مرزا واحدی


امتیاز مرزا عرف مرزا واحدی (م: 3 ؍جون 1995 ء) جے پور، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ جہاں اُن کا خاندان دہلی سے ہجرت کر کے آباد ہو گیا تھا۔ اُن کے والد اُمراؤ مرزا ریاست کے کامیاب وکلا میں سے ایک تھے۔ بدقسمتی سے بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کے سبب خاندان کی کفالت کی ذمّہ داری مرزا واحدی اور اُن کے بڑے بھائی اعجاز مرزا (م: 2000 ء) کے کاندھوں پر آ گئی مگر گھر کے حالات جب اور زیادہ خراب ہوئے تو اُن کے خاندان نے غالباً 1942 ء میں جے پور کو خیرباد کہہ کر اجمیر کو آباد کر لیا۔ وہاں قیام پاکستان یعنی اگست 1947 ء تک مقیم رہے پھر وہاں سے ہجرت کر کے ہوا دانوں کے شہر حیدرآباد (سندھ) میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

مرزا واحدی نے شروٗع ہی سے ایک ذمّہ دار اور صاف ستھری زندگی گزاری۔ پاکستان ہجرت کرنے سے قبل وہ فوڈ ڈپارٹمنٹ اجمیر میں ملازم تھے۔ پاکستان آ کر لینڈ ریکارڈ کے محکمے میں ملازمت کر لی وہاں سے 1977 ء میں ریٹائر ہو کر درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ اپنے چھوٹے بھائیوں انوار مرزا (م: 2011 ء) اور عزیز مرزا کے حق میں وہ ایک ذمّہ دار اور شفیق باپ سے کم نہ تھے۔

اُن کے گھرانے سے میرا تعلق 1974 ء کے آس پاس ہوا، جب اُن کے بھانجے آصف علی خاں (م: 2014 ء) نے غلام حسین ہدایت اللہ ہائی اسکول چھوڑ کر الفاروق ہائی اسکول، ریشم گلی میں داخلہ لیا اور میرا ہم جماعت ہو گیا۔ اُس زمانے میں معروف شاعر اور مرزا واحدی کے معاصر ولی حسین قریشی (م: 2002 ء) اُسی اسکول میں اُستاد تھے اور ہماری جماعت کو اُردو پڑھاتے تھے۔

دوٗر کیوں جائیں خود انوار مرزا (م: 2011 ء) جو اُن کے چھوٹے بھائی تھے میرے بڑے بھائی کی طرح تھے۔ اُنھوں نے واحدی صاحب کے سایہ ٔعاطفت میں پرورش پائی۔ اُنھیں دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ واحدی صاحب کتنی خوبیوں کے مالک تھے۔

سراپا شاعر ہونے کے باوجود اُنھوں نے محفل کو گرمانے کے لیے کبھی کسی رنگین قصّے کا سہارا نہ لیا۔ ہر چند کہ وہ بہت حاضر جواب اور فقرہ باز شخص تھے۔ جب بھی اُن کی رگِ ظرافت پھڑکتی تو وہ سامنے والے کو لاجواب کیے بغیر نہیں چھوڑتے تھے۔ ایسے موقعوں پر وہ اشعار میں تصرف کرنے اور فی البدیہہ شعر کہنے میں بھی ملکہ رکھتے تھے۔ ایک فرشی نشست کے اختتام پر جب وہ گھر جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو اُن کے ایک دوست نے ازراہِ بے تکلفی اُن کا دامن پکڑ کر اُنھیں کچھ دیر اور رُکنے کے لیے کہا اُنھوں نے تھوڑی دیر تو برداشت کیا مگر بالآخر یہ مصرع کہا:

مرا کچھ اور پکڑ لو مرا دامن چھوڑو

اِسی طرح جب اُن کی پوسٹنگ خیر پور میں تھی تو وہاں ایک طرحی مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کا طرحی مصرع تھا:

شمع کو اُڑتے ہوئے دیکھا ہے پروانوں کے ساتھ

اِس پر واحدی صاحب نے کچھ یوں گرہ لگائی:

خیرپور کے اِک نہایت باولے انسان نے
شمع کو اُڑتے ہوئے دیکھا ہے پروانوں کے ساتھ

کیوں کہ ابتدا ہی سے اُنھوں نے اجمیر شریف کا متصوفانہ ماحول دیکھا تھا اِس لیے حیدرآباد (پاکستان) آ کر جب اُن کی ملاقات بابا عبدالصمد رضا شاہ تسلیم شکوری ؒسے ہوئی تو وہ فوراً اُن کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گئے۔ یہ سلسلہ شاہ صاحب کی وفات 5 ؍جون 1959 ء تک جاری رہا۔ اُس کے بعد وہ واحد علی شاہ چشتی ؒکے دامن ِفیض سے وابستہ ہوئے اور واحدی کہلائے۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ صوفی شاعر بھی ہوتا ہے۔ واحدی صاحب کے مرشد عبدالصمد رضا شاہ تسلیم شکوریؒ کامل صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے شاعر بھی تھے۔ اِس لیے واحدی صاحب نے اُنھی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اُن کے مرشد خود بھی دنیا داری سے کوسوں دور تھے اِس لیے اُن کی مستقل صحبت نے واحدی صاحب کو بھی گوشہ نشینی پر مائل کر دیا۔ کچھ خواجہ کی نگری اجمیر سے وابستگی اور سب سے بڑھ کر اُن کے ذاتی حالات، اِن سب کا مجموعی اثر یہ ہوا کہ وہ اپنی ذات میں سمٹتے سمٹتے کسی حد تک تنہائی پسند ہو گئے اور یہ تنہائی پسندی بڑھ کر ایک دن گوشہ نشینی کی صورت اختیار کر گئی۔ اب واحدی صاحب کی سوشل لائف صرف اِس قدر رہ گئی تھی کہ کوئی پرانا شناسا اگر وہ شاعر ہے تو اُس کی صحبت اُنھیں میسر آ جائے۔ یہ گویا اُن کے لیے عید سے بڑھ کر موقع ہوتا۔ ایسے موقعے پر اُن کی بجھی بجھی طبیعت اچانک کھل اُٹھتی۔ اب اگر وہ راستے میں ہیں تو گھر جانا یاد نہیں۔ خریداری کرنے بازار جا رہے ہیں تو کیا خریدنا ہے یہ بھول چکے ہیں۔ ایسے موقعوں پر اُن کی متلاشی نگاہیں قریبی چائے خانہ تلاش کرنے لگتیں۔ جب اُنھیں بیٹھنے کو جگہ مل جاتی تو گویا اُن کی دِلی مراد پوری ہو جاتی، ایسا لگتا کہ دبستان کھل گیا۔ اُن کی خاموش طبعی، گوشہ نشینی، اور تنہائی پسندی آن کی آن میں وسیع المشربی میں بدل جاتی اور ایک بار پھر وہ حاضر جواب اور فقرہ باز بن کر محفل آرا ہو جاتے۔ اِیسے میں اُن کے چہرے پر ایک معصومانہ تکبر سا آ جاتا۔ جیسے کہہ رہے ہوں :

آ کر مری محفل کو ذرا غور سے دیکھیں
وہ لوگ جنھیں خلد کے ارمان بہت ہیں

لیکن یہ تبدیلی رُخصت ہوتے وقت وہ چائے خانے میں چھوڑ کر اپنے گھر روانہ ہوتے جہاں اُن کا بیش تر وقت فکر سخن اور عبادت میں گزرتا۔ شاعری کے حوالے سے وہ مولانا محمد انوار الحق نہال اجمیری (م: 1987 ء) کے بھی شاگرد تھے جو اُردو، عربی اور فارسی پر گہری دسترس رکھتے تھے مگر چونکہ طبعاً نہایت روایت پسند آدمی تھے۔ اِس لیے اُنھوں نے ساری زندگی روایت کی پاس داری میں گزاری۔ تمام روایتی اصناف مثلاً، نعت، منقبت، سلام اور قطعات وغیرہ میں خوب خوب طبع آزمائی کی نعت کا ایک شعر دیکھیے :

نئے انداز سے پھر مسکرائی رحمت ِباری
سجا کے آخری گل، دین کی زلف ِپریشاں میں

ملاحظہ کیا آپ نے! شاعری کے روایتی الفاظ مثلاً: گل اور زُلف ِپریشاں وغیرہ اُنھیں نعت گوئی میں بھی یاد رہتے ہیں۔ یہی نہیں اُن کی مخصوص فقرہ بازی، شگفتہ مزاجی اور شوخی، جس کے اِظہار کا موقع اُنھیں حلقہ یاراں میں ہی ملتا تھا۔ اُن کی شاعری میں بھی کہیں کہیں لیکن نہایت بے ساختہ انداز سے جھلکتی ہے۔ مثلاً نعت کا ایک اور شعر دیکھیے :

اِس طرح بُت حرم سے نکالے گئے
خود رسول خدا کو ہنسی آ گئی

لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ تحریر لکھنے والے کے مزاج کا آئینہ ہوتی ہے۔ چنانچہ شگفتگی کے کسی عالم میں واحدی صاحب نے یہ نعت کہی ہو گی۔ تبھی تو اُنھوں نے چشم تصور میں فتح مکہ کے موقعے پر رسول اللہ ﷺ کو بھی ہنستا ہوا پایا۔

واحدی صاحب کے مزاج میں ایک خاص بات تھی یہ کہ یا تو وہ بچوں کی طرح ہنس مکھ، چلبلے اور چونچال رہتے یا پھر حد درجہ سنجیدہ اور جب سنجیدہ ہوتے تو فکر و فلسفہ اُن پر غالب ہوتا۔ بے ثباتی ٔدنیا کا احساس دامن گیر ہوتا۔ ایسے میں زندگی کی مشکلات اُنھیں اور زیادہ مشکل دکھائی دیتیں۔ غزل کے چند شعر دیکھیے :

پھولوں سے کہہ رہی ہے زباں نوک ِخار کی
گلشن کو اَب نہیں ہے ضروٗرت بہار کی

پہلے اِخلاص کی میّت کو تو دفنا دیجے
لیلیٰ وقت کے گیسو بھی سنور جائیں گے

میں چل رہا ہوں راہ پہ کانٹوں کی آج کل
جرات کسی کی ہو تو کوئی ہم سفر بنے

ہر چند کہ زندگی کے اِس طویل سفر میں اُنھیں ایک نہیں دو ہم سفر ملے مگر اُن کی شکایتوں میں کمی نہ آئی بلکہ اضافہ ہی ہوتا رہا۔

نہ بن سکا کوئی زینت ہمارے دامن کی
ہزاروں پھول گرے اُن کے مسکرانے سے

اِس صورت ِحال کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اُنھوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کے حالات کے لیے تیار کر لیا، کیوں کہ ذاتی طور پر سمٹتے سمٹتے وہ پہلے ہی اپنی ذات تک محدوٗد ہوچکے تھے۔ اب اُن کے پاس اِس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ چنانچہ اُن کی یہ کیفیت سندھ کے سیاسی حالات کے تناظر میں کچھ اِس طرح سامنے آئی:

ہم بھی دیکھیں چمن میں، اے صیاد!
کس طرح آشیاں جلاتا ہے

ہم اگر اُن کے سفینے سے اُتر جائیں گے
حشر یہ ہو گا کہ سب ڈوٗب کے مر جائیں گے

پھر سے دہرائے گی تاریخ ِتشدد خود کو
وقت کہتا ہے کہ پھر نیزوں پہ سر جائیں گے

چوں کہ اُن کا گھرانا دہلی سے جے پور، جے پور سے اجمیر اور اجمیر سے پاکستان تک متعدد مرتبہ نقل مکانی کرچکا تھا۔ اِس لیے اب وہ ذہنی طور پر اِس عمل سے اِس قدر اُکتا چکے تھے کہ اِس کے ذکر سے بھی اُنھیں تھکاوٹ محسوس ہوتی تھی اور پھر یہاں کے حالات۔ لہٰذا اُنھوں نے اپنے روایتی پیرایۂ اظہار میں رہتے ہوئے اِس جانب خوب خوب اِشارے کیے ہیں :

بات سن شاخ نشیمن کو جلانے والے
ہم گلستاں کو نہیں چھوڑ کے جانے والے

گیسو ترے عارض پہ پریشان بہت ہیں
ظلمت میں سحر کے ابھی اِمکان بہت ہیں

واحدی صاحب ایک زوٗد گو اور قادر الکلام شاعر تھے لیکن مجموعے کی اشاعت کی طرف اُنھوں نے بالکل توجہ نہ دی۔ یہ روّیہ اُن کے زمانے کے دیگر شعرا میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثلاً عرش عثمانی (م: 1993 ء) ، وحید پیامی (م: 1991 ء) ، نور ساگری (م: 1998 ء) ، تراب گوالیاری (م: 1990 ء) ، سالک عزیزی (م: 1990 ء) اور مقبول الوری (م: 1989 ء) وغیرہ نہ جانے کتنے ہی ایسے شاعر ہیں جو آج اِس دنیا میں نہیں ہیں اور نہ اُن کا کلام شائع ہوسکا۔ اب تک یہی صورتِ حال واحدی صاحب کے کلام کی بھی ہے اُن کے پاس حمد، نعت، قطعات اور مناقب کے علاوہ غزلوں کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔ اب جس کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ غزل کے چند اشعار دیکھیے!

بات تو رُخ سے کرتے نہیں
کس قدر ضد پہ آئے ہوئے ہو
ہم سے کوئی خطا ہو گئی ہے
یا کسی کے سکھائے ہوئے ہو

حسرتیں، یادیں ہیں، ارمان بہت ہیں
ایک مے خانہ دل ہے، مرے مہمان بہت ہیں

شاعری میں واحدی صاحب نے جس طرح سیدھی سادی شعری روایت کو اپنایا۔ اُسی طرح وہ عام زندگی میں بھی نہایت صاف، ستھرے اور پاکیزہ خیالات کے آدمی تھے۔ اُنھوں نے بھرپور زندگی ضرور گزاری مگر پاکیزگی کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ اِس لیے اُن کا زیادہ تر وقت عبادت میں گزرتا تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں کچھ عرصہ اندرون ِسندھ (خیرپور) میں بھی تعینات رہے۔ وہاں بھی اُنھوں نے اپنی بذلہ سنجی سے ادبی محفلوں کو گرمائے رکھا۔ حتیٰ کہ واپس حیدرآباد تبادلہ ہو گیا۔ سلام کے چند اشعار دیکھیے :

چلا کے حر ملا بھی تیر ہاتھ ملتا ہے
یہ وہ ستم ہے کہ پتھر کا دل پگھلتا ہے
ضمیر بیچ کے راہِ ہوس پہ چلتا ہے
بشر کی فکر کا جب زاویہ بدلتا ہے

ثانی ٔشبیر اب دنیا میں آ سکتا نہیں
اِس طرح سجدے میں سر کوئی کٹا سکتا نہیں
دل سے احساس غمِ شبیر جا سکتا نہیں
مسکرانا چاہتا ہوں، مسکرا سکتا نہیں

واحدی صاحب، راغب کوٹوی (م: 1999 ء) کے بعد بزم شعر و ادب لطیف آباد کے نائب صدر ہوئے۔ اِس دوران میں اُنھوں نے شعرا کے باہمی اِختلافات کو ختم کرانے کی اپنی سی کوشش بھی کی۔ اُن کی آرزو تھی کہ حیدرآباد کی ادبی فضا متحرک ہو۔ اِس کے لیے اُنھوں نے نئے شعرا کا ہمیشہ خیرمقدم کیا مگر کسی شعری تجربے کی خود کوئی کوشش کی اور نہ کبھی اِس کی حوصلہ افزائی۔ اِس معاملے میں روایت اُنھیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی۔ آخر میں ایک شعر اور دیکھیے :

جام دیتا ہے بعد میں ساقی
ظرف کو پہلے آزماتا ہے

Facebook Comments HS