سعادت حسن منٹو کا ستر واں یوم وفات


muhammad salim gujranwala

18 جنوری 1955 مشہور پاکستانی افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یوم وفات ہے۔

اردو زبان نے سعادت حسن منٹو جیسا متنوع، منفرد اور سب سے بڑا افسانہ نگار آج تک پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ راجندر سنگھ بیدی اور کرشن چندر کے ہم عصر تھے، اس وقت ان میں سے بڑا افسانہ نگار کون ہے کا سوال پیدا ہو سکتا تھا، لیکن اب بلا شک و شبہ سعادت حسن منٹو ہی اردو ادب کا سب سے بڑا اور لازوال افسانہ نگار ہے۔

سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 کو موضع سمرالہ ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام خواجہ غلام حسن منٹو تھا اور وہ ذات کے کشمیری تھے۔ وہ لدھیانہ میں سیشن جج تھے۔ منٹو کو ان کے دوست پیار سے ٹامی کہتے تھے۔

منٹو کا دل پڑھائی میں بالکل نہیں لگتا تھا، 1921 میں انہیں سکول میں داخل کرایا گیا۔ 1931 میں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ منٹو نے 1934 میں جامعہ علی گڑھ سے گریجویشن تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل لیا لیکن تپ دق کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر ٹی بی سینیٹوریم میں داخل ہو گئے۔

جامعہ علی گڑھ میں انہیں عبد الباری عیلگ اور سردار حسن جعفری کی معیت میسر آئی جہنوں نے ان کے ادبی شوق کو مزید مہمیز دی۔ منٹو گھر میں اپنے سوتیلے بہن بھائیوں کے ساتھ رہتے تھے، جس کے باعث ان کا بچپن ڈر اور خوف کی کیفیت میں بسر ہوا۔

منٹو میں افسانہ نگاری کی خدا داد صلاحیت پائی جاتی تھی۔ انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا تھا۔ منٹو نے اپنے متعلق لکھا ہے کہ منٹو افسانہ نہیں لکھتا ہے بلکہ افسانہ منٹو کو لکھتا ہے۔ منٹو نے اپنے افسانوں کا سارا مواد اپنے معاشرے اور ارد گرد کے ماحول سے لیا ہے۔ تقسیم ہند کے متعلق اپنے تاثرات کو انہوں نے اپنے کئی افسانوں کا موضوع بنایا ہے جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سر فہرست ہے۔

1936 میں منٹو کی پہلی ادبی تخلیق آتش پارے لاہور سے شائع ہوئی۔ منٹو نے 1936 سے 1941 کا عرصہ ممبئی میں بسر کیا۔ 1941 سے 1942 تک دہلی اور امرتسر میں بسر کیا۔ 1942 سے 1948 تک پھر ممبئی میں رہے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان لاہور چلا گیا اور وہ بھی کچھ عرصہ بعد لکشمی بلڈنگ لاہور میں رہائش پذیر ہو گئے۔

سعادت حسن منٹو کی شادی صفیہ منٹو سے 26 اپریل 1939 کو ہوئی۔ ان کی پہلی اولاد کا نام عارف تھا جو بچپن میں فوت ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی تین بیٹیاں ہوئیں، جن کے نام نگہت، نصرت اور نزہت ہیں۔ نگہت بشیر اب بھی لکشمی بلڈنگ لاہور میں رہتی ہیں۔ ہندوستانی سیاستدان سیف الدین کچلو بھی ان کے رشتے دار تھے۔ فلم ساز مسعود پرویز بھی ان کے عزیز تھے۔ مشہور وکیل عابد حسن منٹو بھی ان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کمینٹیٹر حامد جلال ان کے بھانجے ہیں جہنوں نے ان کے وفات پر مضمون لکھا تھا۔ منٹو کو اپنے کشمیری ہونے پر بہت فخر تھا، ایک جگہ لکھتے ہیں کہ خوب صورتی کا دوسرا نام کشمیری ہے۔

سعادت حسن منٹو کو اپنے تخلیق کردہ افسانوں پر فخش نگاری کے الزامات پر چھ بار مقدموں کا سامنا کرنا پڑا۔ تین مقدمے تقسیم ہند سے پہلے اور تین مقدمات تقسیم ہند کے بعد دائر کئیے گئے۔ لیکن کسی بھی مقدمے میں انہیں سزا نہ ہوئی اور انہیں آئندہ کے لیے انتباہ دے کر چھوڑ دیا جاتا رہا۔ پاکستان میں ان کا مقدمہ نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والے منصف محمد منیر کے سامنے پیش ہوا۔ سعادت حسن منٹو نے اپنے اوپر فحش نگاری کے الزامات کا رد کیا اور کہا میں افسانہ نگار ہوں نہ کہ فحش نگار۔

انہوں مزید کہا کہ گند کے اوپر جتنا مرضی چونا ڈال دیں وہ گند ہی رہے گا۔ میں معاشرتی مسائل کی عکاسی کرتا ہوں، جو میرے افسانوں کو فحش کہتا ہے وہ خود فحش سوچ کا شکار ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک لکھاری اس وقت قلم اٹھاتا جب اس کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو کے جن افسانوں پر فحش نگاری کا الزام لگا، ان میں کھول دو، اوپر نیچے اور درمیان، کالی شلوار، ٹھنڈا گوشت اور دھواں شامل ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سعادت حسن منٹو کے کسی بھی افسانے پر پابندی نہ لگی اور وہ آج بھی پاکستان میں شائع ہو رہے ہیں۔

1966 میں باکس آفس پر ہٹ ہونے والی پاکستانی اردو فلم بدنام کے مکالمے سعادت حسن منٹو نے لکھے تھے۔ یہ فلم اقبال شہزاد نے تیار کی تھی۔ اس کی موسیقی دیبو بھٹہ چاریہ

نے دی تھی۔ اس کا ایک گانا ”بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے“ مسرور انور نے لکھا تھا اور اسے ثریا ملتانی کر نے گایا تھا، بہت مشہور ہوا تھا۔ اس فلم کی کہانی افسانہ جھمکے سے ماخوذ کی گئی تھی۔ جس میں سعادت حسن منٹو کا لکھا گیا یہ مکالمہ، جو علا الدین نے ادا کیا تھا، بہت ہی مشہور ہو کر زبان زد عام ہو گیا

تھا،
کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے؟
کیوں آئے ہیں یہ جھمکے؟
کس نے پہنائے ہیں یہ جھمکے؟
اور کیوں پہنے ہیں یہ جھمکے؟

سعادت حسن منٹو نے افسانوں کے بائیس مجموعے، ایک ناول، پانچ ریڈیو ڈرامے، تین مضامین اور دو شخصی خاکے تخلیق کئیے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 14 اگست 2012 کو بعد از مرگ انہیں نشان امتیاز سے نوازا اور ان کے پچاسویں یوم وفات 18 جنوری 2005 کو محکمہ ڈاک پاکستان نے ان کی تصویر کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔ گوگل نے بھی ان کی یاد میں ان کے 108 ویں یوم ولادت 11 مئی 2020 کو اپنا ڈوڈل جاری کیا تھا۔ منٹو کی زندگی پر دو فلمیں بھی بنائی گئیں ہیں،

ایک پاکستان میں 2015 میں عرفان کھوسٹ کے بیٹے سرمد کھوسٹ نے اور دوسری ہندوستان میں 2018 میں نندتا داس نے۔

کثرت شراب نوشی کے باعث سعادت حسن منٹو 18 جنوری 1955 کو لاہور میں 43 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہیں میانی صاحب قبرستان میں دفن کیا گیا۔

ان کی لوح مزار پر پہلے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے،

” یہاں منٹو دفن ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا فن اور ساری تخلیقات بھی منوں مٹی کے نیچے دفن ہیں، وہ حیران ہے کہ ان دونوں میں سے بڑا افسانہ نگار کون ہے؟

خدا یا وہ۔ ”
بعد ازاں اس تحریر کو تبدیل کر کے لوح مزار پر یہ لکھا گیا کہ
”یہ سعادت حسن منٹو کی قبر کی قبر ہے،
جو اب بھی سمجھتا ہے کہ لوح جہاں پہ اس کا نام حرف مکرر نہیں تھا ”۔ (منٹو)

Facebook Comments HS