تعلیمی نصاب اور رواداری: ایک فکری جائزہ
تعلیم کسی بھی معاشرے کی فکری، ثقافتی اور معاشرتی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو افراد کو ذہنی، اخلاقی اور معاشرتی سطح پر ترقی کی راہ دکھاتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں تعلیمی نظام، چاہے وہ نجی ہو یا سرکاری، بہت سے چیلنجز اور تضادات کا شکار ہے۔ ان میں سے ایک بڑا مسئلہ نصاب میں موجود مواد ہے جو عدم برداشت، فرقہ واریت اور شدت پسندی کے رجحانات کو غیر محسوس انداز میں فروغ دیتا ہے۔ نتیجتاً معاشرہ ایسے رویوں کا گہوارہ بن چکا ہے جہاں رواداری اور ذہنی وسعت کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔
اگر ہم نجی تعلیمی اداروں کا جائزہ لیں تو یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ یہ ادارے بنیادی طور پر منافع بخش کاروباری ادارے ہیں۔ ان کے لیے تعلیم کاروبار سے زیادہ کچھ نہیں، جس کے تحت وہ اپنے نصاب اور پالیسیوں کو معاشرتی اصلاح کے بجائے مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ تعلیمی ادارے، جو نئی نسل کی ذہن سازی کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اگر خود بھی تعلیم کے اصل مقاصد سے بھٹک جائیں تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔ ان اداروں کے لیے تعلیم محض ایک معاشی عمل بن چکا ہے، جس میں اخلاقی اقدار، برداشت اور وسعتِ قلبی جیسی خصوصیات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
تاہم، سرکاری تعلیمی ادارے بھی اس معاملے میں مختلف نہیں۔ ماضی قریب میں شدت پسندی کے کئی واقعات میں ملوث افراد سرکاری جامعات اور اسکولوں کے فارغ التحصیل تھے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف تعلیمی مواقع یا معیار کا نہیں، بلکہ نصاب میں شامل اس مواد کا ہے جو ہمیں فکری آزادی، اختلافِ رائے کے احترام اور وسیع النظر رویوں سے دور رکھتا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد ذہن سازی اور اخلاقی تربیت ہوتا ہے، لیکن جب نصاب میں تفریق، تعصب اور یک طرفہ نظریات کو شامل کر دیا جائے تو معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس کی تصدیق ماہر نفسیات البرٹ بئندورا ( 1925۔ 2021 ) کے سوشل لرننگ تھیوری سے بھی ہوتی ہے، جس کے مطابق بچے اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ اس نظریے کے تحت، بچے اپنے والدین، اساتذہ، اور دیگر لوگوں کے رویوں اور اعمال کو مشاہدہ کر کے اور ان کی نقل کر کے سیکھتے ہیں۔ اگر تعلیمی ماحول میں عدم برداشت، شدت پسندی یا فرقہ واریت کا رجحان موجود ہو گا تو وہی نسل کی شخصیت کا حصہ بن جائے گا۔
تعلیمی نصاب میں موجود تضادات ہمیں اپنے مذہب، ثقافت اور صنفی روایات سے باہر دیکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ تضادات ہمیں خودپسندی کی انتہا تک لے جاتے ہیں، جہاں ہمیں اپنے نظریات اور اپنی روایات کے علاوہ کچھ بھی قابل قبول نہیں لگتا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرت میں مختلف مذاہب، فرقوں اور صنفی گروہوں کے درمیان عدم برداشت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ ماہر تعلیم پائلو فریری ( 1921۔ 1997 ) نے اپنی مشہور کتاب پیڈاگوجی آف دی اوپریسڈ میں بیان کیا کہ تعلیمی نظام معاشرت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے یہ دلیل دی کہ تعلیم نہ صرف علم کی منتقلی کا ذریعہ ہے بلکہ اس کا مقصد عوام کو شعور دینا اور معاشرتی تبدیلی میں مددگار ثابت ہونا ہے۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف نظریاتی جمود کو برقرار رکھنا ہو تو معاشرتی ترقی ممکن نہیں۔ تعلیم کو ایسا ذریعہ ہونا چاہیے جو ذہنی وسعت پیدا کرے اور معاشرتی مساوات کو فروغ دے۔
پاکستان کا موجودہ نصاب اور اس کی پیشکش ایک خاص بیانیے کو پروان چڑھاتے ہیں، جس میں اپنی برتری کا احساس اتنا گہرا ہوتا ہے کہ عجز و انکساری کا پہلو مفقود ہو جاتا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد شخصیت سازی اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ شہری پیدا کرنا ہے، مگر ہمارے تعلیمی نظام نے ہمیں دنیا کے دیگر افراد سے مختلف اور متصادم بنا دیا ہے۔ یہ تضادات نہ صرف معاشرتی تقسیم کو گہرا کرتے ہیں بلکہ ہماری عالمی شناخت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ جان ڈیوی ( 1859۔ 1952 ) نے تعلیم کی عملی افادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا مقصد فرد کو معاشرتی زندگی کے لیے تیار کرنا ہے، تاکہ وہ معاشرت میں مثبت کردار ادا کرے۔ ڈیوی کا خیال تھا کہ تعلیم کو زندگی کے حقیقی مسائل اور تجربات سے منسلک ہونا چاہیے۔ لیکن جب تعلیمی نصاب نظریاتی محدودیت کا شکار ہو تو وہ افراد معاشرے میں تعمیری کے بجائے تخریبی کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ تعلیمی نظام کسی بھی ریاست کے بیانیے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ریاست ہی وہ ادارہ ہے جو اپنے تعلیمی نظام کے ذریعے شہریوں کی سوچ، رویوں اور ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ ریاست کے تعلیمی نصاب اور پالیسیوں میں برداشت، رواداری اور وسیع نظری کی خصوصیات شامل ہونی چاہئیں تاکہ ایک ہم آہنگ معاشرہ تشکیل پائے۔ اس حوالے سے ماریہ مونٹیسوری ( 1870۔ 1952 ) نے ابتدائی تعلیمی نظام میں انسانی اقدار کی شمولیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، تعلیم کا مقصد محبت، امن اور تعاون کو فروغ دینا ہونا چاہیے تاکہ بچپن ہی سے معاشرت میں مثبت رجحانات پروان چڑھ سکیں۔ ان کا تعلیمی فلسفہ بچوں کی فطری دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو ابھارنے پر مبنی تھا۔
پاکستان میں رواداری کی کمی اور عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی ایک اور اہم وجہ صنفی عدم مساوات بھی ہے۔ ہمارا نصاب صنفی مساوات کے بجائے پدرشاہی نظام کو فروغ دیتا ہے، جس سے معاشرے میں خواتین کے حقوق اور مقام کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کارل گلیگون ( 1936۔ تاحال) ، جو کہ خواتین کی نفسیات پر کام کرنے والی مشہور ماہر نفسیات ہیں، نے صنفی توازن اور انصاف کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے تاکہ ہر فرد اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکے۔ نصاب میں صنفی مساوات کو فروغ دینے والے مواد کی شمولیت نہایت ضروری ہے تاکہ معاشرہ خواتین کو بھی مردوں کے برابر مواقع فراہم کرے اور ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرے۔
اس مسئلے کا حل تعلیمی نصاب میں اصلاحات اور ریاستی بیانیے میں تبدیلی ہے۔ نصاب کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، جہاں مذہبی، ثقافتی اور صنفی تنوع کو قبول کیا جائے۔ تعلیمی ادارے طلباء میں رواداری، ذہنی وسعت اور اختلافِ رائے کا احترام پیدا کریں۔ یہ وہ اقدار ہیں جو گلوبل سٹیزن بننے کے لیے ضروری ہیں۔ ہارورڈ گارڈنر ( 1943۔ تاحال) کے مطابق، ہر فرد میں مختلف ذہنی اور سماجی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ منطقی، موسیقی، جسمانی۔ حرکی، بین الشخصی، اندرونی اور فطری ذہانت۔ ان صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی نصاب میں تنوع، تخلیقی سوچ اور مثبت رویوں کو شامل کیا جائے۔
ریاست کا کردار یہاں نہایت اہم ہے۔ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے ایک ایسا تعلیمی نظام وضع کریں جو انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنائے۔ تعلیم کو نظریاتی جمود سے نکال کر عملی، تخلیقی اور تحقیقی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ نصاب کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے کہ وہ طلباء میں برداشت، رواداری اور وسیع نظری کو فروغ دے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ سماجی اصلاحات کے ذریعے شہریوں کی سوچ کو جدید خطوط پر استوار کرے، تاکہ وہ اپنی شناخت اور اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی برادری کا فعال حصہ بن سکیں۔
تعلیم کا اصل مقصد ذہنوں کو آزاد اور روشن کرنا ہے، تاکہ وہ معاشرے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اگر تعلیمی نظام میں موجود تضادات اور نظریاتی انتہاپسندی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ہم مستقبل میں بھی ایک منقسم اور غیر متوازن معاشرہ ہی دیکھیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نصاب کو انسانی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی نظریات کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ پاکستان کا تعلیمی نظام ایک ترقی پسند، برداشت اور رواداری پر مبنی معاشرہ تشکیل دے سکے۔

