یورپی یونین سے اخراج کا آرٹیکل 50 ہے کیا، اور اب آگے کیا ہو گا؟

وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے بریگزٹ کا عمل شروع کرنے کی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔

آرٹیکل 50 میں کیا لکھا ہے؟

آرٹیکل 50 بہت مختصر دستاویز ہے، لیکن محض پانچ پیراگرافوں پر مشتمل اس دستاویز میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کا کوئی رکن ملک اگر یونین چھوڑنا چاہتا ہے تو اسے لازماً یورپی یونین کو آگاہ کر کے اس سلسلے میں مذاکرات شروع کرنا ہوں گے، اور یہ کہ اس عمل پر دو برس صرف ہوں گے۔

اس میں لکھا ہے کہ انخلا کے معاہدے کو یونین کی واضح اکثریت (72 فیصد) کے ساتھ منظور کرنا ہو گا، لیکن اس کے ساتھ اسے ارکانِ پارلیمان کی بھی حمایت حاصل ہو گی۔

پانچویں پیراگراف میں یہ امکان اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک یورپی یونین چھوڑنے کے بعد دوبارہ اس میں شمولیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے آرٹیکل 49 کے تحت دیکھا جائے گا۔

یہ آرٹیکل لارڈ کیر آف کنلوکارڈ نے لکھا تھا جو کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے ذہن میں یہ تھا کہ اس کا استعمال کسی ممبر ملک میں فوجی انقلاب کی صورت میں ہوگا اور کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے برطانیہ کی علیحدگی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس پر اتنا وقت کیوں لگا؟

برطانیہ نے جون 2016 میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے بعد یہ حکومت پر منحصر تھا کہ وہ کب یورپی کونسل کو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کرتی ہے۔
وزیرِ اعظم مے نے گذشہ اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ مارچ کے اختتام تک ایسا کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہتیں۔

اگلے مراحل کیا ہیں؟

آگے پیش آنے والے واقعات کی ممکنہ ٹائم لائن یہ ہے:

  • 29 مارچ 2017: برطانیہ نے آرٹیکل 50 متحرک کر دیا
  • مئی 2017: یورپی کمیشن مذاکرات کی گائیڈ لائن شائع کرے گا جس میں مستقبل میں یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان تجارتی معاہدوں کے مستقبل کا بھی ذکر ہو گا
  • مئی/جون 2017: مذاکرات کا آغاز
  • 23 اپریل اور 7 مئی: فرانس میں صدارتی انتخابات
  • 24 ستمبر: جرمن پارلیمانی انتخابات
  • خزاں 2017: توقع ہے کہ برطانوی حکومت یورپی یونین چھوڑنے کے لیے قانون وضع کرے گی اور تمام حالیہ یورپی یونین کے قوانین کو برطانوی قوانین میں ضم کر دیا جائے گا۔ اس کا نام ’دا گریٹ ری پیل بل‘ ہو گا
  • اکتوبر 2018: امید ہے کہ مذاکرات مکمل ہو جائیں گے
  • اکتوبر 2018 اور مارچ 2019 کے درمیان: پارلیمان کے ایوان، یورپی کونسل اور یورپی پارلیمان معاہدے پر ووٹنگ کریں گی
  • مارچ 2019: برطانیہ باضابطہ طور پر یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا (آرٹیکل 50 کے مذاکرات طول پکڑ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے دیگر تمام 27 ارکان کی منظوری درکار ہو گی)
مذاکرات میں کیا شامل ہو گا؟

یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس میں تجارتی معاہدہ شامل ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے نمائندوں نے کہا ہے کہ انخلا اور تجارت کے معاہدے الگ الگ ہونے چاہییں۔
برطانیہ جلد ہی برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہریوں اور یورپی یونین میں رہنے والے برطانوی شہریوں کے حقوق کے بارے میں معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

دوسرے معاملات میں سرحدی سکیورٹی، یورپی حراستی وارنٹ، یورپی یونین کے ان اداروں کی منتقلی جن کے ہیڈکوارٹر برطانیہ میں ہیں، برطانوی شہریوں کی پنشن وغیرہ شامل ہیں۔

مذاکرات میں کون شامل ہو گا؟

یورپی کمیشن نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جس کے سربراہ مائیکل بارنیئر ہوں گے۔ برطانیہ کی جانب سے وزیرِ اعظم مذاکرات کی سربراہی کریں گی۔ ان کا ساتھ ڈیوڈ ڈیوس دیں گے جو یورپی یونین سے علیحدگی کے محکمے کے سربراہ ہیں۔

کیا برطانیہ ارادہ بدل سکتا ہے؟

آرٹیکل 50 اس سے پہلے کبھی روبہ عمل نہیں لایا گیا اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا طریقۂ کار کیا ہو گا۔ لیکن اس آرٹیکل کے مصنف لارڈ کیر کا خیال ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔
انھوں نے نومبر 2016 میں بی بی سی کو بتایا تھا: ’یہ ناقابلِ تنسیخ نہیں ہے۔ آپ اس عمل کے دوران ارادہ بدل سکتے ہیں۔ تاہم اگر ایسا ہوا تو بہت سے ملک اس پر برہم ہوں گے کیوں کہ اس میں سب کا بہت وقت ضائع ہو گا۔ ‘

Comments - User is solely responsible for his/her words