بنگلہ دیش کے سہانے سپنے
بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں بنگلہ دیش اپنے پاؤں جمانے کے لئے مختلف النوع جتن کر رہا ہے۔ پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ابھی تک وہ مخلتف تجربات کرتا آ رہا ہے۔ سیاسی و معاشی ہلچل اتنی گمبھیر ہے کہ آج تک صحیح راستے کا انتخاب اور قومی سطح کے فیصلہ جات کرنا ہی جان جوکھوں کا کام تھا۔ اب نگران انتظامیہ پہ لازم ہے کہ وہ عوامی لیگ کے بدانتظامی عہد کے اثرات سے جلد از جلد کوئی راستہ نکالے۔ عوامی لیگ محض لوٹ کھسوٹ اور زبردستی کے کام میں اس قدر محو و مشغول تھی کہ شاہراہ ترقی کو بھول چکی تھی۔ ان کا مخالفین کو ہراساں کرنے اور من مرضی کے سوا کسی کام میں من نہیں لگتا تھا۔ اس کی دیدہ دلیری تھی کہ عدالتی نظام کو بھی بازیچۂ اطفال بنا ڈالا تھا جو مخالفین کی سرکوبی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ اب نئی سرکار پہ لازم ہے کہ بھارتی اثرات سے کیسے نبردآزما ہوا جائے اس وقت امریکہ بھی بھارتی خوشنودی کی خاطر واری صدقے ہو رہا ہے۔ بنگالی طلباء کی دلیرانہ کاوش نے بھارتی پندرہ سالہ منصوبہ کو یکمشت طشت از بام کر دیا ہے۔ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ بنگالی نہایت ذہین و فطین لوگ ہیں جو وقت و حالات کی سنگینی و نزاکت کو بخوبی سمجھتے ہیں اور کسی بھی شدت پسندانہ اور تخریبی کارروائیوں کو پنپنے نہیں دیتے اور یوں مجموعی حالات قابو میں ہی رہتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد یونس ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر معیشت ہیں جنہیں 2006 میں نوبل امن انعام دیا گیا تھا کہ انہوں نے غرباء کو ایسے آسان قرضے دے کر شاہراہ ترقی و خوشحالی پہ گامزن کر دیا جس سے بنگلہ دیشی معیشت میں قابل ذکر سدھار ممکن ہوا، ان کی عالمی تنظیموں اور اداروں میں آج بھی ایک باوقار فرد کی طرح عزت و احترام کا رشتہِ برقرار ہے۔ معیشت کی درستی اب ان کے لئے ایک اہم ترین ہدف ہے امید وہ اسے احسن طریقے سے پورا کر لیں گے۔ حسینہ واجد نے کم از کم سترہ ارب ڈالر کا نقصان کیا تھا جس میں سدھار لانا اب لازم ہو چکا ہے۔ حسینہ واجد کی بے تدبیری کی وجہ سے عدالتی و سیاسی نظام بھی زمین بوس ہو چکا تھا جس میں اب سدھار کی اشد ضرورت ہے۔ کسی ملک میں بھی عدالتوں پہ اگر اعتبار و اعتماد اٹھ جائے تو پیچھے محض دنگا و فساد ہی پنپتا ہے جو ملکی وحدت و یگانگت کے لئے زہر قاتل ہو سکتا ہے۔ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ بنگلہ دیش روس اور چین کی جانب دیکھے۔ اسے ٹیکسٹائل کے علاوہ بھی برآمدی تجارت کرنا ہوگی تاکہ وہ عالمی منڈیوں میں اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔ ابھی تک اس کا درجہ انتہائی غریب ممالک کی فہرست میں ہے اور توقع ہے کہ نومبر 2026 تک اس کی حیثیت وسط درجہ کی آمدن والے ممالک میں ہو سکے گی مگر شرط اولین یہی ہے کہ وہ تجارت کو وسعت دے۔
پاکستان کی تاریخ کا سب سے دردناک باب بنگلہ دیش کا قیام تھا مگر دل پہ بھاری پتھر رکھ کر اس دلخراش حقیقت کو تسلیم کر لیا گیا بلکہ اس کی عالمی اداروں میں شمولیت پہ قائل کیا۔ جیسے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس اور اس کے ساتھ باہمی تعلقات بھی عزت و احترام سے رکھنے کی بھرپور کوشش کی جاتی رہی۔ البتہ ان میں سرد و گرم تغیرات رونما ہوتے آئے ہیں۔ اب ایک نیا جذبہ درکار ہے اور ایسے تعلقات بحال کرنے کی ضرورت ہے جو باہمی فائدے میں ضرور ہوں مگر کسی کی یکمشت ناراضی کا باعث بھی نہ بنیں۔ پاکستان کئی ایک طوفانوں سے گزر کر ایک تجربہ کار ملک کی طرح باہمی تعلقات کی بحالی کا راستے کا تعین کرنے میں ممد و معاون بن سکتا ہے۔ مواقع بے شمار ہیں کہ قربتوں سے دلوں کی کلفتیں دور ہوں گی اور فضا میں رچی بسی نفرین کی بو باس بھی مٹ جائے گی۔


