وہ جن کے لیے ذائقوں پر سمجھوتا مشکل اور ضمیر پر سمجھوتا آسان ہے


میں نے کبھی غزہ اور فلسطین کے متعلق عوامی جگہوں پر اپنے خیالات نشر نہیں کیے۔ مجھے یہی لگتا تھا کہ پہلے مجھے اپنی زندگی کو وہاں لانا ہے جہاں میں نے اپنے ہاتھوں کو خونِ ناحق کے دھبوں سے بچانا ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اسرائیل کو سپورٹ کرنے والی پروڈکٹس اور برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم اور اعلانات ہوئے۔ جن کے اندر خدا نے کچھ رکھا تھا، جو اصلاً حساس تھے انہوں نے بائیکاٹ کر لیا۔ جن کے اخلاق اور ضمیر مردہ تھے انہوں نے جواز تلاش کر لیے۔

پاکستانی معاشرے میں زیادہ تر مذہبی اور قومی بنیاد پر مسائل کو سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ظلم کا صرف ایک پہلو سامنے آتا ہے، باقیوں پر نظر نہیں پڑتی۔ غزہ کے لوگوں پر اسرائیلی اٹیک جنگ کا ایک رخ تھا، دوسرا رخ میری اور آپ کے ضمیر کی آواز کا تھا۔ یہ ضمیر کی آواز پر کان دھرنے یا اسے نظر انداز کر کے اپنے Snobbism کی طرف پلٹ آنے کی جنگ تھی۔ اور اس میدان میں اکثریت ہار گئی۔

مجھے غزہ اور فلسطین کے لوگوں کی حمایت کرنا تھی اور اس کی بنیاد یہ نہیں تھی کہ وہ میرے ہم مذہب تھے۔ مجھے ان کی طرف داری مظلومیت کی بنیاد پر کرنا تھی۔ اور اسی پر کی۔ اگر کوئی شخص اپنوں کا ہی درد محسوس کرتا ہے، کسی اور کا نہیں تو اسے خود کو مظلوم کی جگہ کھڑا کر کے سوچنے کی ضرورت ہے۔

میں ہر خطے میں ہر اقلیت ہر محکوم اور کمزور پر ہونے والے ظلم کے خلاف ہوں، چاہے وہ افغانستان اور پاکستان کے اندر ہزارہ برادری پر ہو رہا ہو، چاہے چائنہ کے اندر ایغور مسلمانوں کے خلاف ہو، چاہے روس کی طرف سے یوکرینیوں پر جنگ مسلط کرنا ہو، بھارت کا کشمیریوں پر بربریت کرنا ہو، چاہے سعودیہ کی یمنیوں پر بمباری ہو، چاہے طیب اردوغان کی فوج کا معصوم اور نہتے کُردوں پر بم پھینکنا ہو۔

میرا سوال ہے کیا آپ ظلم کی مخالفت صرف تبھی کریں گے جب وہ آپ کی قوم پر ہو رہا ہو اور کرنے والے مخالف مذاہب اور اقوام سے ہوں؟ میری آپ سے گزارش ہے کہ ظلم کو مذہب سے الگ کر دیں۔ آپ نے اس کے خلاف رہنا ہے بھلے کرنے والا کوئی بھی ہو۔

ایک سوال اپنے شعور سے ضرور کریں اگر کوئی یوم آخرت نہ ہو، کوئی ثواب عذاب جیسی چیز نہ ہو تو تب کیا کریں گے؟ آرام سے ظالموں والی سائڈ منتخب کر لیں گے؟ میکڈونلڈ کی کافی کے گھونٹ آپ کا گلا پکڑے بنا اتر جائیں گے؟ کے ایف سی کے برگر کھاتے رہے گے؟

ظلم کے خلاف ہوئے ہیں تو بغیر کسی غرض اور عصبیت کے ہوں۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو بائیکاٹ آپ نے جنگ بندی کے اعلانات سے پہلے کیا تھا اس پر قائم رہیں۔ ان برانڈز کے دیے پیسوں سے جن لوگوں کی جانیں گئی ہیں وہ واپس نہیں آ سکتیں، وہ کسی بھی طور واپس نہیں آئیں گی۔ کنٹرول + زی پریس کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہے، غزہ کے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی ”اَن ڈو“ نہیں ہے۔ اس لیے بائیکاٹ فار ایور ایور ایور کریں۔ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور برانڈز جنہوں نے بے قصور لوگوں کو آگ میں جھونکا ہے انہیں کم سے کم میری اور آپ کی سپورٹ ہماری زندگی کے آخری سانس تک واپس نہیں ملنی چاہیے۔ بائیکاٹ محض علامتی اور دکھانے کا کام نہیں ہے، یہ عملی طور پر کام کرتا ہے اور کمپنیاں اپنے فیصلوں اور پالیسیوں پر پھر سے غور کرتی ہیں۔ یہ بالکل بھی معمولی عمل نہیں ہے۔

میں نے جب ان سب برانڈز کا بائیکاٹ کیا تھا تو یہی سوچا تھا کہ غزہ کی یک طرفہ جنگ چاہے اسی لمحے ختم ہو جائے تب بھی میں نے بائیکاٹ ختم نہیں کرنا۔ فلسطینوں کے لیے کچھ اَن ڈو نہیں ہو گا تو برانڈز کی خاطر میرے شعور اور ضمیر کے فیصلے کو بھی اَن ڈو نہیں ہونا چاہیے۔ جو لوگ پیسوں سے مظلوموں کی مدد نہیں کر سکتے، اس جگہ پر جا کر عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے انہیں کم سے کم اپنی زندگی اور حالات کے مطابق ان برانڈز کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ بائیکاٹ وغیرہ سے کچھ نہیں ہوتا، انہیں میری اور آپ کی لعنت ملامت کی بھی ضرورت نہیں ہے انہیں ان کے ضمیر کی طرف سے بھیجی جانے والی لعنت بہت ہے۔ ہاں ایک چیز ضرور کریں کہ ایسے لوگوں سے فاصلہ رکھیں۔

Fake philanthropists who are just loyal to their Snobbism.

جنہوں نے زبان کے چسکے کو آگے رکھا، جن کے لیے برانڈ چوائس کو بدل لینا ممکن نہیں تھا، یہ بھول گئے کہ انہی کے دیے پیسوں سے لوگ مر رہے ہیں اور گھر جل رہے ہیں۔

یہ ”جعلی انسان دوست“ لوگ اگر آئندہ آپ کو کبھی انسانیت وغیرہ کے لیکچرز دیں تو کان لپیٹ لیں، یہ دو نمبر ہیں۔

اور آخری بات؛ یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے اگر ہم انسانیت کے خلاف ہونے والے ہر جرم پر یکجا ہوں، بغیر کسی مذہبی اور قومی عصبیت و تعصب کے۔ کیوں کہ انسانیت کا دفاع ہمارا مذہبی ہی نہیں شعوری فرض بھی بنتا ہے۔ تماشا سب دیکھ سکتے ہیں، ہمیں عمل کرنے والا بننا ہے اور اس کی شروعات بائیکاٹ سے۔

(سنوب ازم ایک بیمارانہ رویہ ہے جس میں مبتلا لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ خاص سماجی، معاشی، تعلیمی، خاندانی یا ثقافتی پس منظر کی بنیاد پر اوروں سے برتر ہیں۔ سنوب ازم میں مبتلا لوگ باقیوں کو خود سے نیچے دیکھتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ کھانے، پہننے، اوڑھنے، رہنے سہنے حتیٰ کہ سوچنے میں بھی وہ دوسروں سے بلند ہیں۔ دوسروں کے معیار ان سے میچ نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگ جب دوسروں کو اپنے جیسا سمجھیں گے نہیں تو ان کے مسائل ان کے مسائل کیسے بنیں گے اور وہ ان کے لیے عملی طور پر کیا کریں گے، یہ انسانیت مخالفت رویہ ہے جو خود کو باشعور کہنے اور سمجھنے والے لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے )

Facebook Comments HS