پیکا اور آزادی


کچھ دن پہلے یہ خبر نظر سے گزری کہ پاک پتن میں ایک فرد کو اس لیے گرفتار کیا گیا کہ اس کے واٹس ایپ گروپ میں کسی شخص نے سی ایم پنجاب کے خلاف کوئی بات شیئر کی تھی۔ یہ اس واقعہ کا تسلسل ہے جہاں پیکا میں کچھ تبدیلیاں کر کے دیگر عوامل سمیت فیک نیوز کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مختلف قوتوں کے سائبر سیل موجود ہیں جو ٹویٹر ٹرینڈ چلانے اور اختلاف رائے رکھنے والے افراد کی کردار کشی کرنے کے حوالے سے بھرپور طاقت رکھتے ہیں۔ لہذا ان اقدامات پر بات چیت کرنا لازم ہو جاتا ہے۔

خود یورپ کے ممالک جیسا کہ جرمنی، اٹلی، برطانیہ میں دیکھا گیا کہ شدید دائیں بازو کی پارٹیاں یا قوتیں جمہوری آزادیوں کا استعمال کر کے اپنی قوت بڑھاتی رہیں اور اب یورپ بھر میں پھر سے فسطائیت کی وہ لہر دیکھی جا رہی ہے جو 1933 ء کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ یہ ہی وہ سوال ہے جس پر دنیا بھر میں بحث جا رہی ہے، کہ کیا جمہوری آزادیوں کو اس حد تک جھول دیا جاسکتا ہے کہ غیر جمہوری قوتیں ان آزادیوں کو استعمال کر کے جمہوریت کو نقصان پہنچا سکیں؟ یہی بات کارل پوپر نے اپنی کتاب ”The open society and its enemies“ میں کہی کہ ”لامحدود برداشت لازمی طور پر عدم برداشت کو فروغ دیتی ہے۔“

جب لوگ ایک کے بعد دوسرے سیاسی لیڈران سے بیگانے ہوتے جا رہے ہوں تو طاقت کے حلقوں کا معلومات کو کنٹرول کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے یورپ کے سیاہ ادوار میں چرچ نے مختلف قوانین کے ذریعے معلومات کے فروغ کو روکنے کی کوشش کی تھی اور حد تو یہ تھی کہ پرنٹنگ پریس پر پابندی تھی کہ وہ بائبل کے علاوہ کچھ اور نہیں چھاپ سکتے۔

پھر وکٹورین دور میں بھی نام نہاد ثقافت اور شرفاء کی رسوم و رواج کے نام پر تنقید اور اظہار رائے پر قدغنیں لگائی گئیں۔ اس کی وجہ بھی نو آبادیاتی نظام تھا جس کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ ایک بیہودہ قسم کے ”اطاعت“ کے رواج کو فروغ دیا جا سکے کہ جس میں مقتدروں پر عام افراد تنقید نہ کر سکیں۔

جب امریکہ میں رنگ و نسل کی بنیاد پر نسلی امتیاز کے قوانین موجود تھے تو بائیں بازو اور ایسی کتب جو اس مظہر کے خلاف آواز بلند کرتی تھیں پر پابندی عائد کردی گٗی۔

قوانین وہ ہوتے ہیں جو سب پر یکساں لاگو ہوں ورنہ یہ بربریت ہی ہوتے ہیں۔ ہر گزرتے سال پاکستان کے حکمران طبقات اپنے اوپر ذرہ برابر تنقید بھی برداشت کرنے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ چاہے ایوب خان کے دور میں بائیں بازو کے چھاپہ خانوں یا اخبارات پر پابندی ہو، یا بھٹو دور میں بائیں بازو پر مختلف پابندیاں، ضیاء دور کی شدت پسندی ہو، مشرف دور کی ایمرجنسی، عمران خان کی پیکا، یا اس دور کا معلوماتی جبر، ان سب میں تنقید کا گھیرا سکڑتا جا رہا ہے۔

جو خطرہ ان سب کو لاحق ہے وہ معلومات کی فراوانی ہے۔ مارشل مک لوہان نے اپنی کتاب ”Understanding Media: The extensions of man“ میں لکھا تھا کہ ”میڈیم ہی پیغام ہے“ ٹیکنالوجی کوئی سی بھی ہو وہ معاشرتی ڈھانچے، فرد اور اس کے نیورون تک کو تبدیل کرنے کی سکت رکھتی ہے۔ کتب نویس قدیم بادشاہت کو خطرہ محسوس ہوتے تھے کیونکہ ان کا وجود خودساختہ طور پر شاہ کا اینٹی تھیسس تھا، پھر پرنٹنگ پریس نے معاشرتی ڈھانچوں کو تبدیل کر دیا، جہاں یورپ میں نشاۃ ثانیہ اور پھر صنعتی انقلاب ایک دوسرے کو جلا بخشتے رہے۔ لیکن کمپیوٹر چپ نے جو معلوماتی انقلاب برپا کیا اس نے معاشرے میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما کی ہیں۔ میرے اور آپ کے چھوٹے سے فون میں لائبریری آف الیگزینڈریا سے زیادہ کتب ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں، اور پہلے کی طرح ممنوعہ لٹریچر اور کتب جس کو پرنٹ اور سمگل کرنے کے جرم میں پتہ نہیں کتنے انسان تختہ دار پر لٹکائے گئے ہوں گے آج دو تین منٹ کی گوگل سرچ سے با آسانی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

جوانی میں ہم دیکھتے تھے کہ ٹی وی پر سینسر بہت شدید تھا، ایسا لگتا تھا کہ معاشرہ وہیں کھڑا ہے۔ کچھ ذہین لکھاری پھر بھی گھما پھرا کر اپنی بات کہہ دیتے تھے، جیسے ففٹی ففٹی کے ایک خاکے میں ”یہ سب گل کی سازشوں کا نتیجہ ہے“ وغیرہ وغیرہ، لیکن بہرحال عمومی رجحان جمود کا ہی تھا۔ حتیٰ کہ جب مشرف دور میں نواز شریف کو سزا سنائی گئی اور لاہور سے احتجاج شروع ہوا تو ٹی وی پر سب اچھا ہے کہ نوید سنائی جا رہی تھی۔

لیکن، پھر ہم نے نوجوانی میں دیکھا کہ ایک بلا انٹرنیٹ کے نام سے آئی۔ پہلے ایم آئی آر سی، پھر آرکٹ، فیس بک، یو ٹیوب وغیرہ میدان میں داخل ہوئے اور لوگوں نے ”عمرانیات کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے“ گروہ بنانے اور ڈھونڈنے شروع کیے۔ جتنی تیزی سے حکومت روایتی ذرائع ابلاغ استعمال کر کے خبر پھیلاتی تھی، اسی رفتار سے ایک متضاد رائے انٹرنیٹ کی دنیا میں پھیلتی نظر آتی تھی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ پیمانہ غیر روایتی میڈیا کی طرف بھاری ہوتا رہا اور اب یہ حال ہے کہ سوشل میڈیا روایتی میڈیا سے کئی گنا زیادہ افراد تک پہنچ رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ حکومتوں کے پاس اس کو سینسر کرنے کے جامد طریقہ کار نہیں موجود۔ ہاں، ایران اور چین کی طرح فائر وال لگائی جا سکتی ہے لیکن ایک روایتی کاروباری ملک ہونے کے باعث یہ کرنا بھی اب اس طرح ممکن نہیں رہا۔

تو پھر دوسرا حربہ رہ جاتا ہے کہ لوگوں کی سوچ اور رائے پر پابندی لگائی جائے۔ ایک ایسا بیانیہ قائم کیا جائے کہ اشرافیہ میں کچھ خاص ہے جو عام لوگوں میں نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ جہاں پاکستان میں جمہوریت کو پنپنے کے لیے سازگار ماحول نہیں ملا تو وہیں اس وجہ سے سیاسی، فلسفیانہ اور شعوری مثبت تنقید کا کلچر قائم نہ ہوسکا۔ کتنے لوگ پاکستان میں احتجاج کا بنیادی اور جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے اپنے دیگر بنیادی حقوق کے لیے ایک پر امن احتجاج کر سکتے ہیں؟ اگر کوئی احتجاج کرے تو ان کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روایتی طور پر صرف مذہبی جماعتیں طاقت کے زور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی ہیں باقی سب جو بھی کر لیں نہ تو ان کی سنی جاتی ہے اور نہ ان کو ایسا کرنے کا موقع ملتا ہے۔

جہاں پر یہ حقوق میسر نہیں ہوتے پھر وہاں ایک سماجی تناؤ اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے۔ سیاسی اختلاف اور حق رائے دہی اس تناؤ کو ایک تخلیقی راستہ فراہم کرتا ہے کہ وہ سیاست، آرٹ اور دیگر ذرائع سے اظہار کرسکے۔ جب یہ موقع نہیں ملتا تو وہ نفرت کی شکل میں ابھرتا ہے۔ شاید ہم نے اتنی پابندیاں، کنٹرول اور قوانین کو استعمال کر کے معاشرے کو تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کی کھائی میں دھکیل دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کے سیاسی اور شعوری اظہار کو سمجھا جائے نہ کہ اس کو کچلنے کے طریقے استوار کیے جائیں۔

Facebook Comments HS