پولیس گردی قانونِ دان کے ساتھ
پاکستان میں پولیس کی بربریت درحقیقت ایک وسیع مسئلہ ہے، جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی وسیع پیمانے پر رپورٹس سامنے آتی ہیں۔ پولیس پر اکثر لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کا الزام لگایا جاتا ہے، اور بے گناہ افراد کو اکثر ہراساں، تشدد، اور یہاں تک کہ ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
”انکاؤنٹر قتل“ کا رجحان خاص طور پر پریشان کن ہے، جہاں پولیس پہلے سے زیر حراست افراد کو مارنے کے لیے مسلح مقابلے کرتی ہے۔ یہ عمل اکثر ”سخت مجرموں“ کو انصاف فراہم کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر جائز قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہ قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاتا ہے اور استثنا کی ثقافت کو برقرار رکھتا ہے۔
مزید برآں، پولیس اکثر طاقتور سیاست دانوں، زمینداروں اور دیگر اشرافیہ سے متاثر ہوتی ہے، جو جانبدارانہ تحقیقات اور جائز شکایات کو دبانے کا باعث بن سکتی ہے۔ جوابدہی اور نگرانی کے طریقہ کار کا فقدان ان مسائل کو بڑھاتا ہے، جس سے بدسلوکی کرنے والے پولیس افسران کو استثنا کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ملتی ہے۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پاکستان میں پولیس میں جامع اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اس میں احتساب کے طریقہ کار کو مضبوط کرنا، تربیت اور وسائل کو بہتر بنانا، اور پولیس فورس کے اندر انسانی حقوق کے احترام کے کلچر کو فروغ دینا شامل ہے۔
اب جب وکلا کی تحریک کی بات آتی ہے تو 3 فروری 2025 کو ایس ایس پی حیدرآباد اور ایک وکیل ایک سڑک کراس کر رہے تھے، ایس ایس پی غصے میں ہیں کہ وکیل نے پروٹوکول کیوں کراس کیا اور غصے سے اپنے ماتحت ایس ایچ او کو وکیل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا، جو کہ بلیک کوٹ کی عزت پر سوالیہ نشان ہے۔
ایس ایس پی نے پروٹیکشن لارز ایکٹ 2023 کو یکسر نظر انداز کر دیا۔
اس قانون کے دوسرے باب کے مطابق کسی و کیل کو متعلقہ بار کی پیشگی اجازت سے پہلے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، اس کے برعکس پولیس نے حیدرآباد بار کونسل کی اجازت کے بغیر وکیل کو گرفتار کر لیا، پولیس کا یہ عمل قانون کے ساتھ ساتھ سیاہ کوٹ کے وقار کو بھی مجروح کرتا ہے، اور ظاہر بات ہے قانون جاننے والا وکیل تو اپنے پروفیشن کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کرتا اس لیے وکلا ایس ایس پی کے تبادلے کا مطالبہ کر رہے ہیں جب تک ان کے مطالبات نہیں مانے جاتے وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔
جمہوری ملک میں آمریت قبول نہیں کی جا سکتی۔

