اردو، پشتو اور پنجابی فلموں کا بیک گراؤنڈ میوزک بنانے والے عابد علی نبھو


بیک گراؤنڈ میوزک کے ماہر سے میں بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ میری مشکل پھول نگر کے قاسم بُکڈپو والے ظفر اقبال نے حل کر دی۔ یہ اسکرین کے پیچھے ہنرمندوں سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ 2023 کی گرمیوں میں بالآخر ایورنیو فلم اسٹوڈیوز میں عابد علی نِبھو سے گفتگو ہو گئی۔ امید ہے یہ بات چیت پڑھنے والوں کو پسند آئے گی۔

ہماری تعلیم سا رے گا ما

” مجھے عابد علی کے نام سے کوئی نہیں جانتا لیکن عابد علی نبھو کو سب جانتے ہیں۔ میں نگار ویکلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے اسکرین کے پیچھے لوگوں کو بھی اہمیت دی۔ ہماری پڑھائی“ سا رے گا ما ”ہے۔ میرا اسکول گلاب گلی لاہور میں تھا جس کو بازارِ حُسن کہتے ہیں۔ میں 10 سال کا اور میرا بڑا بھائی واجد علی مجھ سے کچھ ہی بڑا ہو گا جب ہم نے میوزیشن کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ ہم صبح 8 بجے اسکول جاتے بچوں کو دیکھتے جب کہ ہمارا اسکول رات 10 بجے لگتا اور 12 بجے بند ہوتا تھا“ ۔

” پہلا میوزک انسٹرومنٹ کیا بجایا؟“ ۔ ظفر نے پوچھا۔

” انسٹرومنٹ کہاں! ہم بھائیوں کے لئے والد صاحب نے دودھ لسّی کی دُکان سے تین ڈبّے لیے اور اپنی مہارت سے تین پیس والا کانگو اور اسی طرح ایک بونگو بنا دیا۔ پھر بجانے کی مشق کرائی۔ کچھ عرصے بعد چھوٹے بونگو لے کر باقاعدہ ریاض کروایا۔ میری والدہ ماسٹر عبداللہ اور طافو صاحب کی سگی بہن تھیں“ ۔

فلمی گانا بجانے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ ”۔ میں نے سوال کیا۔

” ایک دن میرے والد صاحب ہم دونوں کو رستم پارک ایک کوٹھی میں لے گئے۔ دروازے پر ایک شخص آیا ( یہ ناشاد صاحب کے اسسٹنٹ فیاض صاحب تھے ) جس کو میرے والد صاحب نے کہا کہ ناشاد صاحب سے کہو کہ فتح علی آیا ہے۔ پھر ہمیں اندر لے جایا گیا۔ ہم دونوں نے سولو بجایا۔ ناشاد صاحب بہت خوش ہوئے۔ وہاں تسلیمؔ فاضلی بھی تھے جنہوں نے خوش ہو کر 100 روپے دیے۔ ہم پریشان رہ گئے۔ اس زمانے میں ہماری والدہ چار روپے میں ہانڈی پکاتی تھیں۔ گلاب گلی میں بھی ہمیں میوزیشن کی حیثیت سے پانچ یا دس روپے ملتے تھے۔ ناشاد صاحب نے میرے والد صاحب کو کہا کہ پرسوں شاہ نور اسٹوڈیو میں گانا ہے“ ۔

” نبھو صاحب یہ کب کی بات ہے“ ۔ ظفر اقبال نے سوال کیا۔

” یہ 1975 کی بات ہے۔ اُس وقت تو ہمیں پتا بھی نہیں تھا کہ گانا کیسے کیا جاتا ہے۔ لیکن اللہ کو ہم پر رحم آ گیا پھر جب اللہ فضل کرتا ہے تو ساحر علی بگّا بھی بن جاتا ہے۔ شاہد صاحب! ہم نے وہ گانا بجایا تو پورے اسٹوڈیو میں دھوم مچ گئی۔ وہاں ڈھولک والے اقبال صاحب بھی تھے۔ پاکستان میں جیسی انہوں نے ڈھولک بجائی ویسی کسی نے نہیں بجائی۔ وہ گانے کے بعد اپنے گھر لے گئے اور کہا کہ کل بزمی صاحب کا گانا ہے۔ وہ فلم ’شرارت‘ ( 1975 ) کا گانا تھا ’چلو یونہی روٹھے رہو‘ ۔ اقبال صاحب نے ہمیں استھائی انترے کا ردھم بتایا۔ ہم نے ایورنیو اسٹوڈیوز میں وہ گانا بجایا۔ بزمی صاحب خوش ہو گئے حالانکہ وہ آسانی سے خوش ہونے والے نہیں تھے“ ۔

” وہ کیوں؟“ ۔ ظفر اقبال نے بے ساختہ پوچھا۔

” اس لئے کہ وہ اپنے کام کے ایک ہی آدمی تھے! پھر دوسرے دن باری اسٹوڈیوز میں نذیر علی صاحب کا گانا میڈم نورجہاں کا کرنا تھا۔ آتے ہی کہنے لگیں کہ نذیر تم ان بچوں سے گانا بجواؤ گے؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ وہ اے بیج تھا جہاں بھائی نامدار، بھائی الیاس، ملک صدیق صاحب دیگر پاکستان فلم انڈسٹری کے بہترین میوزشنوں کے درمیان ہم دونوں بھائی بجا رہے تھے۔ نذیر علی صاحب نے گانا بند کیا اور ہمیں کہا سولو بجاؤ۔ جب ہم نے بجایا تو میڈم بہت خوش ہوئیں اور 50 روپے نکال کر دیے کہ بچو ریوڑیاں کھا لینا۔ ہم خوش ہو گئے کیوں اس وقت میوزیشن کو ایک گانے کا 100 روپیہ ملتا تھا“ ۔

” پھر تو ہمارا کام شروع ہو گیا۔ بزمی صاحب، ناشاد صاحب، ماسٹر عبداللہ صاحب، صفدر حسین صاحب، بخشی وزیر صاحبان، کمال احمد صاحب یعنی اس وقت میوزک ڈائریکٹروں کی تمام کریم کے ساتھ بجایا۔ ہم وہ خوش نصیب ہیں جنہیں ایسے قابل اساتذہ ملے۔ اُس وقت لاہور میں سات آٹھ فلم اسٹوڈیوز تھے۔ شاہنور، ایورنیو، باری، سینیٹل، اے ایم، سٹی وغیرہ۔ ہمارا دن رات اتنا کام ہوتا جیسے انسان نہیں بلکہ آسمان سے فرشتے پیسے پھینک رہے ہوں! “ ۔

بیک گراؤنڈ میوزک کی جانب جانا

” ایک دن اللہ نے دل میں خیال ڈالا کہ بیک گراؤنڈ کتنی عزت والا کام ہے۔ ایک آدمی نے 50 آدمیوں کو تھام رکھا ہے۔ پیس بن رہے ہیں۔ شاہد صاحب! اس وقت ایک بیج میں 20 وائلن، چیلو، پیانو، کلارنیٹ، فُلوٹ، شہنائی، سنتور وغیرہ ہوتے تھے۔ اب تو بیڑا ہی غرق ہو گیا اور بجانے والے بھی نہیں رہے۔ نہ انتظار ہے نہ انتظام!“ ۔

” اپنے خاندان میں کیا صرف آپ دو ہی بھائی میوزیشن ہوئے؟“ ۔

” ہم چھ بھائی میں سے چار میوزک کرتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے بہت عزت دی ہے۔ ایک بھائی ملنگ تھا۔ سب سے چھوٹا بھائی امریکہ میں ہے“ ۔

” آپ کو پہلے بیک گراؤنڈ میں کیا مشکلات پیش آئیں؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” جب اللہ تعالیٰ کسی پر کرم کرتا ہے تو اس کے راستے کھول دیتا ہے۔ میرے ماموں کا بیٹا ساحر علی بگّا کا دادا میرا نانا ہے۔ نہ اس کے دادا نے کبھی گانا گایا اور نہ ہی والد نے۔ لیکن اللہ نے ایسا کرم کیا کہ جب اس نے گانا شروع کیا تو اس وقت کے تمام ہی گانے والے اور راحت فتح علی خان ایک طرف ہو گئے“ ۔

” پہلا بیک گراؤنڈ میں نے ڈائریکٹر ممتاز علی خان صاحب کی پشتو فلم کا کیا۔ ممتاز صاحب اردو فلموں کے بھی ڈائریکٹر تھے۔ جیسے ’دلہن ایک رات کی‘ ( 1975 ) ۔ انہوں نے پشتو اور اردو دونوں میں آؤٹ کلاس کام کیا“ ۔

” پہلا بیک گراؤنڈ یوں سمجھیں جیسے گلی میں کوئی کرکٹ کھیلتا رہے اور پھر وہ اسٹیڈیم میں جا کر اچھے باؤلر کا سامنا کرے تب ہی اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ کچھ اسی طرح سے میرا بھی پہلا کام ہوا۔ پھر تو میں نے پاکستان میں ممتاز علی خان سے لے کر سید نور تک جتنے بھی ڈائریکٹر ہیں ان سب کے ساتھ کام کیا۔ اے حمید صاحب سب سے زیادہ مشکل بیک گراؤنڈ کرتے تھے وہ نوٹیشن کر کے فلم، اسکرین پر چلوائے بغیر ہی کام کرتے تھے“ ۔

” ہم سب آج کل چلتے پھرتے کومے میں ہیں۔ کیوں کہ ذہن میں تو سب کچھ ہے مگر کچھ بھی یاد نہیں! عنایت اللہ صاحب، درویش صاحب، سعید علی خان وغیرہ پشتو فلموں کے اچھے ڈائریکٹر تھے۔ پھر میں نے اپنے استاد کے ساتھ حیدر چوہدری صاحب، ایس سلیمان صاحب، حسن طارق صاحب، میڈم سنگیتا، پرویز رانا، سودی بٹ، بشیر ڈوگر وغیرہ یعنی 30 سے 35 سال میں آنے والے سب ہی ہدایتکاروں کی فلموں کا بیک گراؤنڈ میوزک کیا“ ۔

” نبھو صاحب آپ نے اب تک کتنی فلمیں کی ہیں؟“ ۔ ظفر اقبال نے پوچھا۔
” میں نے اندازہً 450 سے 500 فلموں کا بیک گراؤنڈ کیا ہے“ ۔
آپ بیک گراؤنڈ کیسے کرتے تھے؟ ”۔

” بہت اچھا سوال کیا ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ جس سین کا بیک گراؤنڈ کرنا ہوتا اس سے چار پانچ دن پہلے ڈائریکٹر ہمیں بلا کر اسٹوڈیو میں فلم دکھاتا اور ہم سین بہ سین لکھ لیتے اور آپریٹر کو بلا کر مارکنگ کرواتے اور اسی حساب سے میوزک بناتے۔ پھر پروجیکشن ہال میں ریل چلا کر دیکھتے۔ اس کے بعد بھائی نامدار (م) کے صاحبزادے سلیم چھیما صاحب (م) نوٹیشن کر دیتے تھے۔ اس کے بعد میں اس کو لے کر بیٹھ جاتا تھا۔ کیوں کہ پہلے تو ہم رش پرنٹ دیکھ کر میوزک بنا چکے ہوتے تھے۔ اس طرح فلم کے بیک گراؤنڈ میوزک پر 15 سے 20 شفٹیں لگ جاتی تھیں“ ۔

” واہ واقعی یہ تو بڑا کام تھا۔ اب تو شاید ایسا کام ہی نہ ہوتا ہو“ ۔ میں نے کہا۔

” جیسے پہلے پانچ روزہ ٹیسٹ میچ ہوتے تھے، پھر ون ڈے اور اب ٹوئنٹی ٹوئنٹی آ گیا۔ اسی طرح میوزک کے ساتھ بھی کیا گیا۔ بیک گراؤنڈ میوزک میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی آنے کا مطلب ہے اب کام ختم!“ ۔

فلم انڈسٹری کا بیڑا غرق

” کہا جاتا ہے کہ فلمی صنعت کا بیڑا غرق ہو گیا ہے۔ یہ تباہی کیا فرشتوں نے کی؟ یا اس میں ہم بھی شامل ہیں؟“ ۔

” پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری سیاست کی نظر ہو گئی۔ ڈائریکٹروں نے پروڈیوسروں کو عزت نہیں دی۔ ہم لوگوں نے خود بیڑا غرق کیا ہے۔ اب تو کام کرنے والے تقریباً سب ہی ختم ہو گئے۔ میڈم نورجہاں، مالا بیگم، چاچا منیر حسین، مسعود رانا، مہناز کہاں سے لائیں گے۔ حمیرہ چنا اور عذرا جہاں کو اللہ زندگی دے۔ جیسا پنجابی عذرا گاتی ہے کوئی نہیں گاتی۔ حمیرہ چنا اردو پنجابی آل راؤنڈر ہے۔ یہ دونوں سچے موتی ہیں۔ صاف سی بات ہے کہ جو انسان اپنے کام سے پیار کرے گا وہ کام کبھی بھی خراب نہیں ہو گا۔ یہاں ہم نے کبھی کسی کو اچھا نہیں کہا اور بھارت میں کسی نے کسی کو برا نہیں کہا“ ۔

” اللہ کی بات ایک ہوتی ہے۔ اُس کے کام میں ’ٹیک ون‘ ہوتا ہے۔ دوسرے ٹیک کی گنجائش ہی نہیں۔ انڈسٹری سے ہزاروں لوگوں کا رزق وابستہ تھا لیکن ہم نے پھر بھی کام کی عزت نہیں کی۔ ہمارے اندر اب بھی منافقانہ سوچ ہے۔ ہم نے پروڈیوسر کا ساتھ نہیں دیا اس لئے وہ بھاگ گیا“ ۔

آج کا میوزک یا کوؤں کا میلا

” آج فلم اور ٹی وی کا میوزک، شاعری، گلوکاری اور طرزوں کے لحاظ سے پہلے والا نہیں رہا۔ ایسا کیوں ہے؟ آج کے گلوکار، گیت نگار، میوزک کمپوزر کیا صحیح کر رہے ہیں؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” آج بھی ’سانوں نہر والے پُل تے بلا کے۔ ‘ چلتا ہے جو اس وقت 5000 روپے میں ہوا تھا۔ آج گانا 1000000 کا ہوتا ہے اور کسی کو پتا ہی نہیں! ایسے ہی یہ میوزک ہو رہا ہے! کسی چیز کا پتا نہیں نہ اچھے سونگ رائٹر، نہ سنگر نہ میوزک ڈائریکٹر! اب آپ بتائیں کہ ماسٹر عبداللہ، بخشی وزیر صاحبان، بابا چشتی، وزیر افضل صاحبان، صفدر حسین، کمال احمد، نذیر علی، ایم اشرف، وجو صاحب ( وجاہت عطرے ) جیسے لوگ کہاں سے لائیں؟ جو الف انار اور ب بکری پڑھا ہوا ہے وہ ہی اصل ہے۔ اب ٹیونر کی مدد سے بے سُرا بھی سر میں گا رہا ہے۔ گانا تو مذاق بن گیا۔ اب اصلی نوٹ کی چھان بین ہوتی ہے اور جعلی نوٹ بغیر جانچے او کے کر دیا جاتا ہے! لائق کی نہیں نالائق کی عزت ہے۔ یہ وقت ہاتھ میں مِنرل واٹر کی بوتل اور انگریزی بولنے کا ہے۔ آج کا میوزک ایسے ہی ہے جیسے کوؤں کا میلا لگا ہو!“ ۔

” میوزک میں سب سے پہلے ادب ہے۔ کچھ لوگ اب بھی زندہ ہیں۔ یہ بہترین میوزک ٹیچر ہیں۔ نئے لوگوں کو چاہیے اُن سے کام سیکھیں۔ کام کو کام سمجھیں مذاق مت بنائیں جو کہ آپ نے بنا دیا ہے“ ۔

” میں تو فلم اور ٹی میں پرکشنز جیسے کانگو، بونگو بجاتا تھا۔ کچھ گانے بھی کیے لیکن خیال میں ماسٹر عبداللہ اور ماسٹر عنایت صاحب آتے۔ پھر میں نے اس میدان میں داخلے کی کوشش نہیں کی۔ مجھے پاکستان فلم انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے 49 سال ہو گئے لیکن ابھی تک یہ کام نہیں آ سکا۔ ہم نے ٹی وی پر میوزیشن کی حیثیت سے بہت کام کیا۔ میاں شہر یار، خلیل احمد، اختر حسین اکھیاں ’اے وطن پیارے وطن۔ ‘ پھر ان کے بھائی ماسٹر عاشق حسین کا بنایا ہوا فلم ’جبرو‘ ( 1956 ) کا دھمال ’لال میری پت رکھیو بھلا جھولے۔ ‘ آج تک برِ صغیر پاک و ہند میں گایا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ان لوگوں جیسا کام نہیں کر سکتے تو اس سے اچھا ہے کہ ہم یہ کام ہی نہیں کریں! گانوں کی دھن بنانا بالکل مذاق نہیں! “ ۔

” ہماری فلمی دنیا کا اللہ بھلا کرے اب بھی عقل آ جائے۔ ایک وقت تھا جب اللہ راضی تھا لیکن ہماری انڈسٹری کے ناخدا نہیں مانتے تھے۔ اب معاملہ اُلٹ ہو گیا!“ ۔

مطمئن زندگی

” کیا آپ مطمئن ہیں؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” اللہ کا شکر ہے۔ اس چھوٹی عید پر میری 6 فلمیں نمائش کے لئے پیش ہوئیں۔ تین پشتو اور تین پنجابی۔ ہم تو ایورنیو میں ہی بیٹھے ہیں۔ شہزاد اور سجاد دونوں بھائی ہمیں دیکھتے ہیں کہ ہم ابھی تک یہیں ہیں۔ میری چار بیٹیاں ہیں اللہ کا شکر ہے میں نے ان کی شادیاں کر دی ہیں۔ میرا ایک بیٹا شہباز علی نبھو بیس سال سے الحمدللہ میرا بازو بن کر ساتھ کام کرتا ہے۔ اس کی بھی شادی کر دی ہے۔ مجھے کوئی پریشانی نہیں۔ اللہ کا لاکھ احسان اور شکر ہے“ ۔

فلم انڈسٹری ہماری پہچان

” پاکستانی فلم انڈسٹری آج بھی ہماری پہچان ہے۔ ہم لندن وغیرہ کے ہوئی اڈوں پر جب کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی میوزیشن ہیں تو وہ ہماری بے حد عزت کرتے ہیں! لیکن یہ عزت ہم نے خود اپنے ہاتھ سے برباد کی۔ ہم نے پروڈیوسر کی نہ کام کی نہ ہی رزق کی عزت کی۔ اس لئے اب کام سیدھا نہیں ہو سکتا کیوں کہ کام کرنے والے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ تھوڑے بہت جو بچ گئے تو وہ فلم ’ٹائی ٹینِک‘ ( 1997 ) کے میوزیشنوں کی طرح ڈوبتے جہاز پر بھی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جب کہ ڈوبتی انڈسٹری کے دیگر شعبے کے لوگ کشتیوں میں بیٹھ کر کب کے جا بھی چکے! 2005 سے ہماری فلم انڈسٹری ختم ہو چکی ہے۔ ہم کہیں اور جا نہیں سکتے۔ اللہ نے یہیں ہمارا بھرم رکھا ہوا ہے“ ۔

اداکار شان اور میوزیشنوں کی عزت

” ٹی وی مارننگ شو ’جیو شان سے‘ کے بارے میں بتائیں“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” ہاں! شان کو اللہ زندگی دے۔ پروگرام ’جیو شان سے‘ آج سے تقریباً دس سال پہلے ہوتا تھا۔ شان نے میوزیشنوں کی ٹی وی پر جیسی عزت کروائی ویسی اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ پروگرام ہم نے بھی 8 مہینے بڑی شان سے کیا پھر بعض وجوہات کی بنا پر پروگرام بند ہو گیا“ ۔

بابا پیٹر

” کیا آپ نے بابا پیٹر کو دیکھا؟“ ۔

” کیا زبردست بات کر دی! بابا پیٹر، بابا جارجی، بابا موتی، یہ لوگ میوزیشن ہونے کے ساتھ نوٹیشن بھی کرتے تھے۔ نوٹیشن کے بغیر پہلے کام ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہم نے نہ صرف انہیں دیکھا بلکہ انہوں نے ہمیں کام کرنے اور غلطیوں کا مارجن بھی دیا۔ یہ ہمارے پروفیسر تھے۔ شاہد صاحب! فلم انڈسٹری تو کب کی ختم ہو چکی لیکن رائل پارک کے حاجی شیرا صاحب اور اچھا شوکر والے کے بھانجے چوہدری اعجاز کامران عید بقر عید پر انڈسٹری کے لوگوں کو یاد رکھتے ہیں“ ۔

( اللہ اِن دونوں کو صحت دے، آج کل علیل ہیں۔ یہ بات چیت ان کی بیماری سے پہلے ہوئی تھی) ۔

صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی یافتہ جاوید اقبال اور نبھو

فلم، ٹیلیوژن اور ریڈیو کے صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی یافتہ وائلن نواز جاوید اقبال سے میرا بڑا پیار ہے۔ انہوں نے عابد علی نبھو اور ان کے بھائی کے بارے میں مجھے بتایا :

” نبھو اور واجد دونوں کانگو اور بونگو بجانے میں کمال کے آرٹسٹ ہیں۔ واجد تو زبردست ڈھولک بھی بجاتا ہے۔ میں نے جب عدنان سمیع خان کا گانا ’ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو۔‘ کیا تو اِس کو اور طافو صاحب کے بیٹے (جس کا نام بھی واجد ہی ہے ) بلایا پھر دونوں سے استھائی میں لفظ گوریو کے بعد ڈھولکی کی زبان سے جواب دلوایا۔ ان دونوں نے حق ادا کر دیا۔ نبھو اور واجد انڈسٹری میں چھوٹے چھوٹے آئے لیکن تمام میوزک ڈائریکٹروں کے ساتھ کام کیا“ ۔

بات چیت کے اختتام پر نبھو صاحب نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا:

” جب تک زندگی ہے ہم نے ایورنیو کے فوارے کے سامنے ہی بیٹھنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جب اِس دنیا سے اُس دنیا منتقل ہوں تو اوپر جانے کے لئے ایورنیو اسٹوڈیوز سے ہی اٹھائے جائیں“ ۔

Facebook Comments HS