کیا آپ کے دل میں بھی کوئی تعصب چھپا بیٹھا ہے؟


میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں
بعض انسان دوسرے انسانوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟
انہیں کم تر کیوں سمجھتے ہیں؟
ان سے تعصب سے کیوں پیش آتے ہیں؟
پھر میں سوچتا ہوں کہ
کوئی بچہ بھی تو متعصب پیدا نہیں ہوتا
بچے تو ماں باپ سے محبت اور دوسرے انسانوں سے پیار کرتے ہیں۔
تو پھر یہ محبت پیار کرنے والے بچے نفرت اور تعصب کرنے والے انسان کیسے بن جاتے ہیں؟
تو کیا یہ کہیں ماحول کا اثر تو نہیں؟

کیا آپ بھی کسی ایسے ماحول اور معاشرے میں پلے بڑھے ہیں جہاں رنگ اور نسل ’زبان اور مذہب‘ جنسیت اور قومیت کے حوالے سے آپ کے دل میں نفرت کے بیج بوئے گئے اور آپ کو دوسروں سے تعصب سکھایا گیا؟

کیا آپ نے جوان ہو کر ان تعصبات کو چیلنج کرنے کی اور دوسری قوم اور مذہب کے انسانوں سے دوستی کرنے کی کوشش کی؟

کیا آج بھی آپ کے دل کے نہاں خانوں میں کسی رنگ نسل زبان اور قومیت کے لوگوں کے لیے تعصب کے جذبات پائے جاتے ہیں؟

میں آپ کو اپنی زندگی کے دو واقعات سناتا ہوں جن سے آپ کو لوگوں کے دلوں میں اس تعصب کی شدت کا اندازہ ہو گا۔

پہلا واقعہ

میں جب وھٹبی کے نفسیاتی ہسپتال میں کام کیا کرتا تھا ان دنوں میرے ساتھ باربیڈوز کے ایک سیاہ فام نرس پول کام کیا کرتے تھے۔ جب ہماری دوستی ہو گئی تو انہوں نے مجھے اپنے گھر کھانے پر بلایا اور اپنی سیاہ فام بیوی نینا سے تعارف کروایا۔ جب ان سے دوستی کچھ اور بڑھی تو میں نے ان سے کہا کہ میری ایک ٹرینیڈاڈ کی سیاہ فام نرس انجیلا سے بھی دوستی ہے۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں اگلی دفعہ انہیں بھی اپنے ساتھ لے آؤں تا کہ آپ کی ان سے بھی ملاقات ہو جائے۔

پول اور نینا نے کہا
ضرور لے کر آئیں

لیکن جب میں انجیلا کو اپنے ساتھ لے کر گیا تو مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ پول اور نینا نے انجیلا سے بہت سرد مہری کا سلوک کیا۔

میں اس دن تو خاموش رہا لیکن اگلے دن ہسپتال میں جب میری پول سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا
آپ انجیلا سے اتنی سرد مہری سے کیوں ملے؟
پول کہنے لگے
’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ انجیلا کے بال گھنگھریالے ہیں‘
’میں سمجھا نہیں‘ ۔ میں نے اپنی کم علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

پول نے مجھے سمجھایا کہ انجیلا کا تعلق افریقہ سے ہے اس لیے اس کے بال ایفرو گھنگھریالے ہیں اور ہمارا تعلق ہندوستان سے ہے اس لیے ہمارے بال سیدھے ہیں۔

اس دن سے پہلے مجھے بالکل پتہ نہ تھا کہ کیریبین جزیروں جمیکا ٹرینیڈاڈ اور باربیڈوز میں دو طرح کے سیاہ فام بستے ہیں

گھنگھریالے بالوں والے افریقی نژاد
اور
سیدھے بالوں والے ہندوستان نژاد

اور سیدھے بالوں والے ہندوستانی نژاد اپنے آپ کو گھنگھریالے بالوں والے افریقی نژاد سے بہتر سمجھتے ہیں۔

دوسرا واقعہ

میں کئی سال پیشتر مسی ساگا میں ایک دوست کی شادی میں گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس محفل میں کچھ مہمان ایک سفید وین میں آئے۔ جب ان مہمانوں نے کہا کہ وہ شکاگو سے آئے ہیں تو میں نے گفتگو کو آگے بڑھانے کے لیے کہا

شکاگو میں میرے ایک دوست رہتے ہیں
ایک مہمان نے پوچھا
ان کا کیا نام ہے؟
میں نے کہا
افتی نسیم

افتی نسیم کا نام سنتے ہی وہ سب خاموش ہو گئے جیسے ان سب مہمانوں کو سانپ سونگھ گیا ہو اور ایک دوسرے کو حیران پریشان نظروں سے دیکھنے لگے۔

میں سمجھ گیا کہ کوئی راز کی بات ہے۔
ڈنر کے دوران جب ان مہمانوں سے بے تکلفی ہو گئی تو میں نے پوچھ ہی لیا
آپ سب افتی نسیم کے نام پر خاموش کیوں ہو گئے تھے؟
ان سب نے ایک دفعہ پھر ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھا پھر ایک مہمان نے دوسرے مہمان سے کہا
’ڈاکٹر صاحب کو اصل واقعہ بتا ہی دو‘

پھر دوسرے مہمان نے مجھے بتایا کہ جب وہ شکاگو میں گے پرائڈ پریڈ میں گئے تھے تو انہیں وہاں افتی نسیم ملے۔ ان سب نے مل کر افتی نسیم کو اٹھایا اس سفید وین میں بٹھایا اور شہر سے کئی میل دور اسے کسی ویرانے میں پھینک آئے۔

میں نے کہا

’افتی بیچارہ آپ کا کیا بگاڑ رہا تھا وہ گے ہے اور خوشی سے گے پرائڈ پریڈ میں حصہ لے رہا تھا۔ آپ نے افتی سے ایسا ظلم کیوں کیا؟‘

دوسرے مہمان نے کہا

’افتی نے اپنے ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔ یہ پاکستان کی توہین تھی ہم نہیں چاہتے تھے کہ امریکی یہ سمجھیں کہ پاکستان گے اور لیسبین لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ ‘

ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں نجانے کتنے ممالک ہیں جن میں
عورتوں اور کالوں
گے اور لیسبین لوگوں
مذہبی اور سماجی اقلیت کے لوگوں سے
دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
جب میرے دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ
انسان دوستی کی کیا تعریف ہے؟

تو میں کہتا ہوں کہ رنگ اور نسل ’زبان اور مذہب‘ جنسیت اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسانوں سے دوستی کرنا ہی انسان دوستی ہے۔

یہ میری خوش بختی ہے کہ میرے دوستوں کے حلقے میں
عورتیں بھی ہیں مرد بھی
کالے بھی ہیں گورے بھی
مسلمان بھی ہیں عیسائی بھی
سکھ بھی ہیں ہندو بھی
انارکسٹ بھی ہیں کمیونسٹ بھی
شیعہ بھی ہیں سنی بھی
پٹھان بھی ہیں پنجابی بھی

ایک انسان دوست ہونے کے ناتے میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب انسان ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ
کہیں آپ کے دل میں بھی بچپن کا کوئی تعصب اب تک چھپا بیٹھا ہو اور کسی محفل میں اچانک باہر آ جائے؟
کہیں آپ بھی لاشعوری طور پر اپنے بچوں کے دلوں میں کسی تعصب کا بیج بو رہے ہوں؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

3 thoughts on “کیا آپ کے دل میں بھی کوئی تعصب چھپا بیٹھا ہے؟

  • 28/01/2025 at 6:14 شام
    Permalink

    ویسے بڑی دل چسپ بات ہے کہ پاکستانی مرد کسی عورت کے ساتھ بغیر شادی ناجائز تعلقات رکھنے میں عار محسوس نہیں کرتے لیکن اگر انہی میں سے کوئی مرد کسی مرد یا کم عمر لڑکے کے ساتھ تعلقات رکھے تو یہی ہوتا ہے۔
    بات اگر گناہ ثواب کی ہو تو دونوں میں کیا فرق ہے ؟
    اسی طرح پاکستانی مرد اداکار انڈیا جاکر ہندوستانی اداکارہ کے ساتھ بوس و کنار کے مناظر فلم بند کرائے تو کچھ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہیں جب کہ کچھ محض ناک بھوں چڑھاتے ہیں (دل میں یہ حسد کہ میں کیوں نہ تھا)۔
    لیکن جب یہی گناہ پاکستانی اداکارہ یا ماڈل انڈیا جاکر کسی ھندوستانی مسلمان یا ہندو اداکار کے ساتھ کرے تو سوچا جاسکتا ہے کہ کیسا طوفان بدتمیزی مچ جاتا ہے۔

    • 29/01/2025 at 12:07 صبح
      Permalink

      Good point

    • 29/01/2025 at 9:47 شام
      Permalink

      یہ بھی تعصب کی ہی شکلیں ہیں۔
      عام زبان میں کہتے ہیں کہ ہمارا کتا ۔۔۔ کتا ہے اور تمہارا کتا ٹامی۔
      تعصب کی ایک اور شکل زبان بھی ہے۔ احساس کمتری اور برتری کو سمیٹے۔ یعنی برصغیر میں اردو یا ہندی بولنے والوں کو انگریزی بھاشا بولنے والوں سے تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو الٹا بھی ہوتا ہے ۔

Comments are closed.