چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک کے بیچ چھپن چھپائی اور ہمارا مستقبل
سیانے کہتے ہیں کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس ہی روندی جاتی ہے، یہ دنیا ایک بساط کی مانند ہے جس پر طاقتور ترین ہی راج کرتے ہیں، آج کی دنیا کا فاتح وہی کہلائے گا جو علم و ہنر اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہو گا اور ان پر انحصار کرنے والے للچائی سی نظروں سے انہیں دیکھتے رہیں گے، برابر پہنچنے کے لیے ذہنی ریاضت کرنا پڑتی ہے، نئی نسل کو وہ ماحول اور سہولیات فراہم کرنا پڑتی ہیں جن کی مدد سے بلندیاں نصیب ہوتی ہیں، تخلیقی اذہان تو وہیں پنپ سکتے ہیں نا جہاں ریسرچ سینٹرز اور تجرباتی لیبارٹریز کی بھرمار ہوگی۔
روحانی یونیورسٹیوں میں تقلیدی اذہان تو پیدا ہو سکتے ہیں تخلیقی نہیں، ہمارا بنیادی المیہ ہی یہی ہے کہ ہم نے یونیورسٹیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بجائے انہیں مدارس میں تبدیل کر دیا ہے، وہاں ریسرچ سکالرز کو مدعو کرنے کی بجائے موٹیویشنل اسپیکرز، روحانی و مذہبی ہستیوں کو مدعو کرتے ہیں، اب اس طرح کے ماحول میں تخلیق کار کیسے جنم لے سکتے ہیں؟
ہم اور ہمارا تعلیمی نظام ترقی یافتہ ممالک کی نسبت صدیوں پیچھے ہے اور یہ فاصلہ قریب قریب سمٹتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
دنیا اس قدر تیزی سے بدل رہی ہے کہ حیران ہونے کا ”ٹائم سپین“ بھی کم پڑتا جا رہا ہے، انسان ابھی پچھلی حیرت پر انگشت بدنداں کی سی کیفیت میں ہوتا ہے کہ چند لمحوں بعد کوئی اور نیا حیرت کدہ سامنے کھل جاتا ہے، انسانی عقل و خرد بھی محو حیرت ہے کہ دنیا اس قدر تیزی سے کیسے بدل رہی ہے؟
چیٹ جی پی ٹی کا ظہور ہوا، جس کے پیچھے امریکہ کی ٹیک کمپنی اے آئی اوپن تھی جس نے انسانی فہم کو جادوئی پر لگا دیے، آپ کے ذہن کے دریچے میں کوئی بھی سوال اٹکا ہوا ہو فوری چیٹ جی پی ٹی سے کنسلٹ کریں ممکنہ جوابات کا ایک جہاں آپ کے سامنے کھل جائے گا۔
ابھی دنیا اسی کے سحر سے پوری طرح باہر نہیں نکل پائی تھی کہ ڈیپ سیک کا ڈنکا بجنے لگا اور چند روز میں ہی چیٹ جی پی ٹی کی مارکیٹ کو اچھے خاصے خسارے کا سامنا کرنا پڑ گیا اور اس میدان میں جس بڑے ہاتھی کو فیصلہ کن برتری حاصل تھی وہ برقرار نہ رہی۔
چیٹ جی پی ٹی کے پیچھے امریکہ بہادر جو ایک طرح سے اے آئی کی دنیا میں فاتح کی حیثیت سے اپنے جھنڈے گاڑ چکا تھا اسے فیصلہ کن برتری کے پیڈسٹل سے اترنا پڑا۔
علم و ہنر ایک ایسا مظہر یا حقیقت ہے جو کسی کی میراث نہیں ہوتا، بازی پلٹنے کے لیے علم و تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنا پڑتا ہے جو آگے بڑھ جاتا ہے وہی قسمت کا سکندر بنتا ہے، انہی قوموں کے بخت جاگتے ہیں جو علم و ہنر میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔
دوسرا ہاتھی بھی علمی مہار ہاتھ میں تھامے آگے بڑھا اور چیٹ جی پی ٹی کے آگے ڈیپ سیک کو لا کھڑا کیا، اب دونوں میدان میں ہیں جس میں جتنا دم ہو گا وہی دنیا بھر میں مستحکم ٹھہرے گا، یاد رہے کہ دوسرے ہاتھی کا نام چین ہے۔
اب جو لوگ ایوولوشن کو سمجھتے ہیں بخوبی جان پائیں گے کہ قانون فطرت میں صرف طاقتور ہی سروائیو کرتا ہے، کمزور خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، انہیں کسی سازش کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جب بیکٹیریا یا کسی بھی وائرس کی میمبرین ٹوٹ جاتی ہے اور اس کا جینیٹک مٹیریل خود کو قائم رکھنے کے قابل نہیں رہتا تو اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
موت کیا ہوتی ہے؟
زندگی ایک بائیو لوجیکل نظام ہوتا ہے جب اس نظام کے بنیادی اعضاء اپنا کام کرنا بند کر دیتے ہیں یا ان کی فنکشنیلٹی ٹوٹ جاتی ہے تو حیات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
قوموں کی حیات علم و ہنر سے مستحکم ہوتی ہے، علم و شعور وہیں پنپتا ہے جہاں لیبارٹریز کی صورت میں علمی چھاؤنیاں قائم ہوتی ہیں اور فطرت کے کھوجی حقائق کی ٹوہ میں اپنی زندگیاں تیاگنے میں لگے رہتے ہیں۔
جب علم کی سپلائی لائن کٹتی ہے تو قومیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں یا پھر طاقتوروں کی دست نگر بنی رہتی ہیں جو انہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔
آج کا ہتھیار اے آئی ہے جو اس میدان میں آگے ہو گا اسی کا ڈنکا بجے گا۔
قصہ مختصر، چیٹ جی پی ٹی کی صورت میں امریکہ کو جو نمایاں برتری حاصل ہوئی تھی اس کو چین نے گرہن لگا دیا ہے، خیر تخلیق کاروں کے بیچ تھوڑا بہت فرق تو چلتا رہتا ہے مسئلہ تو صارفین کا ہوتا ہے جو تخلیق سے کوسوں دور عظمت رفتہ کی غاروں میں دبکے رہتے ہیں۔


