واٹس ایپ صارفین
یاد ہے بچپن میں کس طرح ہمیں ہمارے لاکھ نہ چاہنے کے باوجود بھی مہمانوں کو سلام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اور کس قدر حدود و قیود لگائی جاتی تھیں کہ مہمانوں کے سامنے یوں بولنا، ایسے بیٹھنا، یہ نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اب سوچا جائے تو وہ ملاقات کے بنیادی آداب تھے جو ہمیں سکھائے جاتے تھے۔ وقت نے برق رفتاری دکھائی اور روبرو ملاقاتوں کی جگہ واٹس ایپ وغیرہ نے لے لی۔ لیکن اس ملاقات کے آداب سیکھنا تو دور ہم نے کبھی اس کو ملاقات تصور ہی نہیں کیا۔ نہ وہ والدین رہے کہ زبردستی وہ آداب ہماری گُھٹی میں ملا دیں۔ ایسے میں جس کو جو سمجھ آتی ہے وہ کرتا ہے۔ تو آئیے واٹس ایپ صارفین کی چند اقسام پر نظر دوڑاتے ہیں۔
جناتی صارف:
جنات ہم سے پوشیدہ ہیں لیکن بہرحال موجود ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ بھی واٹس ایپ اکاؤنٹ ہولڈر تو ہوتے ہیں لیکن ہمیشہ نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔ اسٹیٹس لگانا یا دیکھنا تو بہت دور کی بات ہے اگر آپ غلطی سے کبھی انہیں پرسنل میسج بھی بھیج دیں گے تو وہ ڈیلیور ہونے میں کم از کم دو دن اور پھر سین ہونے میں مزید چار دن لے گا۔ ان کی روپوشی کو سلام۔
بے زبان صارف:
نہیں نہیں! استعارتاً بے زبان نہیں کہا جیسے کسی معصوم کو دیکھ کر کہا جاتا ہے کہ وہ تو بے چارہ بے زبان ہے۔ بالکل نہیں! یہ حقیقتاً بے زبان ہوتے ہیں۔ اور صرف بے زبان ہی ہوتے ہیں۔ باقی آنکھیں وغیرہ سب درست ہوتی ہیں۔ جبھی تو یہ ہمارا ہر اسٹیٹس بڑی باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ البتہ کسی قسم کا ردِ عمل دینا اپنے شایانِ شان نہیں سمجھتے۔ اُن کی بلا سے آپ چاہے انا للہ کا اسٹیٹس لگائیں یا الحمدللہ کا۔ وہ اپنی چپ کا روزہ ہر گز نہیں توڑیں گے۔ اسی طرح ان کو بھیجے گئے پرسنل میسج کے سین ہو جانے کے بعد کسی قسم کے ریپلائے کی امید رکھنا نِری حماقت ہے۔ ان کی خاموشی کو سلام۔
وکیلِ استغاثہ صارف:
جی ہاں! ان کا کام کسی وکیل کی طرح جرح کرنا اور ہر شے کو مشکوک انداز میں دیکھ کر بال کی کھال اتارنا ہے۔ ادب سے دور دور کا تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر آپ شاعری کے دلدادہ ہیں تو یہ سوال پوچھ پوچھ کر آپ کا جینا دوبھر ضرور کر دیں گے۔ ”خیر ہے نا؟“ یہ ان کا تکیہ کلام ہے۔ جو چیز دکھانے کے مقصد سے آپ اسٹیٹس لگاتے ہیں اس کے علاوہ یہ ہر چیز کو زوم اِن کر کے دیکھیں گے اور حسبِ عادت سوالوں کا تانتا بندھا رہے گا۔ ان کی جراحت کو سلام۔
سی آئی ڈی صارف:
”کچھ تو گڑبڑ ہے دَیَّا!“ یہ وہی صارف ہیں جو ہر وقت اس کردار میں گھسے رہتے ہیں۔ آپ سے کچھ نہیں کہیں گے لیکن آپ کے بارے میں بہت کچھ نشر کریں گے۔ ان کے مطابق ہر وہ چیز جو ہم اسٹیٹس لگاتے ہیں وہ کسی ایسے فردِ واحد کے لیے ہوتی ہے، جس کے عشق میں ہم گوڈے گوڈے ڈوبے ہوئے ہیں۔ پھر چاہے وہ ہماری کوئی تصویر ہو یا شاعری۔ یہ مان ہی نہیں سکتے کہ ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“ ان کے شکوک کو سلام۔
کفایت شعار صارف:
یہ میسج بھیجتے وقت یوں احتیاط برتتے ہیں جس طرح کسی زمانے میں کال کے مِنٹوں کے حساب سے پیسے کٹنے پر کی جاتی تھی۔ اگر آپ ”السلام علیکم“ کا میسج بھیجیں گے تو بدلے میں صرف ”وعلیکم السلام“ ہی آئے گا۔ بلکہ مزید محتاط لوگ تو محض ws بھیجنے پر ہی اکتفاء کریں گے۔ اسٹیٹس پر بھی اگر تبصرہ کرنا بہت ناگزیر ہو تو یک لفظی ہی کریں گے۔ جیسے ”نائس“ وغیرہ۔ ان کی کنجوسی کو سلام۔
ناقد صارف:
آپ چاہے اپنے عطارد یا زُہرا پر پہلے قدم کی تصویر اَپلوڈ کر دیں ان کو فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن جیسے ہی آپ اسٹیٹس یا میسج میں کسی جملے کے ایک لفظ کے چھوٹے سے حرف کا اِتّو سا نقطہ لگانا بھول جائیں گے تو یہ لوگ فوراً اپنی اپنی فرہنگِ آصفیہ بغلوں میں دابے آن وارد ہوں گے۔ بقول ان کے تنقید پھلنے پھولنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اب کوئی انہیں سمجھائے کہ وہ اُس تنقید کی بات ہے جو مثبت منفی پہلوؤں کا خوبصورت امتزاج ہوتی ہے۔ بہرحال ان کی استاد گیری کو سلام۔
چور صارف:
اپنا ”Read receipts“ آف رکھنے والی مخلوق۔ چوروں کی طرح دبے پاؤں آتے ہیں، بنا آپ کے علم میں لائے میسج، اسٹیٹس دیکھتے ہیں اور خود کو فاتحِ اعظم سمجھتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ ان سے پرسنل بات کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے گویا کسی ایسے شخص سے بات کر رہے ہوں جس کے متعلق خدشہ ہو کہ پتہ نہیں سماعتیں کام کرتی ہیں یا نہیں۔ ہماری بات سن بھی رہا ہے یا نہیں۔ سن چکا ہے تو جواب آئے گا یا نہیں۔ آئے گا تو کس طرف سے۔ میسج بھیج کر پھر ڈیلیٹ کرنے والے بھی اس قسم میں شامل ہیں۔ ان کی سستی چالاکیوں کو سلام۔
خوش فہم صارف:
ان میں سے کچھ آپ کے اسٹیٹس پر لگی ہر چیز کو اپنی ذات پر ذاتی حملہ سمجھتے ہیں۔ کچھ آپ کی فیض و فراز کی پسندیدگی میں لگائی ہوئی شاعری کو اپنے حق میں سمجھ کر جی ہی جی میں شرماتے اور خوش ہوتے ہیں۔ بلکہ بعض تو ڈھکے چھپے الفاظ میں شکریہ بھی ادا کرتے ہیں۔ منیر نیازی کا شعر لگا بیٹھو تو سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے دو روز سے آپ کا دماغ نہیں چاٹا اس لیے آپ ان کی یاد میں مغموم ہوئے جا رہے ہیں۔ ان کی خوش اور غلط دونوں فہمیوں کو سلام۔
چھلاوا صارف:
ایک بج کر پینتالیس منٹ، سولہ سیکنڈ پر موصول ہوئے میسج کا جواب آپ ایک بج کر پینتالیس منٹ، بیس سیکنڈ پر دیں گے تو بدلے میں آپ کو ریپلائے دو بج کر پچاس منٹ، بتیس سیکنڈ پر آئے گا۔ جی! بات کے دوران غائب ہوجانا اور کچھ دیر بعد پھر نمودار ہوجانا ان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ مصروف یہی ہیں۔ اتنے مصروف کہ غائب ہونے سے پہلے ایک اطلاع دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔ اتنے مصروف کے سین کرنے کا وقت ملتا ہے لیکن ریپلائے کا نہیں۔ ان کی مصروفیت کو سلام۔
مطلبی صارف:
مدتوں بعد ان کی جانب سے کوئی پیغام موصول ہو گا۔ لیکن اس سے پہلے کہ آپ اپنی خوبی قسمت پر ناز کر سکیں وہ رسمی سلام دعا کے جواب کا بھی انتظار کیے بغیر کام بتائیں گے اور چلتے بنیں گے۔ مروتاً بھی احوال پوچھنا گوارا نہیں کریں گے۔ لیکن آپ اداس نہ ہوں اور سلام پر خوش رہیں۔ کیونکہ بعض تو سلامتی بھیجنے کا تکلف بھی نہیں کرتے۔ ان کی صاف گوئی کو سلام۔
نا خواندہ صارف:
آپ سب کسی ایسے شخص کو ضرور جانتے ہوں گے جس کے بھیجے گئے میسج کو سمجھنے کے لیے آپ آئن سٹائن کو بھی بلا لیں تو بھی معمہ حل نہیں ہو گا۔ ”Ya mna knsi khi ti“ اسی طرح کے جملے لکھ کر آپ کو ان کی ترکیب کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خدا جانے اب یہ ان کی نالائقی ہے یا وقت بچانے کی سکیم۔ جو بھی ہے ان کے اعتماد کو سلام۔
عمدہ ترین صارف:
آپ کے اسٹیٹس کے مطابق ردِعمل دیتے ہیں۔ آپ کے ایک ”السلام علیکم“ کے جواب میں ”وعلیکم السلام، کیسے مزاج ہیں؟ گھر میں سب کیسے ہیں؟“ تین میسج کرتے ہیں۔ آپ کے ایموجیز پر بھی ری ایکٹ کرتے ہیں۔ مصروف ہوں تو معذرت کرتے ہیں۔ بلکہ کبھی محسوس ہونے ہی نہیں دیتے کہ وہ مصروف ہیں اور آپ ان کی روٹین خراب کر رہے ہیں۔ وقتاً فوقتاً خیریت دریافت کرتے ہیں۔ زندہ رہتے ہیں اور آپ کو بھی رکھتے ہیں۔ ان کی ایسی مثبت سوچ کو دل سے سلام۔
آپ کے ذہن میں کوئی اور قسم آ رہی ہو تو ضرور بتائیے۔


