کتاب: مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں پر تبصرہ
ہم نے مربی کی کتاب پر سرسری سی نظر ڈالی ہی تھی تو یوں لگا کہ مربی نے ہمارا آشوب لکھا ہے۔ ہماری علمی اور اخلاقی بلوغت کا اندوہ ناک مرثیہ بیان کیا ہے۔ ہمارے عہد کے بحران کی شدت کا تخمینہ لگایا ہے۔ اب آپ سے کیا چھپانا۔ آپ بھی دیکھ لیجیے۔ کیا لکھا ہے۔ ”اگر مسلمان میں اخلاص موجود ہے تو وہ یہ تسلیم کرے گا کہ آج کے مسلمان کا قصور خدا کو نہ مان سکنے والوں سے کسی طرح کم نہیں۔ وُہ خدا کو نہ ماننے والوں سے علمی اور اخلاقی اعتبار سے بہتر نہیں ہیں۔ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کئی حوالوں سے غیر مسلموں سے زیادہ ابتر ہے۔ ان کے پاس دنیا کے بڑے مسائل کا حل اپنے ایمانی تناظر میں دینے کی صلاحیت نہیں ہے“ ۔
ہم اہل مشرق ان مشکل سوالوں کو داستانوی انداز میں حل کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔
نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیں
نہ ڈھونڈا نہ پایا نہ سمجھا نہ دیکھا
آپ نے وہ چینی کہاوت تو سنی ہو گی جب وہ اپنے دشمنوں کو یہ بد دعا دیتے تھے کہ تم دنیا کی رنگینیوں میں رچ بس جاؤ ”بس اسی طرح ہم نے بھی اپنا راستہ کھوٹا کر دیا۔ خدا نے انسانوں کو اپنا نائب بنا کر بھیجا تاکہ وہ زندگی کی رنگینیوں میں بھی خدا کا عکس تلاش کر کے منزل کا کھوج لگا لے۔ مگر نصف صدی کی حکایت میں ہمارا علمی اور اخلاقی سفر ایمان سے خالی دلوں کا المیہ ہے۔ مختار مسعود یاد آتے ہیں کہ“ قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی ”۔
شہر بے چراغ کی خالی اور سونی گلیوں میں ممکنہ معاشی مفاد کی نامانوس چاپ نے قوم کو کامیابی کی نوید سنا رکھی ہے۔ ہمارے بڑوں نے غلطی سے مانوس اور پر کشش راستہ پکڑ لیا۔ راستہ اب بند گلی میں جا رہا ہے۔ ہماری آرزو ہے اس بند گلی میں ایک انوکھا اور نیا راستہ نکالنے کی۔ ہمارے رہنما بھی ہماری طرح پھسڈی نکلے کہ مغربی عینک سے اپنے لئے تحریف شدہ نسخے ڈھونڈ چلے۔ ہم سب نے مل کر اس میں ضروری اور مفید حاشیوں کا اضافہ کر دیا۔
تاکہ آسانی سے آگے کی منازل طے کی جائیں۔ لیکن بند گلی کھلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ کتاب کے حاشیے اور حاشیہ برادران بڑھتے جا رہے ہیں۔ مفاد کی بالادستی اور ترقی کی خواہش نے تہذیب و تمدن اور ایمانی تناظر کو حقارت کی آنکھ بخش دی۔ اور زندگی کے مسائل کا حل دوسروں کو سونپ کر روایت کے مرقد پر آہ و فغاں کا سلسلہ جاری کر دیا۔ تا کہ عمر طویل کو کچھ پر کشش مشاغل تو ملیں۔ اب مربی یہ سوال اٹھاتا ہے تو اپنا گریبان چاک نظر آتا ہے کہ ہم علم اور اخلاق دونوں جگہوں پر پستی کا شکار ہیں۔
انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہماری چادر میں جتنے پیوند لگے ہیں۔ انہیں گننے کے لئے ہم کسی صاحب نظر کی مدد ہی لے سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک دوست نے اپنا زمانہ طالبعلمی کا واقعہ سنایا۔ جب وہ ماسٹرز ڈگری کی تکمیل کے لئے MIT میں پڑھ رہا تھا اور ایک اپارٹمنٹ کسی دوسرے طالبعلم کے ساتھ مل کر لیا ہوا تھا۔ رمضان کے مہینے میں دوست نے روزے رکھے تو دوسرا طالبعلم جو غیر مسلم تھا۔ بات چیت شروع ہوئی کی اس نے روزہ رکھنے کا مقصد دریافت کیا۔
میرا دوست شاید اس سوال کے لئے تیار نہ تھا۔ اس نے روایتی جواب دیا کہ روزہ رکھ کر میں جھوٹ نہیں بولتا اور غلط زبان اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرتا ہوں اور وقت کا معیاری استعمال کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ غیر مسلم یہ بات سن کر بہت حیران ہوا کہ ان سارے کاموں کے لئے روزہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ کہ وہ تو یہ تمام کام روزہ رکھے بغیر اور مسلمان ہوئے بغیر بھی کر رہا ہے۔ میرا دوست یہ حکایت سنا کر ندامت کا بوجھ بانٹ کر چلا گیا۔
مجھے اندازہ ہوا کہ ہم نے اس جدیدیت کے سفر میں ایمائی تناظر کی اینٹ اتنی خوبصورتی سے نکالی کہ خدا اور اس کی عطا کردہ نیابت کی عمارت زمین بوس ہوئی جاتی ہے۔ مگر ہم لفظوں کے ہیر پھیر میں گم ہیں۔ بقول وجاہت مسعود“ المیہ تو یہ ہے کہ جنہیں اقبال کے تصورات کا دفاع کرنا تھا انہوں نے ’خوئے غلامی‘ کے منطقے میں ذاتی مفاد کا ٹیوب ویل لگا لیا ہے ’۔ اس ساری محنت کا صلہ یہ ملا کہ دنیا کے بڑے مسائل ہمیں اپنے مسائل معلوم نہیں ہوتے۔ اور ہمارے پاس ہر چیز کا عذر موجود ہے تاکہ دل کو بہلا سکیں اور جمود کو جاری رکھیں۔ خودی اپنی بے قدری دیکھ کر ہم سے کوسوں دور نکل جاتی ہے اور بے نور ویرانے بسنے لگتے ہیں۔ کتاب روشن آواز دیتی ہے۔
بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب نظر رکھنے والا ہے۔ اگر چہ وہ بہانے اور عذر پیش کرتا ہے۔ (سورۃ القیامہ۔ 15۔ 14)
کتاب: مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں جملہ نمبر 5 صفحہ نمبر 45



Downloads – ERDC
(This book can be downloaded )