ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں

ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں۔ اب کوئی زبان دان نکتہ چیں کہہ سکتا ہے کہ مینڈک ٹراتے ہیں، جھینگر تو جھنکارتے ہیں۔
اردو میں مختلف جانوروں اور پرندوں کی آوازوں کے لئے لفظ مخصوص ہیں۔ مثلاً گھوڑا ہنہناتا ہے، بندر خوخیاتا ہے، بکری ممیاتی ہے، چڑیا چہچہاتی ہے، کوئل کوکتی ہے، مکھی بھنبھناتی ہے، گلہری چٹچٹاتی ہے، مینڈک ٹراتا ہے اور جھینگر۔ جھنکارتا ہے۔ لیکن صاحب قسم لے لیں ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں اور وہ بھی کورس میں۔
اگست 2022 کا تیسرا ہفتہ تھا۔ ہم بچوں کے ساتھ تعطیلات گزارنے کی غرض سے ٹورنٹو کے نواحی علاقے سکاربورو میں ائر بی این بی پر حاصل کردہ ایک مکان میں رہائش پذیر ہوئے۔ یہ ایک چینی خاتون کا مکان تھا۔ مکان کا چینی رکھوالا بالائی منزل پر دو چینی طالبات کے ساتھ مقیم تھا۔ مسٹر شی سائیکے انگریزی سے نابلد تھے اور من چینی نمی دانم۔ لہذا رابطے کے لئے مسٹر سائیکے نے ایک ٹرانسلیشن ایپ ڈاؤں لوڈ کی ہوئی تھی۔
پہلی صبح تھی۔ عیشہ اور رافع نوعمری کی نیند کے مزے لے رہے تھے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر، چائے کا کپ اور کتاب سنبھالے ہم باغیچے میں چلے آئے۔ موسم خوشگوار تھا۔ ہوا اور دھوپ میں کشاکش تھی۔ ہوا سرد تھی اور دھوپ میں ملائم حدت۔ باغیچے کے برگ و گل دھوپ میں نہا کر صیقل ہو گئے تھے۔ ایک فربہ گلہری دیوار پر پھدکتی ہوئی آتی، ناشپاتی کے پیڑ پر چڑھتی، اپنے منہ سے بڑی ناشپاتی دبائے اترتی اور منڈیر پر دوڑتی، نکڑ کے اونچے گھنے درخت کی کھو میں غائب ہوجاتی۔ شاید یہ اس کا گھروندہ تھا۔ شاید وہ برسات کے دنوں کی پیش بندی کر رہی تھی۔ گلہری کی مہم جوئی کے مشاہدے نے ہمیں عارضی طور پر کتاب سے بے نیاز کر دیا تھا۔ اس نے گھونسلے میں قرار پکڑا، تو ہم نے بھی کتاب کی جانب رجوع کیا۔ ابھی صفحہ بھی نہ ہوا تھا کہ ایک بے ہنگم آواز نے فضا کے سکون کو مکدر کر دیا۔ لگتا تھا پڑوسی نے گھاس کاٹنے کی مشین چلا دی تھی۔ چھٹی کے دن باغیچے کی تراش خراش کرنا پڑوسی کا حق سمجھ کر، چپکے بیٹھے انتظار کرتے رہے مگر وہ تو لگتا تھا اگلی پچھلی تمام کسر اسی روز پوری کرنے پر تلے تھے۔ سمع خراشی سے تنگ آمد گھر کے اندر چلے آئے۔ بچے جاگ لئے تو تیار ہو کر ڈاؤن ٹاؤن چلے گئے۔ واپسی دیر سے ہوئی۔ آتے ہی پڑ کر سو گئے۔
اگلی صبح کتاب اور خوشبو کی لپٹیں اڑاتی کافی کا مگ لئے باغیچے میں وارد ہوئے۔ شجر تلے کرسی کھسکائی اور تپائی پر مگ رکھا۔ پتوں سے چھنتی دھوپ نے رخساروں کو سہلایا ہی تھا، کافی کا کوئی ڈیڑھ گھونٹ گلے سے اترا ہی تھا، کتاب کی چار سطروں کا ست پیا ہی تھا کہ، گھاس کاٹنے کی مشین چل پڑی، اور چلے ہی گئی۔
”شاید اب بائیں طرف کا پڑوسی باغیچے کو پیارا ہوا ہے۔“ ہم نے سوچا۔ اور حجرہ نشین ہونے میں ہی عافیت جانی۔ اس روز صاحبزادی کے لئے پراٹھا بناتے ہوئے ہم نے پوچھ لیا۔ ”اس محلے کے باغیچے اتنے بڑے تو نہیں پھر گھاس کاٹنے کی مشین گھنٹوں کیوں چلتی رہتی ہے۔
”اوہ ماما! آپ نے سکاڈا کو سنا ہو گا۔“ وہ چمک کے بولیں۔ وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے ٹورنٹو میں زیر تعلیم تھیں اور اس آواز کی حقیقت سے واقف تھیں۔
”سکاڈا؟“ یہ نگوڑا کیا ہے۔
”آپ اسے دیوزاد جھینگر کہہ سکتی ہیں۔“
موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی سکاڈا کے غول کے غول نمودار ہو جاتے ہیں۔ ایک طویل عرصہ، زیر زمین پودوں کی جڑوں سے لپٹے، ان کا رس چوس کر نشو و نما کے ارتقائی مراحل طے کر چکنے کے بعد ، نو عمر سکاڈا بالائے زمیں برآمد ہوتے ہیں اور ٹہنیوں پر ٹھہر کر بلوغت کو پہنچتے ہیں۔ بالغ ہوتے ہی نر سکاڈا، تمنائے بیتاب لئے، کو بہ کو محبوب کو پکارتے ہیں۔ یہ بلند آہنگ پکار ان کے پیٹ سے مربوط ایک ڈھولکی سے پیدا ہوتی ہے، جو طویل فاصلے تک سنی جا سکتی ہے۔ جھنڈ کے جھنڈ سکاڈا، ایک ہی وقت میں محبت کا گیت گاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کسی نے گھاس کاٹنے کی مشین چلا دی ہو۔
نر سکاڈا نغمہ زن رہتا ہے تا آنکہ کوئی ہم نشیں دلربا اپنے پر پٹپٹا کر اور دھیرے سے گنگنا کر اقرار محبت کر لے۔ بادہ وصل پیا جاتا ہے۔ مادہ ایک نرم ٹہنی کے گہوارے پر محبت کی نشانیاں رکھتی ہے اور دونوں محبت کے متوالے ہمیشہ کی نیند سو جاتے ہیں۔ وہ پیدا ہی پریت کا زہر پینے کو ہوئے تھے۔ لتا جی کا مدھو بالا پر فلمایا ہوا وہ جو گیت ہے نا۔ ”پریت بنی ہے دنیا میں مر جانے کے لئے“ شاعر نے سکاڈا سے متاثر ہو کر ہی لکھا ہو گا۔
سکاڈا کے بارے میں جان لینے کے بعد ہمیں یقین ہو چلا تھا کہ سکاڈا کے ہوتے ہوئے سکون کی خواہش محال ہے۔ لیکن ہمارا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔
اس روز آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ فضا میں پتوں کی سرسراہٹ اور بوندوں کی ٹپا ٹپ کے سوا کوئی آواز نہ تھی۔ گلہری کی چٹ چٹا ہٹ بھی نہیں۔ وہ بھی اپنے گھر میں دبکی تھی۔ اور سکاڈا؟
سکاڈا کہاں چلے گئے؟ کیا سارے ایک ساتھ محبت کی بھینٹ چڑھ گئے؟
معلوم ہوا کہ چمکیلی دھوپ سکاڈا کی رومانویت کو مہمیز کرتی ہے۔ ابر و باراں سے ان پر قنوطیت طاری ہوجاتی ہے، اور ان کو چپ لگ جاتی ہے۔ بارش کا یہ فائدہ کسی نے کب سوچا ہو گا۔

