گزرے برسوں کے پرندے، پرانی پتنگیں اور ایک خط

ایک سائنس میگزین آیا کرتا تھا۔ لیٹر باکس بازار میں مدنی بک ڈبو کے باہر پڑا رہتا تھا۔ اور میں جب بھی خط ڈالنے بازار جاتی سائنس میگزین چرا لاتی۔ اگلی بار میگزین واپس رکھ آتی۔ ماہنامہ سائنس میگزین تھا شاید۔ اس میگزین میں جس دنیا کا ذکر کیا گیا تھا۔ آج میں اسی دنیا میں جی رہی ہوں۔ لیکن میرے سوالوں کے انبار کے پیچھے اسی سائنس میگزین کا ہاتھ ہے۔
جائداد کو لے کر جب جھگڑا ہوا تو دادی نے خط لکھوانے بند کر دیے۔ مگر میں نے خط لکھنا نہیں چھوڑا۔ ہاں اپنے گھر کا پتہ درج ہوتا نہ تایا کے گھر کا۔ خط میں کبھی اسکیچ ہوتا تو کبھی سائنس میگزین پڑھ کر ہونے والے تجربے اور مشاہدے کا ذکر ہوتا تو کبھی اسلامیات پر بات ہوتی تو کبھی ابو کے سخت رویے پر۔ کبھی اپنے دکھڑے روئے جاتی تو کبھی یونہی خط لکھ دیتی۔ میرے آدھے سے زیادہ سائنسی تجربات اور انجینئرنگ اسی میگزین کی مرہون منت ہے۔ ایک بار تو یوں ہوا کہ میگزین میں کمپاس بنانے کا طریقہ دیکھا اور تجربہ کیا۔ ایک پلیٹ میں پانی ڈالا۔ یہاں تک کہ پلیٹ لبا لب بھر گئی۔ پھر ایک ٹشو پیپر پر ناکے والی سوئی رکھی۔ اور ٹشو پیپر کو آرام سے پلیٹ پر رکھ چھوڑا۔ جوں جوں ٹشو پیپر گیلا ہوتا گیا۔ سوئی پانی کی سطح پر ہی رہی جبکہ ٹشو پیپر نیچے بیٹھتا گیا۔ ٹشو جب مکمل طور پر پلیٹ کے پیندے پر چلا گیا تب سوئی نے کمپاس کی طرح شمال کی جانب سرا اور جنوب کی جانب ناکا کر دیا۔”کسی بھی سوئی کو جب آزاد چھوڑا جاتا ہے تو وہ ہمیشہ شمالاً جنوباً کیوں رکتی ہے؟ “ یا” کمپاس کی سوئی ہمیشہ شمالاً جنوبً کیوں تیرتی ہے ؟“اور” مقناطیس پر "S”, "N”کی جگہ "E”, "W”کیوں نہیں ہو سکتے ہیں؟“۔ شاید تیسری جماعت میں تھی جب سائنس کی استانی سے یہ تین سوال کیے تھے۔ کہ ’ مقناطیس ہمیشہ شمالاً جنوباً کیوں اشارہ دیتا ہے؟ اور کمپاس کس اصول پر کام کرتی ہے۔ اس وقت استانی نے مجھے یہی جواب دیا تھا کہ ”شمال اور جنوب کی جانب مقناطیس کا ایک بہت بڑا پہاڑ ہے۔ جب راستہ معلوم کرنا ہوتا ہے تو خدا کمپاس کی سوئی کا پہاڑ کے ساتھ کنکشن کرا دیتا ہے۔ “اس جواب پر کبھی دل نہیں مانا۔ سائنس میگزین سے مجھے جواب ملا۔ تشنگی تو ابھی بھی باقی ہے مگر مجھے کچھ نہ کچھ ڈھنگ کا جواب تو ملا۔ پھر سائنس میگزین آنا بند ہو گیا۔ یا شاید مدنی بک شاپ والوں نے میگزین بند کرا دیا ہو گا۔ اتنا معلوم ہے اس کے بعد میں نے خط نہیں لکھا۔
پھر کئی سال بعد جب دادا ابو بھی مجھے چھوڑ کر اس دنیا سے کوچ کر گئے تب خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہی تھی۔ تب پھر خط لکھا اور اس میں تمام جذبات انڈیل دیے۔ لیکن ایک غلطی یہ ہوئی کہ اپنا نام پتہ لکھ دیا۔ خط ابا نے ڈاکیے سے موصول کیا۔ پھر جو سلوک ہوا، وہ بہت ناخوشگوار تھا۔ لیکن یہ سب میرا بچپنا تھا۔ ابا نے وہ خط ابھی تک سنبھال رکھا ہے۔ جب بھی میرا کوئی مضمون کسی اخبار یا ہم سب پر چھپے اور فیس بک پر ان کی آنکھوں کے سامنے سے لنک گزرے تو سب دوستوں کو بتلاتے ہیں۔ یہ میری بیٹی کے کرتوت ہیں۔ پہلے خط لکھتی تھی اب مضمون لکھتی ہے۔ خدا کے حضور ابا کے لئے دعائیں ہیں۔ کہ ماں باپ ہزار نعمت ہیں۔ اب تو ابا بھی کہتے ہیں۔ سوال کرنے چاہئیں۔ بندے کا دماغ کھلتا ہے اور علم و تحقیق کے در وازے کھلتے ہیں۔

