جنگل کا قانون اور ساز باز کرتی پولیس


خیبر پختون خوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ میں ٹریفک کنٹرول کے دوران ایک کار ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کی بنیاد پر بڑھنے والے جھگڑے کے نتیجے میں پولیس افسران کی ملی بھگت سے جرگہ کے فیصلہ کی آڑ میں ایک برقع پوش خاتون نے ’حساب برابر‘ کرنے کے لیے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارے۔ اب سوال کیا جا رہا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز موجود ہے یا سڑک روک کر غیرت کا نعرہ لگانے والا کوئی بھی شخص اپنی مرضی نافذ کرنے میں خود مختار ہے۔

یوں تو یہ واقعہ ایک چھوٹے سے علاقے میں معمولی جھگڑے اور پولیس اہلکار کی مبینہ بدسلوکی کی وجہ سے پیش آیا ہے لیکن اس میں جو کردار سامنے آئے ہیں اور جیسے رویوں کا مظاہرہ کیا گیا ہے، وہ پورے ملک میں حکمرانی کی صورت حال اور قانون کے احترام کے بارے میں سنجیدہ سوالات سامنے لاتے ہیں۔ ان سوالات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں عام شہریوں کے ساتھ پولیس کی بدتمیزی معمول کی بات ہے۔ اسے کسی صورت جائز قرار نہیں دیا سکتا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر پولیس افسر ہی اپنی جان چھڑانے، عوامی احتجاج سے بچنے اور کسی بھی طرح ایک وقوعہ سے پیدا ہونے والا مسئلہ حل کرانے کے لیے خود اپنے ہی ماتحت پولیس اہلکار کی توہین کرانے پر مجبور ہوں گے تو ملک میں قانون کا رکھوالا کون ہو گا؟

متعدد شکایات اور روزمرہ کی بنیاد پر پیش آنے والے واقعات کے باوجود کسی بھی صوبے یا مرکزی سطح پر کبھی پولیس کے عوام کے ساتھ سلوک کے حوالے سے اصلاح احوال کی کوئی موثر کوشش دیکھنے میں نہیں آئی۔ پولیس کے بے پناہ طاقت کی ایک وجہ تو قانون کے تحت اسے حاصل اختیارات ہیں جسے ناجائز طریقے سے استعمال کر کے پولیس اہلکار رشوت کے ذریعے وسائل جمع کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سیاسی قیادت اور حکمران پارٹیاں پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ حکمران طبقات چونکہ خود ہی پولیس یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کے اہلکاروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے قانون، قاعدے اور اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ لہذا پولیس کی بھی خود اس سے بڑھ کر غیرقانونی حرکتیں کرنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ یعنی جس قیادت کو پولیس میں مہذب رویہ اختیار کرنے اور عوام کو سہولت بہم پہنچانے کی طرف راغب کرنا چاہیے، وہ خود ہی اپنے قلیل المدتی فائدے کے لیے پولیس فورس کو استعمال کر کے اس ادارے میں پائی جانے والی علتوں میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ مقامی سطح سے لے کر مرکزی سطح تک سیاسی قیادت کو اس حوالے سے خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہیے، تاکہ روزانہ کی بنیاد پر ملک میں قانون کے ساتھ کیے جانے والے مذاق کا سلسلہ بند ہو سکے۔

پولیس اور عوام کے تعلق کے حوالے سے کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کسی بھی علاقے کے کسی بھی تھانے کا کسی بھی وقت معائنہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو متعلقہ حکومت پولیس کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مناسب مالی وسائل فراہم نہیں کرتی۔ تھانے میں انچارج اور عملہ کو بعض بنیادی اخراجات کے لیے بھی پولیس سے رابطہ کرنے والے مجبور شہریوں کے استحصال کے ذریعے وسائل اکٹھے کرنے پڑتے ہیں۔ مثلاً کسی شہری کے خلاف جرم کی صورت میں پولیس متعلقہ شہریوں کے لیے سہولت و اطمینان کا سبب بننے کی بجائے، ان سے تفتیش کے نام پر اخراجات کا مطالبہ کرتی ہے۔ جرم جتنا سنگین ہوتا ہے، لواحقین یا متاثرین کا اتنا ہی استحصال کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے لیے کوئی کمیٹی بنانے یا تحقیقات کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ معاملات ہر شخص کے علم میں ہیں۔ اسی طرح کسی پولیس تھانے کی حوالات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جہاں ملزمان کو انتہائی ابتر اور غیر انسانی ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ البتہ اگر ملزم کوئی مالدار شخص ہو تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق ’سہولتیں‘ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سب معاملات متعلقہ حکام، اعلیٰ افسران، علاقے کے منتخب نمائندوں اور میڈیا رپورٹرز کی نگاہوں کے سامنے رونما ہوتے ہیں لیکن انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کو کجا اب تو اصلاح احول کی بات کرنا بھی ’آؤٹ آف فیشن‘ ہو چکا ہے۔

یہ حالات بیان کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ملک کے ہر علاقے کی پولیس میں دوررس تبدیلیوں و اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ اسے صحیح معنوں میں عوام کا خدمت گزار ادارہ بنایا جا سکے اور یہ فورس اس کی بجائے شہریوں پر ظلم اور انہیں ہراساں کرنے کا موجب نہ بنے۔ اس پس منظر میں اگر گڑھی حبیب اللہ میں پیش آنے والے واقعہ پر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر پولیس فورس کو جدید اور سماجی شعور کی بنیاد پر تربیت دی جائے اور وہ قانون شکنی کرنے والوں کو بھی انسان سمجھے اور ان کے ساتھ مہذب انداز میں معاملات طے کرے۔ البتہ اگر کسی موقع پر کوئی پولیس اہلکار کسی غیر قانونی یا غیر اخلاقی حرکت میں ملوث ہوتا ہے تو اسے موب جسٹس کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی بلکہ متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق اس کی سرزنش ہونی چاہیے یا اسے ضروری سزا ملنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی طے ہونی چاہیے کہ پولیس اہلکار کی زیادتی یا برے رویہ کی بنیاد پر کسی شہری کو غیر قانونی حرکت کرنے یا اس سے بچ نکلنے کی آزادی نہیں دی جا سکتی۔ اس معاملہ کا تیسرا اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اگر کسی مشکل صورت حال میں عوامی ہجوم کی طرف سے کسی پولیس اہلکار کے ساتھ زیادتی کا اندیشہ ہو تو پوری پولیس فورس کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے اور اعلیٰ افسروں یا سیاسی لیڈروں کو ایسے موقع پر کمزوری دکھا کر قانون کی حکمرانی کے اصول کو کمزور نہیں کرنا چاہیے۔

گڑھی حبیب اللہ والے واقعہ میں ایک شخص متعدد خواتین کے ساتھ بغیر لائسنس کے کار ڈرائیونگ کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پولیس اہلکار نے جب اس پر ایک ہزار جرمانہ کیا تو اسے قبول کر کے معاملہ طے کرنے کی بجائے، اس نے جھگڑا شروع کر دیا۔ کار میں اس کی برقع پوش بہن باہر نکل کر اس جھگڑے کا حصہ بن گئی جس کے نتیجے میں بدمزگی ہوئی اور مبینہ طور پر پولیس اہلکار نے خاتون کو تھپڑ مارا۔ اس کے بعد معاملہ بگڑ گیا، لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا اور سڑک بلاک کردی۔ سڑک کھلوانے کے لیے پولیس افسروں نے اپنے ہی اہلکار کو قربانی کا بکرا بنانے پر آمادگی ظاہر کی۔ نام نہاد جرگہ میں فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ پولیس اہلکار کمرے میں جاکر خاتون سے معافی مانگے گا۔ وہ اہلکار وہاں پہنچا تو زبانی معذرت کو ناکافی سمجھتے ہوئے برقع پوش خاتون نے اہلکار کو تھپڑ مار کر ’انصاف‘ حاصل کیا۔ خاتون کے بھائی محمد خورشید، جس کی قانون شکنی کی وجہ سے یہ سارا قضیہ شروع ہوا، نے بتایا کہ اس نے جرگے کے دوران شرط رکھی تھی کہ ’پولیس اہلکار نے پاکستان کی ایک بیٹی کو تھپڑ مارا جس پر میری بہن بھی اس کو تھپڑ مارے گی‘ ۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح غیر قانونی حرکت کو جذباتی معانی پہنا کر اسے جائز کرنے اور خود سرخرو ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم اس معاملہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ خود پولیس افسر اس معاملہ میں ملوث تھے تاکہ ایک اہلکار بے عزت ہوتا ہے تو اسے قبول کر کے سڑک کھلوا لی جائے۔ گویا پولیس کے پاس ایسا اختیار اور اتھارٹی نہیں تھی کہ وہ ناجائز احتجاج کو روک سکتی اور معاملہ قانونی طریقے سے حل کیا جاتا۔ یہیں پر اکتفا نہیں بلکہ پولیس اہلکار کی زیادتی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر عام کر کے پہلے عوام کو اشتعال دلایا گیا، اس کے بعد بند کمرے میں جب پولیس اہلکار کو تھپڑ مارے گئے تو اس کی ویڈیو بھی نشر کی گئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس معاملہ کو جرگہ کے ذریعے حل کرانے والے افسروں کی مرضی و منشا کے بغیر یہ ویڈیو بنائی یا نشر کی جا سکتی تھی۔ پولیس اہلکار کے ساتھ ہتک آمیز ویڈیو عام ہونے پر قانون کی عمل داری کے بارے میں احتجاج سامنے آیا اور اب پولیس حکام اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔

وقوعہ کے بعد علاقے کے سیاسی و سماجی رہنما محمد صالح نے تھانہ گڑھی حبیب اللہ میں درخواست دائر کی ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ سب بالاکوٹ پولیس کے اعلیٰ افسران کی ایما پر ہوا جنہیں ’عوامی دباؤ‘ کا سامنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار کو سب کے سامنے تھپڑ مارنے اور معافی منگوانے سے خیبر پختونخوا پولیس اور عوام کی توہین ہوئی ہے۔ لہذا اس پر کارروائی کی جائے۔ ممتاز قانون دان ظفر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ یہ سارا واقعہ تو یہ منظر نامہ پیش کر رہا ہے کہ ’قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ سزا دینے کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس نہیں۔ پولیس والے ہوں یا عوام، وہ خود فیصلے نہیں کر سکتے ہیں‘ ۔

ڈی پی او مانسہرہ شفیع اللہ گنڈاپور کا کہنا ہے کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سینیئر افسران کو ٹاسک سونپا گیا تھا کہ وہ معاملے کو حل کرائیں کیونکہ روڈ بلاک ہو چکا تھا۔ ’خاتون کے ساتھ بدتمیزی ناقابل برداشت تھی۔ جس پر کہا گیا کہ ایک بیٹی کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر وہ معذرت کرے گا اور قانونی کارروائی ہوگی۔ اس کے بعد ٹریفک پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے۔ یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے، پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو یہ فیصلہ کرے گی کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا اور کیسے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی‘ ۔

ڈی پی او کی باتوں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی واحد پریشانی اس معاملہ کی ویڈیو عام ہونا ہے۔ کسی متاثرہ خاتون کو قوم کی بیٹی قرار دے کر ایک قانون شکنی سے نظرانداز کرنے کا رویہ نہ تو متاثرہ فریق کی جانب سے قابل قبول ہونا چاہیے اور نہ ہی پولیس افسروں کو اس کی آڑ میں اپنی نا اہلی و کوتاہی پر پردہ ڈالنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ یہ ایک سنگین وقوعہ ہے جس میں شاید پولیس کا نچلے درجے کا اہلکار ملوث تھا لیکن یہ واقعہ ملک میں حکمرانی کی صورت حال پر سنجیدہ اور سنگین سوالات سامنے لاتا ہے جن کا جواب فراہم کرنا اہم ہے۔ اس لیے سب سے پہلے تو یہ بتایا جائے کہ پولیس اہلکار کو معافی مانگنے اور خاتون کو تھپڑ مارنے کی اجازت دینے کے فیصلے میں کون سے پولیس افسر ملوث تھے اور ان کے خلاف کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔ دوسرے یہ بتایا جائے کہ اس معاملہ کا اصل ملزم یعنی بغیر لائسنس کے کار چلانے والے شخص کو کیا سزا دی گئی ہے یا اس ہنگامہ میں اسے ہیرو کا درجہ دے کر اس کی قانون شکنی معاف کردی گئی ہے؟ تیسرے یہ بتایا جائے کہ ٹریفک کنٹرول کے ایک واقعہ پر معاملہ سڑک بلاک کرنے اور پھر یک بیک جرگہ بلا کر سزا کا تعین کرنے والے کون لوگ تھے اور ملک کا قانون انہیں کس حد تک اس کا اختیار دیتا ہے۔

حکومتی نمائندوں کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر قانون کا احترام کرنے کے بھاشن دیے جاتے ہیں تاہم جب تک نیچے سے اوپر تک معاملات کی ذمہ داری لینے والے افسر و لیڈر ایسے بظاہر معمولی واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر قانون کا احترام عام نہیں کریں گے، ملک میں قانون ہی سب سے بڑا مظلوم بنا رہے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali