سورة رحمٰن سے علاج؟ مکمل کالم


ایک صاحب ہیں، ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، اُن کا دعوٰی ہے کہ ہر بیماری کا علاج سورة رحمٰن میں ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ”آپ قاری باسط مصری کی آواز میں بغیر ترجمے کے سورة رحمٰن سات دن تک روزانہ تین مرتبہ سنیں، پاس آدھا گلاس پانی رکھ لیں، آنکھیں بند کر لیں، ترجمے کے بغیر اِس لیے کہ کہیں آپ کا دھیان لفظوں کی طرف نہ چلا جائے، فوکس سورة رحمٰن والے کی طرف ہونا چاہیے، اصل چیز یہ ہے کہ جس نے شفا دینی ہے آپ اُس کے آگے پیش تو ہوں نا، سو اِس طریقے سے آپ آنکھیں بند کر کے سورة رحمٰن سنیں، پانی پئیں، اور اپنے دل میں جتنے پیار سے ہو سکے تین بار اللہ اللہ اللہ کہیں، یا اللہ بھی نہ کہیں کیونکہ وہ دور ہو جائے گا، وہ بات دوئی میں چلی جائے گی۔ اور پھر اللہ کی خاطر سب کو معاف کر دیں۔ بارہ سال سے چھوٹے بچے کے ماں باپ اگر اِس طرح سورة رحمٰن سُن لیں تو اُن کا آٹیزم والا بچہ شفایاب ہو جائے گا۔ ماں باپ اگر ٹھیک ہوجائیں، وہ اللہ کو مان لیں، اپنا thought process درست کر لیں اور اللہ کی مخلوق کو معاف کر دیں تو اللہ اُن کے بچے کو معاف کر کے ٹھیک کر دے گا“ ۔

خدا میرے گناہ معاف کرے، سستی شہرت کی خاطر اللہ کی کتاب کے بارے میں اِس قسم کے دعوے کرنے والوں کو رتّی برابر بھی شرم نہیں آتی کہ وہ اُس کے کلام سے کس قسم کی من گھڑت باتیں منسوب کر رہے ہیں۔ میڈیکل سائنس کی بات بعد میں کریں گے، پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دعویٰ قرآن و حدیث سے ثابت بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ کیا خدا نے اپنی کتاب میں یا اللہ کے آخری نبیﷺ نے اپنے کسی قول یا عمل کے ذریعے یہ بات کی جو موصوف نہایت قطعیت کے ساتھ یوں بتا رہے ہیں جیسے نعوذ باللہ خدا اِن سے براہ راست ہم کلام ہوتا ہے۔ اور پھر اِس دعوے کا تضاد دیکھیں کہ تلاوت قاری باسط مصری کی آواز میں سننی ہے کیونکہ ’اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ اِس کے نتائج سب سے اچھے ہیں۔ ‘ واہ۔ یعنی سورة رحمٰن اگر قاری شاکر قاسمی کی آواز میں سنیں گے تو وہ شفا نہیں دے گی باسط مصری کا ٹریڈ مارک ہو گا تو اللہ سنے گا۔ استغفراللہ۔

بطور مسلمان قرآن مجید پر ہمارا ایمان ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے مگر یہ کتابِ ہدایت ہے، اِس کا مقصد آٹیزم کا علاج بتانا نہیں بلکہ دنیا و آخرت کے لیے انسان کی رہنمائی کرنا ہے۔ اور یہ کیسی منطق ہے کہ اگر بچے کے ماں باپ اپنا قبلہ درست کر لیں تو اُن کا بچہ ٹھیک ہو جائے گا، اِس کا مطلب یہ ہوا کہ جن والدین کے معصوم بچے آٹیزم کا شکار ہیں انہیں ہم گمراہ کہہ رہے ہیں۔ ہمیں کس نے یہ اتھارٹی دی؟ اور بالفرض محال اگر یہ ’دلیل‘ مان بھی لی جائے تو سوال پیدا ہو گا کہ آٹیزم والے بچے کے والدین اگر کسی وجہ سے موصوف کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل نہ کر سکیں تو کیا اِس کی سزا تمام عمر اُس معصوم بچے کو ملتی رہے گی جس بیچارے کے اختیار میں ہی نہیں کہ وہ سورة رحمٰن سننے کا اہتمام کر سکے؟ کیا یہ انصاف ہو گا، کیا یہ بات اللہ کی شان کے مطابق ہو گی؟

ایک منٹ کے لیے ایسے والدین کا تصور کریں جنہوں نے صدقِ دل سے سورة رحمٰن کی تلاوت سنی اور اسی طرح دل میں تین مرتبہ اللہ کو پکارا اور اپنے تمام دشمنوں کو معاف بھی کر دیا لیکن اِس کے باوجود اُن کا بچہ آٹیزم سے نجات نہیں پا سکا تو کیا اُن ماں باپ کا قرآن پر اعتقاد مضبوط ہو گا یا متزلزل؟ ایسے لوگوں کی باتوں پر آپ مِن و عَن عمل بھی کر لیں لیکن نتائج درست نہ آنے پر یہ سارا مدعا آپ پر ہی ڈالیں گے کہ آپ کی نیت ٹھیک نہیں تھی، آپ کی دعا میں خشوع و خضوع نہیں تھا، آپ نے دل سے دعا نہیں کی، وغیرہ۔ بندہ پوچھے کہ کیا آٹزم کے مرض میں مبتلا بچوں کے والدین دل سے اپنے بچے کے لیے دعا نہیں کرتے ہوں گے؟ ضرورت مند تو دیوانہ ہوتا ہے، ایسے بچوں کے ماں باپ کو تو اگر کوئی کہے کہ بچے کو مٹی مل دیں تو ٹھیک ہو جائے گا تو وہ بیچارے یہ بھی کر گزریں گے۔

یہ باتیں لکھتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ کوئی شخص اتنا سنگدل کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ کے کلام کو ڈھال بنا کے لوگوں کی دل آزاری کرے، کیا اسے اندازہ نہیں کہ اِس طرح وہ اُن لوگوں کی تکلیف میں کس قدر اضافے کا باعث بن رہا ہے جو پہلے ہی اِس دنیا میں کڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں؟ یہ کہنا کہ اگر بچے کے ماں باپ ٹھیک ہو جائیں اور وہ اللہ کی مخلوق کو معاف کر دیں تو اللہ اُن کے بچے کو معافی دے دے گا، اِس قدر سنگدلانہ بات ہے کہ بے حِس سے بے حِس شخص بھی یہ بات نہیں کر سکتا مگر یہ لوگ اِتنے بے رحم ہیں کہ انہیں اپنی دکان چمکانے کے سوا اور کسی بات سے کوئی غرض نہیں، اِس مقصد کے لیے یہ اللہ کے کلام کو بھی بیچ رہے ہیں اور انہیں ذرا برابر شرم نہیں آ رہی۔ مجھے یہ بات لکھنی تو نہیں چاہیے مگر لکھنا ضروری ہے کہ خدانخواستہ اگر اِن کا بچہ ایسے کسی موذی مرض کا شکار ہو جائے تو پھر یہ لوگ جان ہاپکنز سے اُس کا علاج کروائیں گے کسی قاری باسط مصری سے دَم نہیں کروائیں گے۔

اب کچھ بات میڈیکل سائنس کی ہو جائے۔ موصوف کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ سورة رحمٰن کی مدد سے آٹیزم سے نجات پانے والوں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر پڑی ہیں جو کہ ناقابل تردید حقائق ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر تو ہر مذہب کے پیروکاروں کی ایسی کروڑوں ویڈیوز پڑی ہیں، ہندوؤں سے لے کر مسیحیوں تک اور بدھ پرستوں سے لے کر یہودیوں تک، ہر کوئی اپنی آیت، اشلوک، منتر، پوجا، یوگا اور پرارتھنا سے بیماریوں کا علاج ’منی بیک گارنٹی‘ کے ساتھ بتا رہا ہے اور اِس کا ’ثبوت‘ بھی پیش کر رہا ہے تو اب کس دعوے پر یقین کریں اور کس کو رد؟

ہارڈ ڈیٹا اسے نہیں کہتے، یہ تمام محض دعوے ہیں، اگر آج کوئی ہندو گیتا کی مدد سے، کوئی یہودی تورات پڑھ کر یا کوئی مسیحی انجیل مقدس کی تلاوت کر کے کسی شخص کی بیماری دور کرنے کا دعوٰی کرے چاہے وہ معمولی سر درد ہی کیوں نہ ہو تو میڈیکل سائنس میں بھونچال آ جائے گا، آٹیزم تو بہت پیچیدہ مرض ہے، اگر اِس کا علاج یوں ممکن ہو جائے تو ایسے معالج کو طِب میں نوبل انعام دیا جائے گا۔ مگر اِس کے لیے پہلا کام یہ کرنا ضروری ہے کہ The New England Journal of Medicine کے لیے ایک مضمون لکھ کر بھیجیں تاکہ انہیں پتا چلا کہ ہمارے ملک میں کیسے کیسے ’نابغے‘ پائے جاتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ کام کوئی نہیں کرتا کیونکہ اپنے دِل میں انہیں پتا ہے کہ اُن کا ’تحقیقی مقالہ‘ سیدھا ردّی کی ٹوکری میں جائے گا۔

فلم ’پی کے‘ میں ایک مجبور شخص سوامی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ اُس کی پتنی چھ ماہ سے مفلوج ہے اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ جعلی سوامی بھگوان سے ہم کلام ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے اُس بھگت کو بتاتا ہے کہ کیا تم نے راتھون گلیشیئر کا نام سنا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے جی نہیں۔ سوامی کہتا ہے ”ہمالے میں ہے، ٹرین پکڑو سلی گری جاؤ، وہاں سے بس میں گنٹوک، آٹھ دن لگیں گے، کنچن چنگا کی گود میں بھگوان کا مندر ہے، ماتھا ٹیک آؤ، کام ہو جائے گا۔“ جیسے پی کے میں وہ جعلی سوامی رانگ نمبر تھا اسی طرح ہمارے معاشرے میں یہ لوگ جو دین فروشی کا مکروہ دھندا کرتے ہیں رانگ نمبر ہیں۔ اصل میں یہ دنیا کے سب سے قدیم دھندے میں ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ اِن کا شعبہ مختلف ہے۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “سورة رحمٰن سے علاج؟ مکمل کالم

  • 12/02/2025 at 12:36 شام
    Permalink

    یاسر کو تو بہت عرصے بعد پتہ چلا۔
    یہ دعوی میں نے 2003 میں پہلی بار سنا تھا۔ اور عبدالباسط مصری کی قرات سے اس وقت سے کینسر کا علاج ہورہا تھا۔
    بے شک شفا دینا اللہ کا اختیار ہے۔ لیکن ایسا کوئی دعوی کرنا کہ یوں کرنا بیماری کو ختم کردے گا ایک الگ ڈرامہ ہے۔
    حضرت عیسیؑ جب قم باذن اللہ کہتے تھے تو وہ بھی دم ہی تھا۔ اور بہت واقعات ہیں جہاں اللہ یا اس کے فرشتے نے خود آگاہ کیا تھا کہ کیا کرنا ہے۔
    آپ کی اس بات سے میں متفق ہوں کہ کسی عام انسان کا اس طرح گارنٹی دینا جس کی کوئی سند نہیں ایک بچکانہ عمل ہے۔

Comments are closed.