پاک امریکہ تعلقات، ترجیحات
یہ سر دست طے شدہ امر ہے کہ امریکہ دنیا کے ہر ملک کا ہمسایہ ہے اور طاقت ور ہونے کی وجہ سے اپنی من مانی کرتا پھرتا ہے۔ اس لئے جب بھی ادھر کوئی سیاسی تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کے اثرات لا محالہ پاکستان پر بھی ضرور اپنا اثر رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کا امریکی منصب صدارت پر دوبارہ سے فائز ہونا اس اعتبار سے مناسب ہے کہ دنیا ان سے اور وہ دنیا سے نبرد آزما ہو چکے ہیں اور پھر ایک صدارتی مدت کے بعد وہ دوبارہ صاحب اقتدار بن چکے ہیں۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ گزشتہ چند عشروں سے پاک امریکہ تعلقات میں ایک بہت ہی اہم حصہ افغانستان کے حالات ہیں اور یہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ ٹرمپ اپنی سابقہ مدت میں پاکستان سے خوش نہیں تھے۔ اول اول تو ان کا رویہ بہت سرد تھا اور اسی سرد رویہ کو وجہ سے وہ اس میں کامیاب ہو گئے تھے کہ عمران خان حکومت نے بغیر کوئی قومی مفاد حاصل کیے افغان طالبان سے امریکہ کا معاہدہ کروا دیا تھا اور پاکستان اس کے نتائج بڑی بری طرح سے بھگت بھی رہا ہے۔
ٹرمپ کے تجربہ کار ہونے کی وجہ سے یہ تو تصور نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس خطے کے حالات سے واقف نہیں ہوں گے۔ ابھی حلف برداری کی تقریب سے قبل انہوں نے جو واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کیا ہے۔ اس میں افغانستان کا ذکر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے حوالے سے یہ تصور بہت مضبوط ہے کہ بائیڈن دور حکومت میں جس انداز میں امریکہ نے افغانستان سے انخلا کیا اور ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ جس کی مالیت کم و بیش سات ارب ڈالر تھی وہیں پر چھوڑ دیا۔
ٹرمپ اس طریقہ کار کے سخت ناقد ہے اور انہوں نے اپنی تقریر میں یہ واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان کو جو مالی مدد میسر آتی ہے اس کو اس سے مشروط کیا جائے کہ وہاں سے امریکی ہتھیاروں کو بر آمد کر کے واپس امریکہ کے حوالے کیا جائے۔ کیوں کہ یہ ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا ہے اور اس میں دل چسپ ترین امر یہ ہے کہ اس معاملہ کے حوالے سے پاکستان کا بھی یہ ہی موقف ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک فوجی ورک شاپ کا حصہ تھا تو مجھے اس ورک شاپ میں شریک ایک فوجی نے بتایا کہ دہشت گردوں کے پاس اتنا جدید اسلحہ موجود ہیں جو کہ پاکستان کے کسی ادارے کے پاس موجود نہیں ہے۔
مثال کے طور پر نائٹ ویژن آلات سے لے کر ایم فور رائفل تک کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ ابھی جو ایک امریکی خاتون کی سربراہی میں پاکستان میں وفد آیا ہوا تھا۔ خبر ہے کہ پاکستان نے ان کے سامنے اپنا وہ ہی موقف ہتھیاروں کے حوالے سے رکھا ہے جو کہ خود صدر ٹرمپ کا بھی ہے۔ پھر صدر ٹرمپ کی آمد پر چاہے کہیں بھی خوشیاں منائی جائے مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ وہ لمحہ موجود تک یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی حکومت قائم ہے ابھی کچھ عرصہ قبل بھی امریکہ میں جو واقعہ پیش آیا تھا اس میں بھی افغانی ملوث تھے اور اس نوعیت کے واقعات رائے کو پختہ کرنے میں بہت کلیدی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
اس ٹرمپ کے موقف کا اس لئے ذکر کیا ہے کہ ہمیں اگر معاملات کو بہتر کرنا ہے تو اسی نوعیت کے مشترکات کو تلاش کرنا بلکہ بہت بار تو تخلیق کرنا ہو گا۔ جذباتی گفتگو اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال بھی تنہا امریکہ کو ہی پاکستان کی ایکسپورٹس 12 ارب ڈالر تھی جبکہ امریکی اتحادی ممالک کو ایکسپورٹس 10 ارب ڈالر تھی۔ یہ کل ملا کر 22 ارب ڈالر کی کثیر رقم بنتی ہے۔ پھر ہم معاشی بحالی کے لئے آئی ٹی سیکٹر کو کلیدی اہمیت دے رہے ہیں تو اس کو پراڈکٹس کی سب سے بڑی منڈی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ہی ہیں۔
صرف اس حقیقت کو بھی سامنے رکھے تو امریکہ میں چاہے کسی کی بھی حکومت ہو ہمیں اس سے بہتر تعلقات کو قائم رکھنا چاہیے۔ حالاں کہ اب پاکستان کی عسکری ضروریات ان ممالک کی جانب سے پوری نہیں کی جاتی ہے اور پاکستان بجا طور پر اس شعبے میں چین اور روس سے راہ و رسم بڑھا رہا ہے اور چین سے تو متعدد دفاعی شعبوں میں بھی بھر پور تعاون ہو رہا ہے۔ امریکہ کی اس خطے میں اور پاکستان کے حوالے سے کیا ترجیحات ہوں گی اس کو سمجھنے کے لئے اس وقت تک کا انتظار کرنا ہو گا جب تک کہ نئے امریکی سفیر اسلام آباد میں متعین نہیں کر دیے جائیں۔
امریکی سفیر تبدیل ہو چکے ہیں اور اگر اس بار کسی کیریئر ڈپلومیٹ کو سفیر بنا کر بھیجا گیا تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ امریکہ فی الحال اس خطے اور پاکستان کے حوالے سے کوئی بڑے عزائم نہیں رکھتا ہے مگر اگر امریکہ نے کسی ایسے شخص کو سفیر نامزد کیا یا کوئی خصوصی نمائندہ اس خطے کے لئے نامزد کر دیا جو کہ کیریئر ڈپلومیٹ نہ ہوا اور اس کا اس خطے اور پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے کوئی خاص نکتہ نظر ہوا تو اس کی سوچ کے اثرات لا محالہ ضرور مرتب ہوں گے اور پاکستان میں پالیسی سازوں کو اس پر بہت گہری نظر رکھنی ہوگی۔
کیوں کہ پاکستان سے تعلقات میں چین بھی آتا ہے اور پاکستان انڈیا کشمکش سے صرف نظر بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کے حوالے سے یہ کہنا کہ وہ انڈیا کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں در حقیقت یہ تسلیم کر لینا ہے کہ ہم میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ ہم امریکی پالیسی سازوں کو اپنی بات سمجھا سکیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان یہ آج بھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ امریکی پالیسی کو یک طرفہ ہونے سے روک دے۔

