گارڈن سٹی پلان

گارڈن سٹی پلان ایک ایسا پلان ہے جس کا مقصد شہر میں ماحولیاتی مسائل سے نمٹنا اور ماحول کے اعتبار سے ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے میں شہری آلودگی کو کم کرنا اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال میں اضافہ کرنا ہے۔ شہروں میں سبز مقامات کا قیام، ہوا کے معیار کو بہتر بنانا اور شہریوں کے مجموعی معیار زندگی کو بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرنا اس پلان کا حصہ ہے۔
گارڈن سٹی پلان کی کچھ اہم خصوصیات کی بات کی جائے تو سب سے پہلے گرین انفراسٹرکچر کی بات آتی ہے۔ اس کے علاوہ پائیدار نقل و حمل کے لئے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے عوامی نقل و حمل میں برقی گاڑیوں کے استعمال میں اضافے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کے تحفظ اور بچت کے اقدامات کو نافذ کرنا اور ری سائیکلڈ پانی کے استعمال کو فروغ دینا بھی اس پلان کا حصہ ہے۔
2024 تک، چین میں اربن پلاننگ کے نفاذ میں نمایاں پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔ کئی شہروں کو سبز جگہوں، موثر نقل و حمل کے نظام اور توانائی سے موثر عمارتوں کے ساتھ پائیدار اور ماحول دوست شہری مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور مستقبل کے کئی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ جس میں شنگھائی کا لنگانگ نیو سٹی، شینزین کا بین الاقوامی کم کاربن شہر اور سوزہو کا تائیہو نیو سٹی ایسے پراجیکٹس ہیں جہاں سبز جگہیں، موثر نقل و حمل کے نظام اور انرجی بلڈنگز کی تعمیر شامل ہیں۔
اس سلسلے میں اگر ہم صرف بیجنگ کی بات کریں تو بیجنگ گارڈن سٹی پلان کے اہم اہداف میں 2035 تک شہری علاقے میں جنگلات کی کوریج کی شرح کو 45 فیصد سے زیادہ تک بڑھانا، ایک لاکھ ہیکٹر سے زیادہ قابل کاشت زمین کا تحفظ، 500 کلومیٹر طویل پانی اور گرین بیلٹ کا قیام، اور تفریحی مقامات میں پارکس کو بڑھانا شامل ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے بیجنگ میونسپل فاریسٹری اینڈ پارکس بیورو کا کہنا ہے کہ گارڈن سٹی کی تعمیر کے اعلیٰ سطحی ڈیزائن کو نا صرف وضع کیا گیا ہے بلکہ اب اسے اور بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔ سال 2024 میں بیجنگ میں ماحولیاتی رقبے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے 200 ہیکٹر سبز جگہ کا اضافہ کیے جانے کا منصوبہ تھا جس میں تقریباً 666 ہیکٹر اراضی پر جنگلات لگانے، 15 نئے تفریحی پارکس بنانے اور 50 چھوٹے پارکس اور سبز جگہوں کا قیام بھی شامل تھا۔ گارڈن سٹی کی تعمیر میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ رہائشی جگہ اور پارکس کو کیسے آپس میں ملایا جائے تا کہ شہری زندگی بھی معمول کے مطابق رہے اور سبزے میں بھی اضافہ ہو سکے جس کے لیے شہر کے تمام محکموں کا آپس میں کوآرڈینیشن ہے۔
”گارڈن سٹی“ کی طرز پر تعمیر اب بیجنگ کی شناخت کا لازمی جزو ہے اور اسی لئے کوشش کی جاتی ہے کہ سبزے کو بڑھانے کے لیے دستیاب تمام زمین کو استعمال میں لایا جائے۔ اس سلسلے میں چھوٹے پارکس خالی زمین کو سبزے میں بدلنے کے لئے مدد کرتے ہیں اور گھر سے پارک تک کا فاصلہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں رہائش کے لئے مخصوص علاقوں کے ارد گرد اس طرح کے 600 سے زیادہ چھوٹے پارکس اور سبز مقامات بنائے گئے ہیں۔ پرسکون مقامات سے لے کر متحرک کمیونٹی مراکز تک، یہ پارک ہریالی اور تفریح دونوں مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔
2012 سے، بیجنگ میں اہم شہری حکمرانی کے اقدامات کا آغاز ہوا، جس میں 7,000 ہیکٹر سے زیادہ سبز مقامات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان میں متعدد شہری تفریحی پارکس، مضافاتی پارکس، چھوٹے پارکس اور چھوٹے چھوٹے سبز مقامات شامل ہیں۔ اس اضافے کے نتیجے میں، فی کس پارک کا رقبہ 5.5 سے بڑھ کر 16.9 مربع میٹر ہو گیا ہے۔ بیجنگ اب ایک ہزار سے زائد پارکس کا شہر بن گیا ہے کیوں کہ یہاں تقریباً 1,065 پارکس پورے شہر میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بیجنگ میں جنگلات کی کوریج 44.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ 13 اضلاع میں 128 نئے جنگلاتی فارم قائم کیے گئے ہیں، جو 182,700 ہیکٹر جنگلاتی زمین پر مشتمل ہیں اور اس سے 24,000 روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
بیجنگ کے ماحولیاتی بہتری کے اقدامات سے پرندوں کے مسکن کے معیار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آج، شہر میں پرندوں کی 519 اقسام موجود ہیں جو چین کے پرندوں کی ایک تہائی سے زیادہ اقسام کی نمائندگی کرتی ہیں اور جی 20 دارالحکومتوں میں بیجنگ کا تنوع دوسرے نمبر پر ہے۔
چین کے گارڈن سٹی اقدام کو اقوام متحدہ کے انسانی آباد کاری پروگرام (یو این۔ ہیبیٹیٹ) نے پائیدار شہری ترقی کے ماڈل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ ان گارڈن سٹیز نے متعدد بین الاقوامی ایوارڈز جیتے ہیں، جن میں 2018 ورلڈ اسمارٹ سٹیز فورم میں ”سسٹین ایبل سٹیز ایوارڈ“ بھی شامل ہے۔
چین کی اربن پلاننگ کی یہ کوششیں مستقبل کی کوششیں سمجھی جاتی ہیں کیوں کہ ماحولیاتی اعتبار سے در پیش چیلنجز سے دنیا کے بڑے شہروں میں نمٹنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری دنیا کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

