹارگٹ کتابوں کے ساتھ تعلیم دوست نوجوانوں کو ذہنی مفلوج بنانا ہے۔ بقول راول حسین ”حرف کی طاقت سے بندوقوں والے ہر دور میں خوفزدہ رہے“ ریاست کو کتابوں سے ڈر نہیں بلکہ پڑھنے والوں سے خوفزدہ ہے اس ہیولہ سے بلوچ ڈرتا نہیں چونکہ ہر چیز روز کی بنیاد میں ہوتی ہے تو اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔
بلوچ کو یہ پہلے سے پتا ہے کہ کون سے کتابیں پڑھنی ہے اور کون سے رد کرنی ہے۔ کتاب کو جتنی پابند کرتے ہو دو گنا زیادہ وہ فروخت ہوتی ہے۔ دنیا میں زیادہ وہ کتابیں پڑھی گئی ہے جو حکومتِ وقت نے پابندی لگائی تھی۔ خالد ندیم صاحب نے کہا تھا کہ ”غلط کتابیں حکومتیں نہیں لوگ مسترد کیا کرتے ہیں“ تو اب ریاست نے ایک اور ٹکٹس بلوچوں پر افلائی کر رہی ہے جو بالکل ناکام ہے، بلوچ قاریوں کی قبلہ درست ہے اب حکومت کو اپنا قبلہ درست کروانا ہے۔ اس واقع سے حکومت اور اپوزیشن دونوں بے بس، بے حس دکھائی دے رہے ہیں۔ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا ”ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں / کہ جن کو پڑھ کے بچے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں۔
آئیں تھوڑا کتابوں کے پابندی اور جلانے کے حوالے سے لفاظی کرتے ہیں۔ چونکہ کتابیں جلانے کی روایت بہت قدیم ہے۔ 213 قبل مسیح میں چین میں کن خاندان کے پہلے شہنشاہ کن شی ہوالنگ نے کتابوں کو جلانے اور علماء کو دفن کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسپین میں بہت مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی تو عیسائیوں نے مسلمانوں کے قائم کردہ کتب خانے جلا دیے تھے۔ رومی شہنشاہ قسطیطن دی گریٹ نے غیر متعصب آریائی باشندوں کی تمام کتابوں کو آگ لگوا دی تھی۔
صلیبی جنگوں میں بھی شام، اسپین، مصر اور دیگر اسلامی ممالک کے کتب خانوں کو جلایا گیا۔ ہلاکو خان نے جب بغداد فتح کیا تو وہاں کے تمام کتب خانے دریائے دجلہ میں قرقاب کر دیے۔ تاریخ یہی کہتی ہے کہ سینکڑوں کتب خانے راکھ کر دیے گئے۔ عیسائیوں نے یہودیوں کے بے شمار مخطوطات جلائے۔ کتابوں میں موجود سچائیوں کی وحشت خیزی جہاں ناقابل برداشت ہوئی وہیں انہیں آگ لگا دی گئی۔
سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ
چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں
جس طرح دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں بہت ساری کتابوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اِس وقت میں جہاں سینکڑوں کتابیں ہیں جن کی اشاعت پر پابندی ہے۔ لیکن پاکستان میں بلوچ دانشوروں کی کتابوں پر پابندی عائد ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے قانونی طور پر ایسی کوئی لسٹ موجود نہیں کہ اسٹال والے یہ کتابیں فروخت نہیں کر سکتے۔ یہاں یہ عائد ہوتی ہے کہ بلوچ کے پڑھے اور پڑھانے کا عمل روک دی جائے۔ فی الحال پاکستان کی قانون میں بلوچ محفوظ نہیں ہے۔ چائے وہ کتاب فروش ہو یا پان فروش۔

