سجن اور وزیر آباد یاترا


کئی برسوں سے یہ پروگرام بن رہا تھا مگر اس بار سب نے یک زبان ہو کر شرکت کی ہامی بھر لی۔ جس سے ہمیں امید بندھ گئی کہ اس مرتبہ ملاقات ہو جائے گی، یہ 1990 کی بات ہے ہم پنجابی کے پہلے اخبار سجن میں صحافت کے ساتھ زبان اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کسی نظریے کے لئے کام کرنے کا ڈھنگ سیکھ رہے تھے۔ حسین نقی ایک اہل زبان تجربہ کار صحافی نے پنجاب میں رہتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو احساس دلایا کہ اپنی مادری زبان کے لئے کچھ کرو، چونکہ وہ صحافت کے شعبے سے منسلک تھے انہوں نے عوام تک ابلاغ کے لئے اخبار کو ذریعہ بنایا، اگرچہ سیاسی سماجی حتیٰ کہ ادب سے وابستہ کئی معتبر نام بھی اس کوشش کے مخالف ہوئے۔ ہم نوجوان تھے ہمارے لئے ایک جنون تھا، سب بھرپور جذبے اور جوش کا مظاہرہ کرتے رہے، اس اخبار میں زیادہ تر کا تعلق وزیر آباد سے تھا اکرم وڑائچ ایک ایسا نام تھا جنہیں صحافت اور پنجابی دونوں سے آشنائی تھی، اس لئے وہ ہم لوگوں کی بہتر انداز میں رہنمائی کرتے، وہ کہتے کہ میں پینڈو تے شہری دوہاں بارے تہانوں گلاں دساں گا۔ پنجابی قصے وی سناواں گا ایس دے نال ولایت دی کہانیاں وی۔ اکرم وڑائچ بیرون ملک ماسکو بھی گئے اور پٹارو کالج سے بھی تعلیم حاصل کر چکے تھے۔ مزاج ایک فنکار والا تھا، تھیٹر سے وابستہ رہے، بعد کے دنوں میں پینٹنگ بھی کی۔ ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔

سجن میں کام کرتے وہ کوئی نہ کوئی ایسی سرگرمی ضرور کرتے جس میں زیادہ لوگوں کو شریک کرتے وہ چاہے لارنس گارڈن میں آوارہ گردی ہو، یا کسی تصویری نمائش کو دیکھنا ہو، وہ اکثر سب کو وزیر آباد اپنے گھر آنے کی دعوت دیتے جس میں دریائے چناب لے جانے اور وہاں مچھلی کا شکار بھی شامل ہوتا، پھر ایک دن سب نے کمر کس لی، رات دو ڈھائی بجے اخبار کی کاپی بھیج کر منہ اندھیرے وزیر آباد پہنچ گئے، ہماری منزل اکرم وڑائچ کی رہائش گاہ تھی وہاں جا کر یقین آ گیا وہ واقعی چودھری ہیں، کیونکہ ذہن میں یہی بات بیٹھی تھی کہ گاؤں میں رہنے والا ہر دوسرا چودھری کہلاتا اور نام کے ساتھ لکھتا ہے۔ ان کے والد چودھری شفیع سماں سے بھی مختصر ملاقات کا موقع ملا، ان کا سیاسی قد کاٹھ بھی تھا۔ جنہیں خاص طور پر انتخابی سیاست میں اپنے علاقے میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔ خیر ہم سب دن چڑھنے پر وہاں سے وزیر آباد شہر آئے اور وہاں سے دریا چناب کی جانب روانہ ہو گئے، میرے جیسوں کے لئے یہ ایک دلچسپ اور یادگار سفر تھا۔ ہم لوگ واپس چلے گئے، یہاں کی تاریخی عمارتیں، خصوصاً مثمن بُرج کی عمارت بڑی خوبصورت تھی، مثمن فارسی میں آٹھ کو کہتے ہیں۔ ستاون کنال پہ محیط اس چار دیواری میں یوں تو کئی عمارتیں ہیں مگر دونوں داخلی دروازوں پہ چار چار برج ہیں۔ انہی برجوں کی مناسبت سے عمارت کا نام مثمن برج رکھا گیا۔ اس برج کو علم الدین نامی شاہجہاں کے وزیر نے تعمیر کروایا تھا۔ مغلوں کی بنائی ہوئی تمام عمارتوں کی طرح اس عمارت میں بھی روش، تختے اور باغ ہیں۔ مغلوں کے بعد سکھوں کا دور آیا تو یہ فوج کا ہیڈکوارٹر بن گیا۔

شہر کی گلیاں اور بازار کہیں ماضی کی کہانیاں بیان کرتی ہیں، گلیوں اور بازاروں کے نام یاد رہ گئے۔ کئی برس گزرے اس دوران کسی نہ کسی بہانے وزیر آباد آئے مگر دوستوں کے گروپ کی صورت میں ایسا پروگرام دوبارہ نہ بن سکا، سجن اخبار پنجابی زبان کو زندہ رکھنے کے مشن کو بیس ماہ تک چلانے کے بعد اپنی آخری سانسیں لینے لگا، حسین نقی بہت کم پنجابی بولتے مگر اس دن وہ بول اٹھے کہ مینوں سجن دے اینا چلن دی وی آس نہیں سی، فیر وی تساں جواناں نیں ایس نوں بوہت گھٹ وسائل دے باوجود چلایا ایہہ وڈی کامیابی اے۔

جس دن سجن بند ہویا، اوہ ساڈے سبھاں لئی ڈاھڈے دکھ تے تکلیف والا دن سی۔ ساڈے و چوں کئی اوس دیہاڑ رو پئے۔ اخبار بند ہوون نال اک دوجے دا ساتھ ختم ہوون دا وی دکھ ساڈے نال گیا۔

ہم لوگوں میں سے زیادہ تر نے صحافت کا شعبہ اختیار کرنے کا ارادہ کیا، قومی روزنامے ہماری اگلی منزل ٹھہرے، کچھ نے سرکار کی نوکری کر لی، کوئی وطن بیزار ہو کر باہر چلا گیا۔ ہم میں سے کچھ نے ایک دوسرے سے رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش ترک نہ کی۔ خوشی غمی میں خیر خبر اور ماضی کی پٹاری سے کچھ نکالنے کا عمل کبھی کبھار دہرا لیتے رہے، ہمارا سجن کا ایک حوالہ بن گیا تھا۔ تیس سال بعد ہم نے ایک دوسرے کو ڈھونڈ کر ایک ملاقات رکھی۔ جس میں بیرون ملک مقیم دوستوں کو وڈیو فون پر شریک کیا۔ اس نشست میں ایک ویب سائٹ بنا کر سجن کو پھر سے زندہ کرنے اور مادری زبان کے لئے کچھ کرنے کی دبی خواہش پوری کرنے کا عزم کیا۔ اب اگرچہ ہم پہلے جتنے جوان نہیں رہے تھے مصروفیات اور ترجیحات بھی بدل چکی تھیں لیکن ایک ڈیڑھ سال تک تجربہ رہا لیکن آپس کے رابطے کمزور پڑ گئے اور سجن پھر ہماری گرفت سے نکل گیا۔ ایک دل جلے دوست نے کہا، سانوں اپنی ماں بولی نال ہورے اینی محبت اے، اسیں لگدا سچے دل نال کدے ماں بولی نوں چاہیا نہیں۔ اوہ کیہ سوچ سی کہ اک اردو بولن والے حسین نقی نے سب پنجابی بولن تے لکھن والیاں نوں اکٹھیاں کیتا، جواناں نوں ہلا شیری دتی کہ آؤ تہاڈی ماں بولی نوں تہاڈی لوڑ اے۔ ایہدے لئی کجھ ویلا کڈھو۔ اسیں گلاں بڑیاں کردے آں، ہتھ پیر گھٹ ماردے آں۔

ہم سب شرمندہ ضرور ہیں کہ سجن یا پنجابی کے لئے کچھ خاص نہیں کر سکے، ہاں اتنا ضرور ہے کہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے اور کئی بار پلان بنایا کہ وزیر آباد میں اکٹھے ہوں، دریا چناب پر جا کر پنجابی زبان کے لئے کوئی مرثیہ پڑھ لیں، پینتیس سال بعد ہم اس میں کامیاب ہو گئے، ہمارے بڑے بھائی اسلم ڈوگر، شاہد شاہ، طارق بٹ نے کریم اللہ گوندل جو کہ ان دنوں بے وطنے ہو کر کینیڈا میں مقیم ہیں، ان کے پاکستان آنے پر دوستوں سے کہا کہ کہیں اکٹھے ہوتے ہیں، اکرم وڑائچ نے ایک بار پھر سب کو اپنے ہاں ڈیرے ڈالنے کی دعوت دیدی۔ اور ہم نے کوئی عذر درمیان میں نہیں آنے دیا فوری اپنے ٹھکانوں سے نکل کر وزیر آباد پہنچنے کا قصد کیا، جب اکرم وڑائچ کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے تو ذہن پھر وہیں لے گیا، جب ہم سب یہاں اکٹھے ہوئے تھے، چودھری شفیع سماں اب نہیں رہے لیکن ان کی جگہ بیٹے ویسے ہی تپاک سے ملے۔ یہاں سے دریا چناب کا سفر جس میں اس بار وزیر آباد کی ہر دل عزیز سیاسی شخصیت حفیظ خلجی تو تھے ہی ان کے ساتھ اکرم وڑائچ نے شادی خان ان کا اصل نام پہلے بھی کبھی نہیں دریافت کیا، اب بھی اسی پر اکتفا کیا، ان کی کمپنی بھی ملی۔ یہ وزیر آباد کی تاریخی عمارتوں اور ان کے موجودہ استعمال سے متعلق معلومات فراہم کرتے رہے، دونوں نے اپنے فن سے بھی متعارف کرایا، شادی خان نے ٹوٹی پھوٹی چیزوں کو استعمال کر کے فن کے نمونے گھر کی بیرونی دیواروں پر تخلیق کیا، جبکہ حفیظ خلجی کی شاندار پینٹنگز جنہیں انہوں نے جیسے بیٹی کا جہیز بڑے چاؤ سے تیار کر کے سنبھال کر رکھ چھوڑا ہے، کسی کو دکھاتے نہیں، وہ ایسا کام جسے نمائش میں رکھ کر داد وصول کرنا بنتا ہے۔ ہم ان دو حضرات کی کمپنی میں روانہ ہوئے، دریا کی جانب سفر کے دوران فصلوں، موسم اور جانوروں پرندوں سے متعلق بھی جانکاری دیتے رہے۔ ہماری گفتگو کا موضوع سنجیدگی سے جلد یکسر بدل جاتا جس کا مقصد زیادہ تھکاوٹ کا بوجھ نہ اٹھانا پڑ جائے۔

وزیر آباد کا میرے لئے بڑا حوالہ شاہ جی رہے۔ وہ لاہور میں ساتھ کام کرتے رہے ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا بھی تھا۔ زاہد بٹ جنہوں نے سب سے پہلے سجن میں قدم رکھے۔ وہ بھی ایک بڑا رابطہ ہیں۔ ہم میں سے دو مستجاب گوہر اور ارشد محمود امریکہ اور کینیڈا میں خوش ہیں۔ طارق بٹ وعدہ کر کے پہنچ نہ سکے مگر فون پر مستجاب کی طرح پوری رپورٹ لیتے رہے۔

اب کی بار شہر کے کچھ منظر تبدیل تھے، بعض عمارتیں اب ڈھے چکی تھیں، وزیر آباد میں مثمن برج نہیں رہا، اسے قبضے کی سوچ رکھنے والوں نے چٹیل میدان میں تبدیل کر دیا تھا۔

اس بار ہماری محفل سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ انسان کو نہ صرف رابطے بلکہ ایسی سرگرمیاں کرتے رہنا چاہیے، جیسی اکرم وڑائچ سجن کے دنوں میں بھی کرتے تھے اور گزرے ان برسوں میں بھی یہ سلسلہ تھمنے نہیں دیا، وہ چھوٹے اور طویل سفر کرتے رہے جن میں دوستوں اور جاننے والوں کو اپنا شریک بنائے رکھتے ہیں۔

میرے جیسے شہر میں بھی کوئی خاص مصروف زندگی نہیں گزار رہے ہیں، جس نے چھ سات سال بعد ٹرین کا سفر کیا، اور حقیقی معنوں میں شہر سے باہر قدم رکھا۔ زندگی کے معمولات کو غیر ضروری طور پر ایک دائرے میں قید کر کے اپنے دماغ کو بھی جیسے آکسیجن سے محروم کر دیا ہے۔ اکرم وڑائچ نے ہم سب سجن والوں کو احساس دلایا کہ چاہے اخبار نہیں بھی نکال سکتے کم از کم مل کر اپنے جذبات اور افکار کا تبادلہ خیال کر لو ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرو، مل کر کھاؤ پیو، موج مستی کرو، اس کی ممانعت تو نہیں۔

جب ہم 35 سال پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں اور اس درمیان کے دور کا جائزہ لیتے ہیں ایسا لگتا کہ ہم اپنا ڈھیر سارا نقصان کرچکے ہیں۔ جیسے اپنی گٹھری کی کئی چیزیں کھو چکے ہیں۔ اور ایک عجیب سے احساس محرومی میں مبتلا ہو کر منہ چھپائے ہیں۔ فون اور وڈیو چیٹنگ ان ملاقاتوں کا متبادل ہرگز نہیں، ہمیں میل ملاپ کی عادت بحال کرنا ہوگی، اس کے لئے اپنے معمولات کو یکسر بدلنا پڑے گا۔ اپنے آپ سے باہر نکلنا ہو گا۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar