ڈیجیٹل انقلاب اور ہمارا جمود
پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی زبوں حالی کسی المیے سے کم نہیں، جہاں دنیا ڈیجیٹل انقلاب کی بلندیوں کو چھو رہی ہے، وہیں ہم بنیادی مسائل کی دلدل سے باہر نکلنے میں ناکام ہیں۔ قومی ترقی کا خواب، جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پورا ہو سکتا تھا، حکومتی عدم توجہی اور ناقص پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ جس وقت دنیا کے بڑے ممالک مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اور بلاک چین جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنی معیشت کا حصہ بنا رہے ہیں، پاکستان آج بھی انٹرنیٹ کی ناقص رفتار، خراب ویب سائٹس، اور بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل سے دوچار ہے۔
حکومت کی عدم سنجیدگی کا سب سے بڑا مظہر وہ ناکام پالیسیاں ہیں جو محض کاغذی منصوبے بن کر رہ گئی ہیں۔ نیشنل آئی ٹی پالیسی 2016 جسے انقلابی منصوبہ قرار دیا گیا، عملی طور پر ایک بے جان خاکہ ثابت ہوئی۔ اس پالیسی کا مقصد تھا کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کیا جائے، لیکن ناقص نفاذ اور حکومتی عدم توجہی نے اس کے اہداف کو نامکمل چھوڑ دیا۔ نتیجتاً، سرکاری ادارے بدستور پسماندگی کا شکار رہے اور نجی شعبے کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔
پاکستان کی سرکاری ویب سائٹس کی حالت ان ناکام پالیسیوں کی سب سے واضح مثال ہے۔ اہم مواقع پر یہ ویب سائٹس غیر فعال ہو جاتی ہیں، جیسے کہ یونیورسٹی کے داخلے کے دوران، روزگار کے مواقع کے لیے درخواست فارم جمع کروانے کے وقت، یا پھر نتائج کے اجراء کے دوران یہ ڈمپ ہو جاتی ہیں۔ اب ایس ٹی آئی کی مثال ملاحظہ فرمائیں، جابز کے اعلان کے بعد سے ویب سائٹ کریش ہے۔ میٹرک انٹر کا رزلٹ ہو تو متعلقہ بورڈ کی ویب سائٹ کریش کر جاتی ہے۔ ان مسائل کی جڑ بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اور ناقص سرکاری نگرانی میں ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں آئی ٹی کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ شعبہ وہ مقام حاصل نہ کر سکا جو ترقی یافتہ ممالک میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
سرکاری جامعات، جو نوجوانوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کا مرکز ہونی چاہئیں، بدترین حالت میں ہیں۔ پاکستان کی بیشتر یونیورسٹیاں آج بھی وہی پرانا نصاب پڑھا رہی ہیں جو دہائیوں پہلے تیار کیا گیا تھا۔ دنیا بھر میں جامعات جدید ترین تحقیقاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں اور انڈسٹری کے ساتھ منسلک ہو کر نئی ٹیکنالوجیز کو پروان چڑھا رہی ہیں، لیکن یہاں پر یہ تمام پہلو غائب ہیں۔ سرکاری ادارے، جن کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے، خود کرپشن اور بدانتظامی کا شکار ہیں۔
اس کے برعکس، ہمسایہ ملک بھارت نے اپنی حکومتی پالیسیوں اور تعلیمی نظام کے ذریعے آئی ٹی کی دنیا میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی حکومت نے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کیا اور عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں قدم جمانے کے لیے نوجوانوں کو ضروری وسائل فراہم کیے۔ بھارت کے ڈیجیٹل انڈیا پروگرام نے نہ صرف اس ملک کو آئی ٹی سپر پاور بنایا بلکہ اسے عالمی معیشت کا ایک اہم ستون بھی فراہم کیا۔
پاکستان میں صورتحال اس سے بالکل برعکس ہے۔ نہ صرف سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں، بلکہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ بھی بجٹ کی کمی اور غیر ضروری بیوروکریسی کی زد میں ہے۔ سرکاری جامعات کو نہ تو جدید لیبارٹریز مہیا کی جاتی ہیں اور نہ ہی تحقیق کے لیے وسائل میسر ہیں۔ حکومت کی جانب سے جامع پالیسی کا فقدان، جامعات کی خود مختاری میں مداخلت، اور آئی ٹی کے شعبے کو ترجیح نہ دینا وہ عوامل ہیں جو اس شعبے کو مزید پیچھے دھکیل رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس حقیقت کو سمجھے کہ آئی ٹی کا فروغ محض ایک شعبے کی ترقی نہیں بلکہ پوری معیشت کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ سرکاری ویب سائٹس، انٹرنیٹ کی سپیڈ جیسے نظام کو بہتر بنایا جائے، جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا جائے، اور یونیورسٹیز کو مکمل خود مختاری دی جائے تاکہ وہ انڈسٹری کے ساتھ شراکت داری کر کے نئے منصوبے بنا سکیں۔ بصورت دیگر، ہم محض خواب دیکھتے رہ جائیں گے، اور دنیا ہمیں پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتی رہے گی۔


