پاکستان میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز: استحصال اور اصلاحات کی ضرورت


پاکستان میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز نہایت اہم خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ہونے والا برتاؤ اور دی جانے والی مراعات ان کے کام کی نوعیت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ دن رات اپنی خدمات فراہم کرنے والے ان گارڈز کو کئی مسائل کا سامنا ہے، جن میں غیر منصفانہ تنخواہیں، طویل اوقاتِ کار، اور مناسب قانونی تحفظ کا فقدان شامل ہیں۔

پاکستان کے زیادہ تر سیکیورٹی گارڈز سے روزانہ 12 گھنٹے اور ہفتے کے سات دن کام لیا جاتا ہے۔ لیکن آٹھ گھنٹے کے بعد اضافی چار گھنٹوں کا اوور ٹائم نہ تو ادا کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں ساتویں دن آرام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اگر کوئی گارڈ ہفتے کا ساتواں دن چھٹی کر لے تو اس دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کے لیے جسمانی اور ذہنی تھکن کا باعث بنتی ہے بلکہ ایک غیر منصفانہ نظام کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

کم تنخواہوں کی ایک بڑی وجہ سیکیورٹی کمپنیوں کے مابین ہونے والے معاہدے ہیں، جن میں بزنس حاصل کرنے کے لیے ریٹ اتنے کم رکھے جاتے ہیں کہ اس کا براہ راست اثر گارڈز کی تنخواہوں پر پڑتا ہے۔ کمپنیاں اخراجات کو پورا کرنے کے لیے گارڈز کی مراعات اور تنخواہوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں، جبکہ گارڈز کے کام کی اہمیت کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سیکیورٹی گارڈز کو عزت اور مناسب مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ جدید دنیا میں انہیں ”سیکیورٹی وارڈن“ یا ”سیکیورٹی افسر“ کہا جاتا ہے، اور ان کی خدمات کو ایک پروفیشنل شعبے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، یورپ، آسٹریلیا، اور دیگر ممالک میں طلبہ تقریباً تین سو پاؤنڈ کے عوض ایک سیکیورٹی کورس کرتے ہیں، جس کے بعد انہیں ایک لائسنس ملتا ہے۔ یہ لائسنس انہیں 11 پاؤنڈ فی گھنٹہ کے حساب سے ملازمت دلانے میں مدد دیتا ہے۔

یہ طلبہ ہفتے کے چند گھنٹے کام کر کے اپنی تعلیم اور رہائش کے اخراجات خود برداشت کر لیتے ہیں۔ اس نظام سے نہ صرف سیکیورٹی کا معیار بہتر ہوتا ہے بلکہ سیکیورٹی پروفیشن کو ایک باوقار حیثیت بھی دی جاتی ہے۔

پاکستان میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات ضروری ہیں :

اوور ٹائم اور ریسٹ ڈے : گارڈز کو 8 گھنٹے سے زائد کام کرنے پر اوور ٹائم کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، اور ساتویں دن کی چھٹی فراہم کی جائے۔

کم از کم تنخواہ کی حد: حکومت کو سیکیورٹی کمپنیوں کے معاہدوں کو مانیٹر کرنا چاہیے اور کم از کم تنخواہ کی حد کو نافذ کرنا چاہیے۔

پیشہ ورانہ تربیت: گارڈز کو جدید تربیت اور لائسنس کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کے کام کی اہمیت کو تسلیم کیا جا سکے۔

معاشرتی رویوں میں تبدیلی: عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیکیورٹی گارڈز معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ ضروری ہے۔

پاکستان میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز دن رات اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کی تنخواہوں، مراعات، اور رویوں میں بہتری کے بغیر یہ نظام استحصال کا شکار رہے گا۔ اگر ہم ترقی یافتہ دنیا کے اصولوں کو اپنائیں تو نہ صرف ان کی زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ سیکیورٹی پروفیشن کو بھی ایک باوقار مقام حاصل ہو گا۔ یہ صرف گارڈز کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثبت قدم ہو گا۔

Facebook Comments HS