ووپرٹال شہر جرمنی صوبہ رہائن لینڈ فالز کا وزٹ
ووپرٹال کی وجہ تسمیہ وہاں بہنے والی ایک ندی ہے جس کا نام ووپر ہے اور ٹال وادی کو کہا جاتا ہے یعنی ووپر ندی کی وادی۔ اس شہر کی آبادی لگ بھگ چار لاکھ ہے یہ شہر لمبائی میں ہے جس میں دس ریلوے اسٹیشن ہیں۔
ووپرٹال ایک خوبصورت شہر ہے جو کولون اور ڈوزلڈورف کے تقریباً درمیان میں واقع ہے اسی کی دہائی میں میرے خالہ زاد بھائی میاں ساجد صاحب بھی یہیں اسی شہر میں رہتے تھے۔ اور ان کے چچا اور میرے ماموں فاضل صاحب بھی یہیں رہتے تھے ساجد کا یہاں پر آنا ماموں جان کی وجہ سے ہی ہوا۔ میرا پہلا قدم بھی ساجد صاحب کی وجہ سے یہیں پہ پڑا۔ ساجد صاحب ہی مجھے ساربروکن سے لے کر یہاں آئے اس لحاظ سے میری بھی چند یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں کیونکہ پانچ سال تک ساجد اور ماموں جان کی موجودگی کی وجہ سے اکثر یہاں آنا ہوتا تھا اس شہر کی بطور خاص انفرادیت اس میں شویبے بان کی وجہ سے ہے شویبن کا مطلب ہوا میں تیرنا بھی ہوتا ہے اور اس شہر میں چلنے والی یہ ٹرین بھی ہوا میں تیرتے ہوئے ہی سارے شہر کا چکر لگاتی ہے۔ اس ٹرین کی پٹڑی اوپر ہے اور یہ اس کے ساتھ لٹک کر چلتی ہے اس وجہ سے اس کا نام شویبے بان ہے۔ اس کے شہر بھر میں 31 اسٹیشن ہیں۔
ماموں جان کی وفات کے بعد ووپرٹال آنا جانا قدرے کم ہو گیا۔ مگر آنٹی کی محبت اور چاہت اور ان کی اکثر آنے کی دعوت دینے پہ اس بار سردیوں میں یہاں آنٹی سے ملاقات کرنے چلا آیا۔ یہاں کی خاص ٹرین شویبے بان پہ چالیس سال قبل سیر کی تھی بلکہ کبھی کبھی شہر میں اسی پہ سفر ہوتا تھا اور چونکہ سردی میں سیر کا مزہ نہیں لہذا سوچا ہے کہ موسم گرما میں ہی شویبے بان سے سیر کی جائے گی۔ آنٹی اور ماموں ووپرٹال کے جس حصے میں رہتے ہیں یہ علاقہ جس کی آبادی پچیس ہزار سے متجاوز ہے اسے رونس ڈورف کہا جاتا ہے جو ووپرٹال کے نسبتاً امیر لوگوں کا علاقہ کہلاتا ہے۔
ماموں جان کا 1962 میں اس شہر میں ورود ہوا۔ اور وفات تک آدھی صدی تک اسی شہر کو اپنی جنت بنائے رکھا۔ ماموں جان نے یہاں پر آنٹی مارلیزے سے شادی کی۔ یہ ازدواجی جوڑا اس شہر میں ایک مثالی جوڑا کہلایا۔ دونوں میاں بیوی کی محبت تادم مرگ ماموں جان ایک مثال کہی جا سکتی ہے۔ آنٹی کے گھر میں ہر طرف کتابوں کے انبار اور کچھ الماریوں میں آراستہ دیکھ کر میں نے کہا آنٹی آپ نے تو گھر کو ہی لائبریری بنا رکھا ہے کہنے لگیں مبشر ابھی تم تہہ خانے میں نہیں گئے پندرہ سو کتب تو میں نے تہہ خانے میں رکھی ہوئی ہیں۔ ناول دیکھ کر میرا جی بھی للچایا پوچھنے پہ آنٹی نے پانچ پانچ انچ موٹائی کے دس بارہ ناول میرے بیگ میں ٹھونس دیے جو شاید عمر بھر کے لیے کافی ہوں گے۔ جہاں ماموں جان کی خوبصورت شخصیت مثالی تھی آنٹی ماریہ بھی خوبصورتی میں لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ایک کہی جا سکتی ہیں۔ جنہوں نے ایک بار باقاعدہ شہر کی ماڈل گرلز کے مقابلہ حسن میں حصہ بھی لیا۔ آنٹی کو بتائے بنا ماموں نے آخری عمر میں پاکستان میں بھی ایک شادی کی۔ جس کے بارے میں ماموں نے آنٹی کو بھی بعد میں بتا دیا جرمنی کے قانون کے مطابق یہ ایک جرم ہے جس پہ آنٹی سخت ردِعمل دکھا سکتی تھیں مگر آنٹی نے اسے ناصرف قبول کر لیا بلکہ انتہائی وسیع الظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان میں پیدا ہونے والے بیٹے کو بھی اپنا بیٹا ہی بنا لیا اور پھر جس محبت کا اظہار آنٹی کی بیٹی اور بیٹے نے اپنے پاکستانی بھائی سے کیا اور اس کے مرتے دم تک اس کی ماں اور بیٹے سے جیسے وفا کی۔ اس پہ علیحدہ ایک باب باندھا جا سکتا ہے۔ اس فراخدلی کو میں نے جیسے مشاہدہ کیا۔ اس کی مثال ملنا بالکل محال ہے۔ پاکستان والے ماں بیٹے کو دو سال پہلے جو ٹریجڈی پیش آئی اس میں دونوں کی جان چلی گئی جو ایک علیحدہ مگر انتہائی دلسوز اور غمناک داستان ہے۔ جس کا ذکر یہاں مناسب نہیں ہے
آنٹی ماریہ کی ایک بڑی بہن باربرا جو ان سے بھی دو سال بڑی ہیں۔ انہوں نے میرے ووپرٹال جانے سے پہلے ہی آنٹی ماریہ کو کافی پہ بلا رکھا تھا میں نے آنٹی باربرا کے بارے میں بہت سن رکھا تھا مگر انہیں ملنے کا اتفاق کل ہی ہوا۔ آنٹی ماریہ نے بتایا کہ مبشر بھی یہاں آیا ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ اسے بھی ساتھ لیتی آؤ۔ مجھے پتہ چلا کہ وہاں پر تین عورتیں اور بھی مدعو ہیں۔ تو میں قدرے ہچکچایا کہ میں وہاں پانچ عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر کیا کروں گا۔ تو آنٹی ماریہ نے کہا کہ باربرا کا بیٹا اووے بھی گھر پہ ہے وہ بھی ساتھ بیٹھے گا۔ تو میں نے بھی ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔ ہم جب وہاں پہنچے تو ایک عورت واگنر سے تو میری ماموں جان کی وفات پہ ملاقات ہو چکی تھی۔ اس طرح مجھے کچھ حوصلہ ہوا۔ وہاں پر سب عین وقت پہ پہنچ گئیں۔ اس میز پر جہاں پانچ عورتیں براجمان تھیں چھٹا میں تھا۔ ہمارے پہنچنے پر اووے اوپری منزل سے نیچے آیا میں سمجھا کہ چلو میری اس سے گپ شپ رہے گی مگر وہ سب کو مل ملا کر پھر یہ کہہ کر اوپر چلا گیا کہ اس نے کوئی مشین چلا رکھی ہے اس کے رکنے کے بعد وہ نیچے آئے گا۔ یوں مجھے گھنٹہ بھر عورتوں کے ساتھ بیٹھنا پڑا، ۔ میں نے ان کی گفتگو میں کچھ خاص حصہ نہیں لیا۔ معمولی تعارف اور یاسمین کی وفات کی تعزیت وصول کرنے کے بعد میں ہمہ تن گوش ہو گیا کہ چلو آج دیکھیں یہ بھی ایک نیا تجربہ ہے۔
میں اس امر کا اعتراف کیے بنا نہیں رہ سکتا۔ کہ میں ان کی باتوں سے بہت متاثر ہوا۔ بطور خاص ان سب کے مل بیٹھنے پہ جو وہ گاہے بگاہے ایک دوسری کے گھر میں ملتی رہتی اور اپنے تجربات ایک دوسری سے شیئر کرتی رہتی ہیں۔ آنٹی باربرا نے دو قسم کے انتہائی لذیذ کیک تیار کر رکھے تھے۔ سب عورتیں اپنے ہاتھ کی بنی ہوئی کچھ اشیاء بطور تحفہ ساتھ لے کر آئیں۔ ان میں ایک عورت میری طرح پہلی بار آئی تھی۔ مجھے زندگی میں پہلی بار اتنی سلجھی ہوئی گفتگو سننے کو ملی۔ اور حیرانی اس پہ کہ وہاں کسی کی غیبت نہیں کی گئی۔ کچھ پرانی یادیں جن کے ساتھ بطور خاص مزاحیہ واقعات وابستہ تھے یا ان کے آپس کے پرانے واقعات جن میں ان کے آپس کے کچھ جوانی کی حماقتوں کا ذکر اپنے خاوندوں کو بیوقوف بنانے کے مزاحیہ واقعات یا خاوندوں سے خود بیوقوف بنائے جانے کے واقعات۔ بلکہ میز پوش پہ پڑے پرانے داغوں کے ذکر پہ ایک نے کہا کہ ان داغوں کے ساتھ بھی کئی کہانیاں وابستہ ہیں لہذا ہر داغ دور کرنے کے لیے نہیں ہوتا کچھ داغ ہماری زندگی کی سجاوٹ اور سبق لیے ہوئے تاحیات ہمارے ساتھ چلتے ہیں۔ کچھ ساتھیوں کی بیماریوں کا ذکر ہوا کچھ کی وفات کا ذکر انتہائی اچھے بھرپور ہمدردی کے انداز میں سننے کو ملا۔ کچھ اپنے بچوں کے بارے میں باتیں ہوئیں۔ اگرچہ اسی دن ٹرمپ امریکہ میں برسرِ اقتدار با اندازِ پرخمار آیا تھا۔ مگر مجال ہے کہ کسی نے بھی سیاست یا مذہب پہ کوئی کلمہ منہ سے نکالا ہو۔ میرے خیال میں کسی بھی ایسی مجلس جس میں پرانے دوست اکٹھے ہوں ان دو موضوعات سے اجتناب کیا جائے تو آپس کا تعلق اور دوستی کے رشتے میں دراڑ نہیں آ سکتی۔ پرانے دوستوں سے مل کر پرانی یادوں کو بطور خاص ان یادوں کو کرید کر نکالا جائے جن کے بیان میں ایک خاص مزہ ہوتا ہے۔ میں ان میں شروع سے لے کر آخر تک موجود رہا۔ گو کہ گھنٹے کے بعد اووے اور آمین بھی بعد میں آ موجود ہوئے اور ہم نے بھی خاصی گپ شپ لگائی۔ میں نے اووے جس کا ذکر اکثر ہوتا رہتا تھا کو ایک لا ابالی سا لڑکا سمجھا ہوا تھا وہ تریسٹھ برس کا ایک لگ بھگ ایک میٹر نوے سینٹی میٹر کا لمبا تڑنگا دبلا پتلا بندہ نکلا۔ بڑے سلیقے سے داڑھی کی تراش خراش اور سر کے بالوں کی ایک ننھی سی چوٹی سر کے پیچھے باندھ رکھی تھی۔ جس نے اول عمر میں کہیں شادی کی اور بیوی کینسر کی نذر ہو گئی اس کے بعد وہ ابھی تک بھٹک ہی رہا ہے۔ اور چوراسی سالہ ماں کے ساتھ اکیلا رہ رہا ہے مجھے اس میں ایک انتہائی شائستہ سلجھا ہوا باوقار اور مہذب انسان دیکھنے کو ملا۔
یہاں کی بدقسمتی یہ ہے کہ معاشرتی آزادی نے بطور خاص شادی شدہ جوڑوں میں کچھ ایسے مسائل کو جنم دیا ہے کہ بہت سے اچھے خاصے ایسے ہی سلجھے ہوئے لوگ شادی کے نام سے ہی دور بھاگنے لگے ہیں۔ وہی سوچ مجھے اووے میں دیکھنے کو ملی جس کا ذکر آنٹی ماریہ آمین کے بارے میں اکثر کرتی رہتی ہیں۔ ان دونوں کزنز کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ شادی والے اخلاص اور وفاداری کا مطلق ادراک نہیں رکھتے۔ لہذا ہم اس جنجھٹ میں پڑنا ہی نہیں چاہتے۔ لہذا دونوں ہی مجرد زندگی سے متفق ہیں۔ کیونکہ شادی کے بعد اگر بیوی علیحدگی چاہے تو ساری جائیداد کا بٹوارہ ہو جاتا ہے اور آدھی کی بیوی حقدار ٹھہرتی ہے۔ اووے اور آمین ہی اپنی اپنی والدہ کے وارث ہیں۔ آنٹی ماریہ نے بتایا کہ یہاں تقریباً ہر دوسری شادی ناکام ہو جاتی ہے لہذا عورتیں اور کیا مرد عموماً اگر کچھ آپس میں سمجھوتہ ہو جائے تو یونہی لائف پارٹنر بن کر چند سال گزارتے ہیں اگر نبھ گئی تو فبہا ورنہ اپنا اپنا راستہ لیتے ہیں۔ نا عدالتوں کے چکر نہ وکیلوں کی فیسیں نہ گھر کا بٹوارہ۔ مگر اس قانون کی موجودگی میں اب دس سے بیس فیصد ہی گھر بستے ہیں۔ آنٹی کے سامنے والے گھر میں بھی یہی آسیب اترا۔ میاں بیوی میں علیحدگی ہو گئی اور گھر بک گیا۔ مجھے اووے سے پہلے تعارف نہیں تھا مگر مجھے وہ انتہائی سلجھا ہوا ایک بہت وسیع الظرف اور بہت دور اندیش انسان لگا اسی طرح آمین جس سے کبھی کسی موضوع پر طویل گفتگو نہیں ہوئی تھی پہلی بار اس کے ساتھ بہت سارے موضوعات پہ گفتگو ہوئی جن میں خاندانی سیاسی مذہبی جن کو وہ بڑی مہارت سے کہیں نفسیاتی اور کہیں فلاسفی کی طرف لے جاتا تھا عالمی اور ملکی سیاست پر بھی اس کی گہری نظر ہے۔ آنٹی نے اس وعدے کے ساتھ کہ تم آمین کو نہیں بتاؤ گے آمین کی سندات مجھے دکھائیں۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کے نوٹس یعنی پوزیشنیں ہر جگہ ایک یا دو تھیں جن کے مطابق وہ میڈیسن میں جاسکتا تھا۔ مگر اس نے اپنے لیے انجینئر پیمائش اراضی جسے ہم گرداور کہہ سکتے ہیں منتخب کیا۔ اور وہ اس وقت اپنے شعبے کا چیف ہے۔ آنٹی اور ٓآنٹی باربرا ایک اچھے خاصے بڑے زمیندار کی بیٹیاں ہیں۔ جن کی اب بھی کوبلنز شہر میں خاصی اراضی ہے۔ گویا آمین کے دماغ میں بھی زمین سے جڑے رہنے کی کوئی رگ باقی ہے جو اس نے گرداوری کو پسند کیا۔ پھر باپ کی طرف سے بھی زمیندار ہے۔ ہمارے ہاں تو پتہ نہیں گرداور کیا پڑھتے ہیں مگر یہاں اس شعبے کا پیمائش کرنے والا باقاعدہ ڈپلومہ انجینئر ہوتا ہے۔ اس نے بھی شادی نہیں کی کہ آج کے دور میں کوئی وفادار بیوی مل ہی نہیں سکتی۔ گرد و پیش بہر حال اس کی اس سوچ کا موید ہے۔ جہاں اس معاشرے میں کچھ اقدار اچھی ہیں وہاں اب یہ خرابی آسیب کی طرح معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتی چلی جا رہی ہے۔ وہاں آنٹی نے کچھ لڑکیوں کے بارے میں بتایا کہ فلاں کے دو بچے ہیں اور دونوں کے باپ الگ الگ ہیں اب وہ تیسرے کے ساتھ رہتی ہے۔ ان بچوں کی حالت اور باتیں سن کر دل کو انتہائی رنج پہنچا۔ کہ وہ کس قدر باپوں کے پیار سے محروم اور ہر ایک میں ہی اپنے باپ کی محبت کے متلاشی ہیں۔
اگرچہ ہمارے معاشرے میں بھی خانگی اور ازدواجی مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ مگر جرمنی میں ان کی شکل خاصی خوفناک کہی جا سکتی ہے۔ بہت سے اب بغیر شادی کے ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر بغیر شادی کے اکٹھے رہنے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا اور گورنمنٹ نے بھی ایسے جوڑوں کو رعایت دے رکھی ہے۔
آنٹی باربرا جنہیں سب بیٹی کہتے ہیں بیٹی ان کا نک نیم ہے باوجود چوراسی سال کی عمر کے ساٹھ سالہ لگتی ہیں۔ جس نے دروازے پر آ کر سب مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور میز پر بیٹھے سب کی پیالیوں میں میز کے گرد گھوم کر سب کی پیالیوں میں خود کافی پیش کی۔ اس کی آنکھوں میں بات کرتے لڑکیوں والی چمک اور شرارت محسوس کی جا سکتی تھی ہماری بزرگ خواتین والا بڑا پن یا بوڑھی ہونے کا احساس کا دور تک کوئی شائبہ نہیں تھا وہ ہر عورت کو جیسے سہیلیاں ایک دوسری کو چھیڑتی اور باتوں سے گدی گدی کرتی ہیں۔ وہی باربرا کا طور تھا۔ اس کے میاں ہر کیمپر کو گزرے کئی سال ہو چکے تھے۔ مگر آنٹی باربرا کا دم خم آنٹی ماریہ ہی کی طرح خاصا قائم تھا، آنٹی ماریہ اور باربرا کی جائیداد اور آمدنی کا سن کر میں حیران رہ گیا۔ مگر دونوں اپنے گھروں کی صفائی کھانا پکانا غرض کہ ہر کام وہ خود کرتی ہیں صرف یہی نہیں گھروں کے عقب میں بڑے بڑے گارڈن بھی ہیں جن کی دیکھ بھال تراش خراش ایک مالی کا متقاضی ہے۔ میں نے آمین کو اکثر اور اس دن اووے بھی ماں کے اسی دن کے کسی کام پہ خبردار کرتے دیکھا کہ اب تم نے فلاں چیز یا کام کو ہاتھ نہیں لگانا۔ جبکہ دونوں کے بہت بڑے بڑے گھر ہیں۔ جو انتہائی نفاست اور گہرے ذوقِ آرائش کے آئینہ دار ہیں۔ ان کی آمدنی اتنی ہے کہ دونوں بہنیں پوری پوری تنخواہ پہ دو تین ملازم رکھ سکتی ہیں۔ آنٹی ماریہ مجھ سے کچن میں یا کھانا لگانے میں بھی مدد لینے کو تیار نہیں تھیں۔ ہر بار یہ کہہ کر کہ مبشر مجھے حرکت میں رہنے دو۔ میں اسی لیے ابھی تک متحرک ہوں کہ سارے کام میں خود کرنا چاہتی ہوں اور خود ہی سب کچھ کرنے پہ مصر رہتیں۔
میرے خیال میں اگر کوئی خاص رکاوٹ یا وجہ نہ ہو تو بطور خاص پچاس سال کے بعد ایسی مجالس انسان کو ایک قوت اور جینے کی امنگ دیتی ہیں۔ جن میں پرانے دوستوں سے مل کر کبھی کبھی انسان بچپن کی حماقتوں کو بچوں کی طرح ہی یاد کر کے لطف اٹھا سکتا ہے۔ مگر ستم تو یہ ہے کہ ہم لوگوں کا بچپن کیا اور جوانی کیا سب تلاش روزگار اور پردیس کے دھکوں کی نذر ہو گیا۔ ہمارے ملک کے کچھ خوش نصیب دوست ہی ہوں گے جو ساری عمر پاکستان میں ہی رہ سکے ہوں۔
مجھے ان عورتوں کی باتوں کو سن کر ان پہ یک گونہ رشک آبا۔ اگرچہ یہ لوگ مذہب سے بہت دور ہو چکے ہیں اور پھر دو عظیم جنگیں لڑ چکے ہیں۔ مگر ان کی پھر بھی کچھ اقدار ایسی ہیں کہ جن کی تعریف نہ کرنا کنجوسی ہوگی۔ آنٹی نے بتایا کہ ان کے والد صرف بتیس سال کی عمر میں فرانس میں جنگ عظیم دوم کے شعلوں کی نظر ہو گئے۔ ان کی ان دونوں بیٹیوں کو ان کی ماں نے بہت اچھی تربیت کے ساتھ پالا پوسا۔ آنٹی کے تین چچا جو جنگ عظیم سے بچ کر واپس پہنچ گئے آنٹی بتاتی ہیں کہ ان کے والد کی فرانس میں جنگ میں ٹانگیں کٹ گئیں وہاں کے کسی علاقے کی عورتوں نے ان کی بہت مدد کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکے ان کی قبر فرانس میں ہے جہاں آنٹی جنگ کے بعد ماں کے ساتھ قبر پہ پھول چڑھانے گئیں۔ ایک چچا جو روس سے کسی طرح بچ کر پولینڈ تک پہنچ گئے یہ تین جرمن سپاہی تھے جو زخمی بھی تھے کسی گاؤں میں انہوں نے شب بسری کے لیے کسی عورت سے پوچھا اس نے بہت ہمدردی دکھائی اور انہیں ایک کمرے میں رات گزارنے کی پیشکش کی واضح رہے کہ ان دنوں مرد ہر جگہ پہ جنگ میں مصروف تھے لہذا عورتیں اکثر گھروں میں اکیلی تھیں۔ جس کمرے میں یہ تینوں جرمن سپاہی سونے لگے تو وہاں انہیں ایک عجیب سی بساند محسوس ہوئی۔ عورتوں کے جانے کے بعد ایک سپاہی نے اندر کھڑی بڑی الماری کے پٹ کو کسی طرح کھول کر اندر دیکھنے کی کوشش کی۔ اسے کچھ شک ہو گیا تھا۔ اندر دو جرمن فوجیوں کی لاشیں کھڑی کر کے الماری بند کر دی گئی تھی۔ شاید ان عورتوں نے پہلے ایسے ہی دھوکے سے دو کو ابھی ٹھکانے لگایا ہی تھا کہ تین شکار اور آ پہنچے۔ انہوں نے انہیں بھی اندر بلا لیا۔ لاشیں دیکھ کر یہ فوجی فوراً چوکنے ہو گئے اور کھڑکی توڑ کر وہاں سے فرار ہو گئے ان میں آنٹی کے ایک چچا بھی تھے جنگ میں سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے مگر ان پولش عورتوں کی جرات قابل داد تھی۔ اگر یہ وہاں سو جاتے۔ تو شاید ان سے بھی وہی سلوک کیا جاتا۔ ایک چچا جو میرین تھے امریکہ کے قیدی بنے۔ وہ واحد تھے جو جنگ کے بعد سوٹڈ بوٹڈ واپس پہنچے گویا امریکہ کے وزٹ سے واپس پہنچے ہوں۔ امریکی اور فرانسیسی فوجیوں کی نسبت جو برطانوی فوجی یہاں جرمنی کے سرنڈر کے بعد یہاں آئے ان کے بدخلق ہونے کے بارے میں بہت مشہور ہوا جنگ کی وجہ سے جرمن لوگوں پر کیا کیا مصائب کے پہاڑ ٹوٹے۔ ناقابل بیان ہیں۔ مگر پھر بھی آج یہ قوم اپنے پاؤں پہ کھڑی ہے۔ انسان ان کی محنت حوصلہ مندی وسیع الظرفی یک جہتی اور مستقل مزاجی کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ گو کہ استثناء ہر جگہ ہوتے ہیں۔ مگر جائزہ عام طور پر مجموعی صورتحال کا لیا جاتا ہے۔
دونوں بہنوں میں کمال کی محبت دیکھنے کو ملی۔ اور ان کی محبت کا ہی ثمر ہے کہ دونوں کے بچوں میں بھی آپس میں انتہائی محبت اور پیار کا رشتہ ہے۔ باوجود اس کے کہ اس خاندان میں اپنی جائیداد کے کئی بٹوارے ہوئے۔ مگر بڑوں نے جس طرح بٹوارہ کیا سب نے اس پہ آمنا و صدقنا کہا۔ اس فیملی کے کوبلنز میں وسیع اراضی کے علاوہ ووپرٹال میں آٹھ یا دس مکانات ہیں۔ جن میں کچھ نئے کچھ پرانے بھی ہیں۔ مگر تقسیم میں بقول آنٹی سب بیک آواز متفق ہوئے۔ میں اس سلسلے میں اپنے ملک کی کوئی مثال دینے سے گریز ہی کروں گا کہ سب جانتے ہیں۔ عیاں را چہ بیاں۔
کل شام یعنی ہر بدھ کو آنٹی کا بیٹا اور بیٹی آنٹی کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ مجھے بھی رکنے کا کہا گیا مگر میرا واپسی کا پروگرام پہلے سے طے تھا۔
.


