بدلتے چہرے
کچھ عرصہ پہلے، ایک میگزین میں انسانی چہروں کے بارے میں ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مضمون کا عنوان تھا ’سماجی ساخت کا انسانی شکل پہ کیا اثر ہوتا ہے۔ ‘
مضمون میں کچھ فوٹو تھے جن کے نیچے لکھا تھا ’یہ جرائم پیشہ افراد کے چہرے ہیں‘ ۔ اس مضمون میں دراصل یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جرائم پیشہ افراد لمبے عرصے تک جیل میں رہیں تو قید بامشقت اور جیل کی دیگر صعوبتوں کی وجہ سے، آہستہ آہستہ ان کے چہرے بے حس اور بے تاثر ہو جاتے ہیں۔ پہلی بار میں نے یہ فوٹو دیکھے تو میرے ذہن میں آیا کہ انگریز دور حکومت میں لکھی گئی کتابوں میں سندھ کے ڈاکوؤں کے پینسل اسکیچوں میں بھی کچھ ایسے ہی چہرے ہوتے تھے۔ یا پھر جنرل ضیاء کے دورِ حکومت میں فوج اور پولیس کے ساتھ مقابلوں میں مارے جانے والے ڈاکوؤں کے سندھی اخباروں میں جو فوٹو شایع ہوتے تھے، ان کے چہرے بھی ایسے ہی ہوتے تھے۔
مذکورہ مضمون دراصل اس نقطہ نظر سے تحریر کیا گیا تھا کہ پرانے وقتوں میں لوگ اپنے حلیے سے پہچان لیے جاتے تھے۔ لیکن اب ظاہری حلیہ آپ کے ہر جرم کو بچا بھی لیتا ہے۔ اب شہری مجرم کو آپ اس کے ظاہری لباس سے نہیں پہچان سکتے۔ وہ آپ کو عام دفتری شخص لگے گا۔ وہ آپ کے سامنے والے فلیٹ میں رہائش پذیر ہو گا اور آپ کو کبھی پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ کا پڑوسی ایک عادی قاتل ہے۔
سندھ کے دیہات میں، پرانے وقتوں میں لوگ جرائم پیشہ افراد کو ان کے کپڑوں، سندھی ٹوپی پہننے کے انداز، مونچھوں یا سر کے بالوں کے ایک خاص اسٹائل سے پہچان لیتے تھے کہ یہ بندہ ڈاکوؤں کے کسی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی جرائم پیشہ لوگ اپنے حلیے سے مجرم نظر آتے تھے اور پورے علاقے کو معلوم ہوتا تھا کہ فلاں شخص مجرم ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ بندہ اپنے پیشے کو چھپا نہیں سکتا تھا۔
جنرل ضیاء کے دور میں، کئی بار ایسا ہوا کہ دیہاتی لوگوں کا لباس اور بالوں کا اسٹائل ان کے لیے موت کی دعوت بن کے آیا۔ اُن دنوں بیشتر ایسے واقعات ہوئے کہ شام ہوتے ہی فوجی بھائی کسی روڈ پر کھڑے ہو جاتے، پھر ہر وہ آدمی جس کی مونچھیں بڑی ہوں یا ٹوپی نیچے پیشانی کی طرف زیادہ مڑی ہوئی ہو، یا پھر ٹریکٹر پہ بلند آواز میں سندھی گانے سنتا جا رہا ہو، بہ الفاظ دیگر، جس کا حلیہ انہیں پسند نہ آئے، تو اس کی خیر نہیں۔ ایسے بندے کو پکڑ کر بڑی پھینٹی چڑھاتے تھے یا اٹھک بیٹھک کرواتے تھے۔ دادو میں ہمارے ایک نامور فنکار گلشیر تیونو کو ایسے ہی ایک واقعے میں اس بیدردی سے پیٹا گیا کہ وہ بیچارہ گھر پہنچتے ہی مر گیا۔ بات صرف یہ تھی کہ گلشیر نے سندھی ٹوپی ایک خاص اسٹائل میں پہن رکھی تھی، دیہاتی وضع کے کپڑے پہنے ہوئے تھا اور فوجی بھائیوں کے سوالوں کے الٹی سیدھی اردو میں جواب دیے ہوں گے۔
انگریز دور میں لاڑکانہ کے کلیکٹر صاحب کے ہاں، محمد دین بٹلر نام کا ایک مشہور چپراسی ہوتا تھا۔ سندھی لوگ اسے محمد دین بٹڑیل کہہ کے پکارتے تھے۔ محمد دین بٹڑیل سے لاڑکانہ کے بڑے بڑے جاگیردار بھی کانپتے تھے، مبادا اگر گورے کلیکٹر کے کان میں کچھ کہہ دے تو زمیندار کی شامت آ جائے۔
سندھ کے دیہات میں لوگ آپ کو کہیں پر بھی یکساں حیثیت والی ٹیم کی طرح کام کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ ان میں ایک ظلِ الہٰی ہو گا اور دوسرے اس کے ماتحت ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے ہر بڑے دفتر میں آج بھی، انگریز کلیکٹر صاحب جیسے افسر موجود ہیں اور ان کے پاس، محمد دین بٹڑیل جیسا کوئی نائب بھی ضرور ہوتا ہے۔ اس قسم کے سفید پوش گروہوں نے سندھ میں کئی اداروں کو اپنی مضبوط جکڑ میں کس رکھا ہے اور وہاں پر عام لوگوں کی ایک بھی نہیں چلتی۔
اس طرح، نیچے سے لے کے اوپر تک، ایک مستقل مفاد، کھوکھلے اور خالی لوگ مسلط ہیں۔ ان سرکاری و غیرسرکاری گروہوں نے، سماج کے بیچوں بیچ دیوار کھڑی کر کے، غریب آبادی کو دیہات تک محدود کر کے، مفاد پرست لوگوں کا آپس میں ایک شہر بنا لیا ہے۔ اس شہر میں بڑی رونق ہے۔
اور دوسری طرف، دیہات میں رہنے والے عام لوگ، غربت اور ہر طرح کی ذہنی پریشانیوں میں جل جل کے جیسے بھوت بن گئے ہیں۔


