بڑھاپے میں قوت بحال کیسے رکھی جائے؟


پچاس ساٹھ سال کی عمر میں جسم کے اعضا کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں، قوتِ مدافعت کم ہوجاتی ہے، بیماریوں کی افزائش میں تیزی آجاتی ہے۔ ڈھلتی عمر کے افراد کی سب سے بڑی فکر لگاتار گِرتی صحت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو کمزوری نہ ہو، بڑھاپا نہ آئے۔ اس فکر مندی میں وہ مرغن، مسکن اور ثقیل غذائیں استعمال کرتے بلکہ خوراک میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔ لہذا نظام انہضام سست ہوجاتا ہے، بھوک کی کمی، خون کی کمی، گیس، قبض، شوگر، پراسٹیٹ انلارجمنٹ، دل کے امراض اور فالج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

بوڑھے افراد زیادہ اور ثقیل خوراک لیں گے تو قوت کی بحالی کی بجائے کمزوری بڑھتی جائے گی۔ مثلاً اگر آپ پراسٹیسٹ کی سوزش کے مریض ہیں تو دیسی گھی، انڈے کی زردی، مٹن، بیف، اخروٹ یا پائے وغیرہ کھائیں گے تو پراسٹیسٹ کی سوزش بڑھے گی نتیجتاً صحت کمزور ہوگی۔

بڑھاپا میں صحت اور قوت بحال رکھنے کے لیے نظام انہضام کا فعال ہونا سب سے ضروری ہے۔ اگر میٹابولیزم ٹھیک ہو گا تو خوراک جسم کا حصہ بنے گی، جسم کے لیے مفید ثابت ہوگی، خون کی مقدار پوری رہے گی۔ نظام انہضام ہی کی بدولت گیس، قبض، بواسیر، بلڈ پریشر، دل، معدہ و جگر کی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

پچاس پچپن سال کے افراد بیماریوں سے بچاؤ اور قوت کی بحالی کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں۔

پانی ہمیشہ تازہ اور ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔ ہر قسم کے جوس شربت بند کر دیں۔ مشروبات سے آنتوں میں سُکڑاؤ پیدا ہوتا ہے، قبض گیس اور پیٹ درد کا مسئلہ بنتا ہے، اعصاب مضمحل، پِلپلے اور ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے، ہڈیاں کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔

دودھ پتی / گرم دودھ (بالائی اتار کر ) پی سکتے ہیں، بلغم، کیرا کے مریض دودھ استعمال نہ کریں۔ پھیپھڑوں کی طاقت کے لیے دودھ پتی مفید ترین غذا ہے۔

روٹی ہمیشہ خشک اور تازہ کھائیں۔ میدہ سے بنی اشیا بازاری روٹی، نان اور تمام بیکری پروڈکٹس سے اجتناب کریں۔

صرف وائٹ گوشت استعمال کریں۔ چکن، دیسی مرغ، شکار کا گوشت، خرگوش وغیرہ خوب کھائیں۔

مٹن اور بیف سے مکمل پرہیز کریں۔ جو افراد کسی بیماری کا شکار نہیں وہ مٹن (صافی گوشت) کم مقدار میں کھا سکتے ہیں۔

بڑھاپا میں پائے، سری، زبان، اوجڑی، مغز، کلیجی سے پرہیز کریں، ہمیشہ صافی گوشت کھائیں۔

تلی ہوئی اور شوربے والی دونوں طریقوں سے تیار شدہ مچھلی سے اجتناب کریں۔ بھاپ پر تیار شدہ یا کوئلہ پر گرل کی گئی مچھلی کھا سکتے ہیں۔ مچھلی کا صرف سفید گوشت استعمال کریں، جلد الگ کر دیں۔

اگر کسی بیماری میں مبتلا نہیں تو خشک میوہ جات بہت معمولی مقدار میں روزانہ لے سکتے ہیں لیکن اگر کولیسٹرول، دل، دماغ، فالج یا پراسٹیٹ کا مسئلہ ہے تو کجھور اور انجیر کھا سکتے ہیں۔ بادام، اخروٹ، مونگ پھلی اور کاجو سے پرہیز کریں۔

مٹھائیوں اور بازار کے کھانوں سے پرہیز کریں۔

سالن میں چکنائی اتنی ڈالیں کہ سالن پک سکے، کوکنگ آئل استعمال کریں، سالن شوربے والا استعمال کریں۔

کدو، توری، مولی، شلغم یہ سبزیاں زیادہ کھائیں، کچی سبزیوں کا سلاد نہ لیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں ساگ پالک وغیرہ کم کھائیں، پھلیوں اور دال ماش سے پرہیز کریں۔

کھانا دو وقت کی بجائے تین وقت کھائیں مگر کم کھائیں، رات کے کھانے کے ایک گھنٹہ بعد ہلکی واک کریں۔

کیلے کے علاوہ تمام پھل کھا سکتے ہیں، بلغم کیرا کے مریض کینو مالٹا فروٹر سے پرہیز کریں، پپیتا بہت مفید پھل ہے، معدہ و جگر کی اصلاح کرتا ہے، قبض توڑتا ہے۔ سیب چھلکا اتار کر کھائیں، امرود کا بیج نکال امرود بھی کھا سکتے ہیں۔

عمر کے ساتھ ساتھ طرز زندگی میں بدلاؤ لانا اچھی صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بہت ضروری ہے، ان ہدایات پر عمل کریں۔ نہ صرف بیماریوں کی شدت کم ہوگی ادویات کی ضرورت میں بھی کمی واقع ہوگی۔ بڑھاپا کم تکلیف دہ ثابت ہو گا۔

Facebook Comments HS