باغِ نشاط کی طرف
جب شروع شروع میں فنونِ لطیفہ کی دیوی نے میرے دل و دماغ کو روشن کیا تو سب سے منور علاقہ شاعری کا تھا۔ شعر پڑھنا، اس کے معنی کی گہرائیوں تک اترنے کی کوشش کرنا، بحور، اوزان کی ریاضی کی دریافت اور لفظوں کی نشست و برخاست کو سمجھنے کی سعی، میرے لئے سب سے زیادہ لطف انگیز کاروبار تھا۔ نئے نئے قافیوں سے پھوٹتے ہوئے چشموں کی تفہیم اور تازہ بہ تازہ مرکب الفاظ کی جادوگری سے واقفیت، میرے دن رات کو مہکائے رکھتے۔ خود شعر کہنے لگا تو ایک اچھی نظم یا غزل کہہ کر مسحور سا ہو جاتا۔ کئی کئی دن اس کا نشہ طاری رہتا۔ پھر کسی نئے خیال کی آمد ہوتی اور میں اُسے منظوم کرنے میں مگن ہو جاتا۔ یہ سلسلہ کتنے ہی برسوں تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ میری شاعری کے تین مجموعے شائع ہو گئے۔
پھر نجانے کیا ہوا کہ شاعری مجھے ایک کارِ بیکار محسوس ہونے لگی۔ اچھی نثر تو میں افسانے، ناول اور مضامین کی صورت میں پہلے ہی پڑھ رہا تھا کہ مطالعہ کا آغاز ہی ناول اور افسانے سے کیا تھا مگر خبر نہیں کیسے، یہ احساس دن بہ دن مضبوط ہونے لگا کہ شاعری ایک وقتی لطف کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مشاعروں کی واہ واہ بھی ایک بلبلہ نما کھیل تماشا ہے اور بس۔ شاعری عقل و خرد کی دنیا میں کچھ بھی اضافہ نہیں کر رہی اور نا ہی اس میں اب نئے خیالات اور محسوسات پیدا کرنے کی سکت رہ گئی ہے۔ یوں شاعری سے میری دُوری میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
پھر مجھے غلام حسین ساجد صاحب کا ایک مجموعہ کلام ”باغِ نشاط کی طرف“ کے عنوان سے ملا۔ اندرونی فلیپ پر لکھے ہوئے اشعار پر نظر پڑی تو ایک خوشگوار حیرت کا احساس ہوا۔ غزل کی ہیئت اور اس قدر تازہ خیالات، میں کتاب کے تفصیلی مطالعہ پر مجبور ہو گیا۔
منتشر ہو گیا ہے عکس مرا
کر دیا آئنے نے رد شاید
اس کتاب کا مطالعہ بے حد پُرکیف اور حیرت انگیز ہے لیکن اتنا آسان نہیں کہ کسی افسانے یا ناول کی طرح پڑھتے چلے جائیں۔ جدید خیالات اور پھر اُن کا جدید تر بیان قاری کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ بلندیوں کے اس سفر پر رُک رُک کر اور وقفے وقفے سے سانس بحال کر کے آگے بڑھے کہ خود شاعر کا دعویٰ ہے
کسی کی مدح سرائی سے کچھ غرض رکھّی
نہ میں نے ایک بھی مصرع برائے داد کہا
اسی ضمن میں ایک اور شعر دیکھیے۔
دماغ چاٹ لیا بے دماغ لوگوں نے
گلی میں بہتی ہوئی شاعری سے ڈرتا ہوں
اب، اگر کوئی شاعر آج کے زمانے میں کسی کی بھی مدح سرائی پر آمادہ نہیں ہے اور نا ہی داد کی طلب میں کچھ کلام کرتا ہے تو اُس کا گلی میں بہتی ہوئی شاعری سے ڈرنا فطری عمل ہے۔ اس کے بعد وہ کمزور شعر کہنے کی عیاشی کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا۔ خود میَں، جو تبصرہ نگار یا ناقد، کچھ بھی نہیں ہوں اور نا ہی ایسا ہونا چاہتا ہوں، صرف کسی کتاب کی محبت سے مجبور ہو کر ہی اُس سے اپنی اُلفت کا اظہار کرتا ہوں۔ آگے چل کر میں اس شعری مجموعہ سے کچھ اور اشعار کے حوالے بھی دوں گا، جو میرے اس پیار کی بنیاد ٹھہرے۔ پہلے آپ مندرجہ ذیل چند مصرعوں پر غور کیجیے، جو علیحدہ علیحدہ غزلوں سے ہیں۔ میں نے ان تنہا تنہا مصرعوں میں احساس، خواہش، حیرت اور منظر نگاری کا ایک ایسا جہاں محسوس کیا ہے جو اس سے پہلے کہیں نہیں پایا۔
دریا کے لب سی رکھّے تھے، دو ناراض کناروں نے
مرا شمار ہو بیدار کرنے والوں میں
دستک پہ بھروسا ہے نہ کانوں پہ بھروسا
چاک سے اُترے زمیں تو کچھ دکھائی دے مجھے
یقیناً ہر انسان پر کچھ ایسا وقت آتا ہو گا جب اُسے صرف رومانی شاعری ہی لطف مہیا کرتی ہو گی۔ عین ممکن ہے کچھ لوگ عمر بھر ایسی ہی ذہنی حالت میں رہتے ہوں۔ مگر میرے جیسے مطالعہ کے شوقین کے لئے یہ نہایت مشکل مقام ہے۔ فکشن ہو یا شاعری، اگر وہ سوچ کے نئے نئے در وا نہیں کرتی تو وہ میرے اور میرے ہم خیال لوگوں کے لئے بالکل نہیں ہے۔ اب میں ”باغِ نشاط کی طرف“ سے چند ایک مزید اشعار پیش کرتا ہوں کہ جن میں موجود جدّتِ فکر کی وجہ سے، کل ایک سو پینتیس صفحات کی اس کتاب کو مکمل پڑھنے میں مجھے تین ہفتے لگ گئے۔ حالانکہ تمام تر غزلیں عام فہم زبان میں کہی گئی ہیں۔ مشکل الفاظ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے مگر نئے نئے مضامین قاری کی قرات کو بار بار روک لیتے ہیں۔ ضروری ہو جاتا ہے کہ پہلے انہیں سمجھا اور ان سے لطف اندوز ہوا جائے، ورنہ آگے بڑھنے کی گستاخی نہ کی جائے۔
پیدا ہوئی عروج سے صورت زوال کی
سورج جواں ہوا تو مرا سایہ گھٹ گیا
کبھی میداں میں ہاریں گے، کبھی بستر پر
اپنے بل پر ہے بھروسا نہ یقیں سر پر ہے
عجیب معرکہ درپیش ہے کئی دن سے
کوئی حلیف ہے اپنا نہ ہم ہمارے ساتھ
منجمد جیسے ہوں پتّوں پر طلسمی تتلیاں
اس نگر میں کس قدر رنگین ہے فصلِ خزاں
وصل سے پہلے کی حالت، وصل اور وصل کے بعد کے حالات پر نظم و نثر میں کئی زاویہ نظر کے بیان پڑھے اور سنے ہیں، مگر یہ بھی ملاحظہ کیجیے۔
وہ بار بار لپٹتا تھا میرے سینے سے
ڈرا ہوا کہ ڈرایا ہوا تھا یاد نہیں
اپنے ہونٹوں سے اپنا نام لکھا
اُس نے پیشانی چوم کر میری
جاگنا بوجھ لگ رہا ہے مجھے
نیند طاری ہوئی ہے بعد وصال
وہ جو کہتے ہیں کہ شاعری کا بنیادی علم ہونے کے بعد سب سے آسان کام غزل کہنا ہے اور سب سے مشکل ”اچھی غزل“ کہنا۔ تو مجھے اقرار کرنے دیجیے کہ ”باغِ نشاط کی طرف“ ایک سے بڑھ کر ایک دل آویز اور حیرت انگیز غزل سے لبریز ہے۔
یوں تو اور بھی بیسیوں ایسے شاندار اشعار اس مجموعہ میں شامل ہیں کہ روح فزا بھی ہیں اور خرد افروز بھی لیکن وہ اب اس کتاب کے قاری کی ذمہ داری ہے کہ انہیں ڈھونڈ کر اُن سے لطف اندوز ہو البتہ ایک غزل کا حوالہ دینا نہایت ضروری خیال کرتا ہوں۔ صفحہ 34 پر موجود پوری غزل انتہائی داد کے قابل ہے۔ میں یہاں صرف اس کا مطلع لکھ رہا ہوں۔
اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو میَں دکھائی دیا
ضم ہُوا آئنے میں مرا عکس تو میَں دکھائی دیا
اچھی شاعری میں ایک اہم خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کی قرات خود قاری کو شعر کہنے پر اُکساتی ہے۔ ”باغِ نشاط کی طرف“ میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔
اس کتاب کے پبلشر ہیں ”رنگِ ادب پبلی کیشنز، اردو بازار، کراچی“ ۔



