علم کی روشنی دہشت کی اندھیروں میں
قبائلی علاقے افغانستان کی سرحد، ڈیورنڈ لائن، سے جُڑے ہوئے ہیں، اور یہ پورا خطہ جنوبی اور مرکزی ایشیا کے درمیان واقع ہے، جہاں سے عرب دنیا، یورپ، اور ترکی تک آسان راستے نکلتے ہیں۔ عام طور پر دنیا میں وہی اقوام زیادہ متاثر ہوتی ہیں جو بڑی استعماری طاقتوں کے درمیان آتی ہیں، کبھی ایک کے زیرِ اثر اور کبھی دوسری کے۔ قبائلی پٹی بھی صدیوں سے عالمی طاقتوں کے جغرافیائی اور معاشی تنازعات کی زد میں رہی ہے اور آج بھی ان کے اثرات کا شکار ہے۔
اس پوری صورتحال میں ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ، اس علاقے کے لوگ تعلیمی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔
پچھلی کئی دہائیوں سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے باعث قبائلی علاقوں کا تعلیمی نظام سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی، بلکہ پہلے سے موجود تعلیمی ادارے، خصوصاً لڑکیوں کے سکول، مسلسل دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔
تعلیمی اداروں کو بموں دھماکوں سے اڑانا کوئی نئی بات نہیں۔ یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ شدت پسندی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث یہ ادارے شدید متاثر ہو چکے ہیں۔
ماضی میں خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کے متعدد سکولوں کو بم دھماکوں سے تباہ کیا گیا۔ مارچ 2011 میں لنڈی کوتل کے علاقے سلطان خیل میں دو سرکاری پرائمری سکولوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ اسی طرح، خیبر ایجنسی کے مضافاتی علاقوں میں حکومتی رپورٹوں کے مطابق تقریباً چالیس تعلیمی ادارے اور متعدد سرکاری و نیم سرکاری دفاتر تباہ کیے جا چکے ہیں۔
گزشتہ سال شمالی وزیرستان کے میر علی میں موسکی، خسوخیل، اور حیدر خیل گاؤں میں چار لڑکیوں کے سکول دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیے گئے۔ اسی سال شمالی وزیرستان کے سپین وام علاقے میں بھی ایک گرلز سکول کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس کے خلاف مقامی افراد نے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مئی 2024 میں جنوبی وزیرستان کے وانا میں دو گرلز سکولوں کو بم دھماکے میں اڑا دیا گیا، اور چند مہینے بعد ، نومبر میں، جنوبی وزیرستان کے علاقے قرہ باغ میں ایک ہائی سکول کی عمارت کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں تعلیم کی ترقی اور منصوبہ بندی کے معاون سربراہ، نور عالم خان وزیر کا کہنا تھا کہ سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد مسلح گروہوں نے تقریباً 1,000 تعلیمی ادارے تباہ کر دیے ہیں۔
ان حملوں کے باعث ہزاروں طلبہ، خصوصاً طالبات، تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔ مسلسل کئی دہائیوں تک تعلیم کی روشنی سے محروم رہنے کی وجہ سے تعلیمی رجحان کم ہوتا جا رہا ہے، اور لڑکیوں کے حوالے سے تو یہ تک بھلا دیا جاتا ہے کہ ان کا بھی تعلیم سے کوئی واسطہ ہے۔
یہ وحشیانہ حملے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ جب بھی طلبہ و طالبات ہمت کر کے سکول جانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں خوفزدہ کرنے کے لیے کبھی سکولوں کو اڑانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، تو کبھی راستے میں مختلف گروہوں کی جھڑپوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔ ہر دن ایک نئی آزمائش ہوتی ہے، اور نتیجہ یہ ہے کہ بیشتر طلبہ خوف، عدم تحفظ، اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہر دوسرا طالب علم کسی نہ کسی ذہنی یا نفسیاتی بیماری سے نبرد آزما ہے، مگر ان کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں۔
المیہ یہ ہے کہ جو طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے علاقے سے باہر آتے ہیں، وہ بھی محفوظ نہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے بے شمار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال، ضلع کرم کے علاقے پاڑہ چنار کی ڈاکٹر رقیہ، جو چار سال نرسنگ کرنے کے بعد MSN کرنے میں مصروف تھی، اپنے آبائی گاؤں سے پشاور آ رہی تھی کہ راستے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے اسے شہید کر دیا۔ ایسے واقعات صرف کہانیاں نہیں بلکہ ان گنت خوابوں کے بکھرنے اور علم دشمنی کی ایک بھیانک تصویر ہیں۔
ریاست کو ان حالات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر صورتحال جوں کی توں برقرار رہی تو یہ لہر ملک کے دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے، اور یہ خطرہ صرف پختونخوا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔

