لطیف آفریدی: مظلوموں کی توانا آواز
میری زندگی میں جن شخصیات نے مثبت اثرات ثبت کیے ہیں ان میں وطن عزیز کے نامور ممتاز وکیل لطیف آفریدی بھی ہیں۔ پاکستان میں جہاں جہاں مظلوم ہوتا وہاں لطیف آفریدی ظالم کے خلاف مظلوم کے حق میں اک ننگی تلوار کی مانند کھڑے نظر آتے تھے۔ آج لطیف لالہ کو بچھڑے ہوئے دو برس بیت گئے ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو یہ بالکل غلط نہیں ہو گا کہ اس سماج کا ہر مظلوم یتیم ہو گیا ہے اور لالہ کی طرح کسی توانا آواز کی تلاش میں در بدر پھرنے پہ مجبور ہے۔ لطیف آفریدی کا تعارف کروانا میرے خیال میں لطیف آفریدی اور اس ملک کے لاکھوں مظلوموں کی توہین ہو گا جن کا تعارف ہی لطیف آفریدی تھے۔
لطیف لالہ کا تعارف اس وطن میں بسنے والی ہر وہ یتیم بچی ہے جس کو اس پدر سری معاشرے نے تعلیم سے محروم رکھنے کے لیے کالج سے نکال دیا اور لالہ حالات کی پرواہ کیے بغیر تن تنہا پورے نظام کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو گئے اور اس بچی کو تعلیم کا حق دلوا کر ہی سکھ کا سانس لیا جو آج اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے۔ لطیف لالہ کا تعارف وہ سینکڑوں وکلاء ہیں جو غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم تھے اور آج لالہ کی تعلیم دوستی کی بدولت عدلیہ کا مان ہیں۔ لطیف لالہ کا تعارف پوچھنا ہے تو ان لاکھوں مزدوروں سے پوچھو جن کو سرمایہ دار نے فیکٹریوں سے نکال دیا یا ان کو ان کی مزدوری کا معاوضہ نہیں ملتا تھا تو لطیف لالہ سرمایہ دار کے خلاف ڈراؤنا خواب بن جاتے تھے۔ لطیف لالہ کا تعارف پوچھنا ہے تو ان لاکھوں کسانوں سے پوچھو جو جاگیردار کے مظالم سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کرتا ہے تو لالہ اس کی ڈھارس بندھاتا ہے اور اک امید کی کرن بن کر اسے اک نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ لطیف لالہ کا تعارف پوچھنا ہے تو ملک کے ان کروڑوں سیاسی کارکنوں سے پوچھو جن کو political victimization میں سلاخوں کے اندر ڈالا جاتا تھا تو لالہ ان کے حق میں حاکم وقت کے سامنے دست و گریباں نظر آتے۔
لطیف آفریدی کی سیاسی زندگی کا آغاز باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے اور جمہوری روایات سے شروع ہو کر پاکستان کے کروڑوں مظلوموں اور وکیلوں کی نمائندگی پر اختتام پذیر ہوا۔ لالہ کی آواز ہمارے معاشرے میں اتنی توانا تھی جس نے جابروں اور طاقت کے ایوانوں میں مسلسل اک لرزہ مسلط کیا ہوا تھا۔ 1964 میں پشاور یونیورسٹی میں پاکستان سٹوڈنٹ فیڈریشن کے نام سے ایک طلباء تنظیم کی بنیاد رکھی اور اپنے پیشہ ورانہ امور کی ابتداء افضل بنگش کے لاء چیمبر سے کی۔ 1979 میں پاکستان نیشنل پارٹی میں شامل ہوئے اور صوبائی صدر منتخب ہوئے۔ 1997 سے 1999 تک این اے 46 سے قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔ لطیف لالہ کی گراس روٹ لیول پر پکڑ بہت مضبوط تھی شاید یہی وجہ تھی کہ ان کو پاکستان کی ترقی پسند سیاست میں ایک بہت اہم مقام حاصل تھا۔ ولی خان، غوث بخش بزنجو، قسور گردیزی، امام نازش، سرفراز لالہ، افضل خان لالہ، افراسیاب خٹک، میاں افتخار حسین، جمیلہ گیلانی، بشریٰ گوہر، عصمت شاہجہاں، اجمل خٹک، حاجی غلام احمد بلور، مختار باچا، امتیاز عالم، عاصمہ جہانگیر، رضا ربانی، میر حاصل بزنجو اور محمود اچکزئی کا شمار ان کے سیاسی رفقاء میں ہوتا تھا۔ بعد ازاں لالہ اور ان دیگر سیاسی رفقاء نے پی این پی کا نام تبدیل کر کے ایک نئی سیاسی جماعت قومی انقلابی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کی ناکامی کے بعد لطیف لالہ اے۔ این۔ پی میں شامل ہوئے لیکن اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر لالہ کو ان کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اے این پی سے نکال دیا گیا جس کے بعد انہوں نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کی بنیاد رکھی۔
لطیف آفریدی نے وکلاء برادری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا تھا جو اس ملک میں بہت ہی کم لوگوں کو میسر آیا۔ انہوں نے پانچ دفعہ بحیثیت صدر پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اپنی خدمات سرانجام دیں۔ اگر یہ کہا جائے تو اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہو گا کہ لالہ نے زندگی گزاری تو مظلوموں اور وکلاء کے حقوق کی جنگ میں گزاری اور جان بھی دی تو اپنے اسی مقصد پر قربان کر دی۔ آخری مرتبہ لطیف آفریدی نے اشرافیہ اور ریاست کی بھرپور مخالفت کے باوجود صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا انتخاب بھاری اکثریت سے جیتا اور اس دن جب میں نے لالہ کو فون کر کے مبارکباد دی تو لالہ کی فون پہ آواز خوشی و مسرت کا اظہار کر رہی تھی جواباً لالہ نے فون پہ مجھے یہ نہیں کہا کہ میں الیکشن جیت گیا ہوں بلکہ لالہ کے الفاظ تھے لودھی ہم نے الیکشن جیت لیا ہے جس سے لالہ کی شخصیت کے دو پہلو عیاں ہوتے تھے کہ لالہ اپنی خوشی میں ہر شخص کو شامل کرتے تھے اور دوسرا پہلو وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے سماج کے لیے جیتے تھے۔
لطیف آفریدی کے ایک بہت قریبی رفیق لالہ یونس نے لطیف لالہ کی پیشہ ورانہ زندگی کے ابتدائی دنوں کا ایک واقعہ سنا کر ہمیں یہ بات سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ لطیف لالہ غریب پروری جیسی خصوصیت لے کر پیدا ہوئے تھے کہ جب انسان پر جوانی اپنے جوبن پر ہوتی ہے تو وہ سب سے پہلے اپنی ذات کے بارے میں سوچتا ہے، اپنے کیریئر کے بارے میں سوچتا ہے لیکن لالہ نے عین اس ابھرتی ہوئی جوانی کے دور میں بھی ایک غریب مزدور کے حق میں سوچا اور بھٹو کے دور اقتدار میں ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان سے نکالے گئے ایک غریب مزدور کا کیس بلا معاوضہ لڑا۔
لطیف آفریدی سے ہمارا تعلق تین نسلوں پر محیط ہے جس میں میرے دادا مرحوم اقبال لودھی اور والد انیس لودھی مختلف ادوار میں لطیف لالہ کے شریک سفر رہے اور میرا گاؤں سرائے صالح ہری پور ایک زمانے میں ترقی پسند سیاست کا محور و مرکز رہا جہاں میرے والد اور دادا نے کسان کانفرنس کی میزبانی کی اور جواہر لال نہرو، سبھاش چندر بوس، باچا خان، ولی خان اور محمد حسین عطا سیکرٹری جنرل آف کمیونسٹ پارٹی کی مہمان نوازی کا شرف بھی پایا۔ بقول میرے والد لطیف آفریدی نے سرائے صالح میں واقع معروف ماچس فیکٹری کے بے دخل سینکڑوں مزدوروں کی بحالی کا کیس بلا معاوضہ لڑا۔
لطیف آفریدی سے راقم کا تعارف 2011 میں میرے استاد پروفیسر شاہجہاں وگڑپال نے اس وقت کروایا جب ہم نے بچیوں کی تعلیم کے حق کے لیے ایک مہم شروع کی ہوئی تھی۔ اس موقع پر کے۔ پی۔ کے کے اکثریتی تعداد میں وکلاء نے حکومت کے دباؤ کی وجہ سے بچیوں کی تعلیم کے حق کا کیس لینے سے انکار کر دیا تو اس وقت صرف لطیف آفریدی نے نہ صرف کیس لڑا بلکہ بچیوں کو ہائی کورٹ سے تعلیم کا حق دلوا کر دیا۔
لطیف آفریدی ایک ایسی کرشماتی شخصیت کے مالک تھے جن کی ظالم اور جابر کے خلاف گھن گرج ان کو پاکستان کے تمام بڑے قد کاٹھ والی شخصیات سے ممتاز کرتی تھی اور اسی خوبی نے مجھے پہلی ہی ملاقات میں لالہ کا گرویدہ بنا دیا تھا اور پھر یہ تعلق ان سے مرتے دم تک قائم رہا۔



