تماشا (2015): قلم برداشتہ تاثرات


راقم دو معیارات کی بنیاد پر موویز کا ناظر ہے ؛ ایک ڈائریکٹر، دوسرا کریکٹر۔ ایکٹر اور آئی ایم ڈی بی ریٹنگ کو معیار بنا کر مووی دیکھنے پہ میری وہی تنقید ہے جو یار لوگوں کی جمہوریت پہ ہے۔ اب جب کہ کنزیومرزم کا دور دورہ ہے وہاں فلم، مووی، سینما دیکھنے کا تجربہ بھی اس سے بچا ہوا نہیں۔ آپ کو مووی کنزیومرز تو بہت ملیں گے، مووی لوَّر شاید ہی کوئی ڈھونڈنے سے ملے۔

امتیاز علی کی ہدایت میں تیارکردہ مووی ’تماشا‘ مرکزی کردار کی زندگی کا احوال بیان کر کے جدید معاشرت کی ایک اکثریت کی عکاسی کرتی ہے۔ بلاشبہ امتیاز علی ایک ایسا ڈائریکٹر ہے جو فرد کی تمام کیفیات کو محسوس کرتے ہوئے اسے پردے پہ ظاہر کرنے میں کمال کا ہنر رکھتا ہے۔ ان کی ہدایت میں بنائی گئی موویز میں انسانی انفرادیت اور اس سے منسلک فرد کے دوسرے شخصی اوصاف (جنھیں رائج الوقت جدید نظام میں ’ابنارمل‘ تصور کر لیا جاتا ہے) کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کو ہائی لائٹ کرنا زیادہ اہم نظر آتا ہے۔ جہاں تک مذکورہ مووی کے ٹائٹل کا تعلق ہے، مووی کو دیکھنے کے بعد ایک معروف شعر کی شرح آسانی سے کی جا سکتی ہے۔

بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے

ظاہر ہے ایسا شعر تو وہی کہہ سکتا ہے جو اُس فکری مسند پہ براجمان ہو جہاں سے ہیروئک انداز میں اپنے گرد و پیش کی ناسازگار دنیا کے در و بست کو رد کردینے کی استطاعت رکھتا ہو۔ ہم میں سے تو ہر ایک نہ چاہتے ہوئے بھی مووی میں موجود رکشے والی کی زبانی اندر سے کچھ اور ہی ہوتے ہیں اور باہر سے بس مجبور۔ تاریخ میں جب جب تہذیب (نام نہاد مہذب یافتگی) آگے بڑھی، اُس اُس وقت کے معاشروں میں فطرت سے جڑے حساس اذہان اور لطیف طبع اشخاص نے اس سے بغاوت ہی کی ہے۔ یونان کے دیوجانس کلبی ہوں یا عہدِ جدیدیت کے عروج میں روسو یا فرائیڈ ہوں، یا پھر وجودی مفکرین۔ یہ سب باہر کے خارجی جبر کی دوہائی دیتے ہی نظر آتے ہیں۔ سائنسی بنیادوں پہ استوار جدید نفسیات کے ماہرین جب نارمیلٹی کی لکیر کھینچتے ہیں تو اس کی حدود میں بہت سے فلسفی، ادیب، شاعر اور فن کار اپنا پاؤں ہی نہیں رکھ پاتے۔

بالخصوص صنعتی انقلاب کے بعد سے انسانی معاشرت جس روبوٹک میکانکیت سے گزر رہی ہے، اس نے تذلیلِ انسانیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جدید اداروں اور کارپوریشنوں میں کام کرنے والے افراد کا تو یہ روزمرہ کا تجربہ ہے۔ جدید ادارے کا غیر شخصی اسٹرکچر ایک گوشت پوست کے شخصی وجود کو بھلا کیسے اپنائے گا؟ جدید فرد کو اپنے آپ سے بھی بیگانہ کر کے، ایسے اہداف کے حصول کی تگ و دو میں کھپا دیا گیا ہے جن کا اس کی ذات سے سوائے مضر عمل انگیز کے اور کوئی واسطہ تعلق نہیں۔ جب فرد اپنی ہی ذات سے اس قدر دور ہو چکا ہو کہ اسے اپنی ذات کی شکست و ریخت کا احساس تک بھی نہ ہونے پائے، دوسرے سے قائم اجنبیت کی دوری کا دریا تو پا ر ہونے سے رہا۔ معدودے چند لوگ ہی اس جہاں میں ہوتے ہیں جو ہمارے اندر جھانک سکیں اور ہمیں اپنے آپ سے ملا دینے کی ایک موہوم سی کوشش کر پائیں لیکن بسا اوقات ہمیں ان کی بات ناگوار سی محسوس ہوتی ہے۔ دوسری طرف اکثریت ایسے اشخاص کی ہے جو ہماری شخصی انفرادیت کو کچل کے رکھ دیتے ہیں اور ہمیں سمجھوتہ کر کے ان کو اپنانے کے لیے، ان کو راضی رکھنے کے لیے خودساختہ منافقت کا آہنی خول تکلف میں اوڑھنا ہی پڑ تا ہے۔

میں نے اک راہ نکالی تھی زمانے سے الگ
تُو نے آتے ہی زمانے سے ملا دی وہ بھی

زمانے سے راہ ملانے کو آپ سٹیٹس کو کا ساتھ کہیں یا جُگاڑ کہیں، اس کا نتیجہ ایک ہی ہے ؛ انسانی وجودِ متحقق کی فرسودگی۔ مووی کے مرکزی کردار کے بچپن کا موازنہ اس کی پروفیشنل زندگی سے کیا جائے تو 180 زاویے کا فرق معلوم ہوتا ہے، کہاں اس میں تخلیقیت سے جنم لینے والی کہانیاں سننے کی چاہ، لپک، تڑپ اور پرخلوص معصومیت اور کہاں کاروباری ماحول میں رٹے رٹائے چند ریڈی میڈ جملوں کی تکرار اور مصنوعی باڈی لینگوئج۔ گریبان میں جھانکیں یا اردگرد دیکھیں! مسلسل سرویلنس میں 8 گھنٹے کام کرنے کے علاوہ دوستوں کی محفل میں بھی اپنی اصل شخصیت کو چھپائے پھرنے میں ہی ساری توانائی صرف ہو رہی ہے۔ خارج کے دباؤ کے ہاتھوں فرد اپنے آپ کو بہت ناتواں اور کمزور پاتا ہے، بالآخر اس کے آگے سرتسلیم خم کرنے میں ہی عافیت پاتا ہے۔

مابعد جدید فلسفے میں ایک مستعمل اصطلاح ہے abjection ؛ اس کی وضاحت کے ذیل میں یہ بتاتا چلوں کہ یہ ایک ایسے فرد کی کیفیت ہے جو اپنے سے باہر موجود دنیا کو کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں پاتا، اس کو اپنے من کی دنیا اور خارج کے جبری ضابطوں کی دنیا میں اپنائیت کے کوئی آثار نہیں ملتے۔ لیکن پھر بھی سروائیول کے خوف میں وہ کسی نا کسی چور دروازے سے ٹکریں مارتا ان ہی ضابطوں سے آلودہ ادارہ جاتی انتظامات میں گھس جانے کو اپنی کامیابی تصور کرتا ہے اور بغیر کسی اعلیٰ و ارفع مقصدیت کے زندگی کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اس لاحاصل دوڑ میں خود سے حد درجہ بیگانگی کے باوجود کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جس میں اس کا اپنے آپ سے سامنا بہر حال ہو ہی جاتا ہے اور خود کو ایک رذیلیت کے احساس میں پاتا ہے، اس لمحے وہ abjection سے گزرتا ہے اور یہ کہنے میں بھلا کیا قباحت ہے کہ ہم سب abjected beings ہی تو ہیں۔

گفتم چہ سازم باربط ہستی
آزاد طبعاں گفتند بگسل
(بیدلؔ)

کہا کہ ہستی سے اپنے ربط کا کیا کروں؟ آزاد طبیعت والوں نے کہا کہ توڑ دے!

Facebook Comments HS