قدوس بھائی کی گیارہویں اورحاجی ظہور زعفرانی کا میلاد، نہ کوئی فتنہ نہ فساد

چار دہائی قبل گھروں کے داخلی دروازے کھلے رکھنے کا رواج تھا۔ بچے اور خواتین بلا اجازت کسی کے گھر میں بھی داخل ہوجاتے تھے اور کوئی برا نہیں مناتا تھا۔ 1971ء میں جنگ کے موقع پر اہل محلہ نے گھر کے سامنے واقع باغ میں خندقیں بھی کھودیں جن کی کھدائی میں بڑوں کے ساتھ بچوں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل محلہ شہری قوانین، حفاظتی تدابیر اور سماجی بہبود کے حوالے سے مکمل آگاہی رکھتے تھے۔ اس وقت یہ صورتحال ہے کہ شہریوں کی اپنے پڑوسیوں سے چہروں کی حد تک شناسائی ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا ناپید ہوتا جارہا ہے کیونکہ ہم لسانی، مسلکی و مذہبی طور پر تقسیم ہوچکے ہیں۔
کراچی کے شہری ہونے کے ناتے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھا کہ جب نام نہاد و خود ساختہ امیر المومنین، مرد مومن مرد حق فوجی آمر ضیاالحق نے امریکی اشارے پر 5 جولائی 1977ء کو جمہوریت پر شب خون مارا اور اپنے اقتدار کی طوالت اور امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے منتخب وزیراعظم کا عدالتی قتل کیا اور افغان جنگ کو جہاد کا نام دے کر قوم کو نسلی، علاقائی، لسانی اور مذہبی و مسلکی اکائیوں میں تقسیم کرکے ہمیشہ کے لیے تعصب اور فرقہ واریت کے اندھیرے کنویں میں دھکیل دیا۔ افغان جنگ کے دوران منشیات اور ناجائز اسلحے کے کاروبار نے افغان مہاجرین کی آمد کے ساتھ پورے ملک خصوصاً کراچی میں، کبھی ختم نہ ہونے والے ڈیرے جمالیے جس کی وجہ سے شہری محتاط ہو گئے اور شہریوں کے سماجی رویے بھی تبدیل ہوگئے۔ گھر کے سامنے واقع باغ میں جہاں کبھی بڑے، بوڑھے شام کے اوقات میں بیٹھا اور بچے کھیلا کرتے تھے۔ خواتین جو رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرتی تھیں، ختم ہو گیا کیونکہ باغ میں اب منشیات فروشوں اور اوباش افراد نے ڈیرے جمانے شروع کر دیے تھے۔ قدوس بھائی اور غفران بھائی جو ہمارے پڑوسی بھی تھے اور پڑوس میں ان کی دکان بھی تھی۔ تمام دن بچوں پر نظر رکھا کرتے تھے اور کھیلتا دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ اب بچوں سے گھر میں رہنے کو کہا کرتے تھے۔ جن سڑکوں پربچے و بڑے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ جس باغ میں اہل محلہ اپنے بچوں کی شادی، گیارہویں اور محفل میلاد کا انعقاد کیا کرتے تھے۔ اب وہ اجڑ چکا ہے۔ کراچی کونہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ جہاں سب شہری بلا رنگ و نسل، زبان اور مسلک امن و سکون سے رہتے تھے۔ اب کسی کے گھر یا محلے میں ہونے والی سماجی ومذہبی مجالس پر آواز اٹھاتے ہیں اور لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ لسانی تعصب کی بنیاد پر جن گلیوں میں پلے بڑھے، ایک دوسرے کا قتل کرتے ہیں۔
امید ہمیشہ اچھی ہی رکھنی چاہیے اس لیے امید کرتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوں گے۔ حکومت کی غفلت اور ذمہ داری سے انکار نہیں لیکن حالات کو دوبارہ سازگار بنانے میں شہریوں کا مثبت کردار اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ شہری ہی اتحاد اتفاق قائم کرکے کراچی کو دوبارہ امن و آشتی کا گہوارہ بناسکتے ہیں۔ دعا ہی کرسکتے ہیں کہ پھر سے گلی، محلے میں سماجی اور ہر مسلک کی دینی محافل کا انعقاد ہو، نہ کوئی فتنہ ہو نہ فساد ہو۔

