یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل


سندھ میں جو جنرل یونیورسٹیاں ہیں، ان میں وائس چانسلرز کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا گیا ہے، جس پر سندھ کے عوام سوال کر رہے ہیں۔ سوال کرنا کوئی غلط بات نہیں، بلکہ سوال اٹھائے جانے چاہئیں۔ کچھ افراد کا خدشہ ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جیسے اہم عہدے پر نان سول افراد کو تعینات کرنے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ بیوروکریٹس نے سندھ میں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، اور ان کی کارکردگی ایسی نہیں کہ وہ سندھ کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بنیں۔

دوسری جانب یونیورسٹی کے پروفیسروں کی یہ رائے ہے کہ وائس چانسلر کی تقرری کے عمل میں پی ایچ ڈی کو اولین ترجیح دی جائے، کیونکہ پی ایچ ڈی کرنے والے افراد کو تعلیمی اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہوتا ہے۔ اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ پروفیسروں کے مطالبات درست ہیں، تو پھر ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اس وقت سندھ کی تمام یونیورسٹیوں میں جو پی ایچ ڈی وائس چانسلرز تعینات ہیں، ان کی کارکردگی کیسی رہی ہے۔

میں خود سندھ کی دو بڑی یونیورسٹیوں کا طالب علم رہ چکا ہوں اور ایک ایفیلیٹڈ کالج میں بھی کام کر چکا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی کنسلٹینسی بھی کی ہے۔ اس لیے میں اس نظام سے اچھی طرح واقف ہوں کہ موجودہ پی ایچ ڈی وائس چانسلرز نے یونیورسٹیوں کی تعلیم کو کس طرح تباہ کیا ہے۔

اب تک ہماری کسی یونیورسٹی کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں نہیں ہوتا۔ سندھ کی یونیورسٹیاں پنجاب کی یونیورسٹیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ یقیناً پنجاب میں بھی مسائل ہیں، لیکن وہاں تعلیمی ماحول ہمارے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ کئی سالوں سے شکایت کر رہے ہیں اور یونیورسٹیوں کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ پریس کانفرنسز میں اس کا ذکر کیا ہے۔ حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کے وائس چانسلرز کو مینجمنٹ اور فنانشل اسکلز نہیں آتیں، اور یہ کام اکثر ڈائریکٹر فائنانس اور رجسٹرار کے سپرد ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف مینجمنٹ اور فنانشل مینجمنٹ کا نہیں ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں تحقیق ہونی چاہیے، لیکن ہماری یونیورسٹیوں میں تحقیقی ماحول سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس کے علاوہ، ہر سال یونیورسٹیوں سے جو اساتذہ پی ایچ ڈی کر کے نکلتے ہیں، ان پر بھی بڑے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

معروف سائنسدان پرویز ہود بھائی نے ایک بار کراچی لٹریچر فیسٹیول میں کہا تھا کہ سندھ کے پی ایچ ڈی اسکالرز کو ایک جملہ لکھنا بھی نہیں آتا اور وہ کوئی تحقیق نہیں کرتے۔ ان کا مقصد صرف پی ایچ ڈی کی ڈگری لینا ہوتا ہے، تاکہ انہیں پی ایچ ڈی الاونس اور پروموشن مل سکے۔

ایچ ای سی ایک پی ایچ ڈی پر 60 سے 70 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے، لیکن جب یہ لوگ پی ایچ ڈی کر کے واپس آتے ہیں، تو یہ کلاس پڑھانے کے بجائے ایڈمنسٹریٹو پوزیشنز کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ یہ وائس چانسلر کے ساتھ مفاہمت کر کے کوئی اہم کرسی حاصل کر لیتے ہیں، اور پھر وائس چانسلر انہیں اجازت دے دیتا ہے کہ وہ خود بھی کمائیں اور اسے بھی کمائی میں حصہ دیں۔

سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ کوئی پی ایچ ڈی کسی اضافی چارج پر کام نہیں کر سکتا، اور سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے۔ لیکن آج بھی سندھ یونیورسٹی میں 34 پی ایچ ڈی اساتذہ ایڈمنسٹریشن کی پوزیشنز پر ہیں۔

میرپور خاص یونیورسٹی میں واحد بزنس ایڈمنسٹریشن کے پی ایچ ڈی کو رجسٹرار کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے، جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس استاد کو 20 سالہ سروس کے باوجود گاڑی نہیں ملی، لیکن رجسٹرار کا چارج لینے کے صرف چھ ماہ بعد انہوں نے ٹویوٹا کار خرید لی اور 300 لیٹر پٹرول کی منظوری بھی لے لی۔

اس وقت یونیورسٹی سے بیچلرز یا ماسٹرز کرنے والے 90 فیصد طلبہ انگریزی میں ایک پیراگراف بھی نہیں لکھ سکتے، اور کمپیوٹر یا آئی ٹی میں ماسٹرز کرنے والے 95 فیصد طلبہ کوئی سافٹ ویئر بنانے کے قابل نہیں ہوتے۔

ایفیلیٹڈ کالجز کا حال بھی انتہائی خراب ہے۔ وہاں طلبہ صرف فارم بھر کر جعلی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ پرائیویٹ کالجوں میں نہ اساتذہ ہوتے ہیں، نہ کلاسز چلتی ہیں، اور نہ ہی مڈٹرم امتحانات ہوتے ہیں۔ ان طلبہ کو پاس کر دیا جاتا ہے، لیکن ان کے پاس نہ علم ہوتا ہے اور نہ ہی کسی سبجیکٹ کی بنیادی سمجھ۔

یونیورسٹیوں میں چند غیر معمولی اساتذہ موجود ہیں، لیکن ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ میرا مرحوم دوست، ڈاکٹر احمد علی ٹگڑ، جو کلاس کا گولڈ میڈلسٹ تھا، اکثر کہا کرتا تھا کہ یونیورسٹی میں جو استاد محنت کرتا ہے، اس کی کوئی قدر نہیں، جبکہ جو سیاست کرتا ہے، وہ عیش میں رہتا ہے۔

یونیورسٹیوں میں تقرریاں عموماً سفارش اور اقربا پروری کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر وائس چانسلرز بھی سفارشات کے ذریعے آتے ہیں۔ سندھ کی یونیورسٹیوں میں زیادہ تر کام کرنے والے کسی نہ کسی ریٹائرڈ استاد یا وائس چانسلر کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔

میں وزیر اعلیٰ سندھ سے متفق ہوں کہ موجودہ وائس چانسلرز تعلیمی ماحول بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ سمجھتے ہیں کہ وائس چانسلر کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی ضروری ہے، تو یہ تبدیلی ہونی چاہیے۔ لیکن میرے خیال میں سندھ کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت کو ایک جامع پالیسی بنانی ہوگی، جو پرائمری سے اعلیٰ تعلیم تک محیط ہو۔

یہ پالیسی صرف سیاسی مقاصد کے لیے نہ ہو، بلکہ واقعی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہو۔ اگر ایسی پالیسی آتی ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ صرف سیاسی مفادات کے لیے کی جا رہی ہے، تو عوام شاید اسے قبول نہ کریں۔

Facebook Comments HS