ادھورا خواب
غالب نے شاید یہ ہم جیسوں کے لیے کہا تھا
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
زندگی میں انسان بہت سے خواب دیکھتا ہے مگر ہر خواب پائے تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ ہر خواب کا مقدر حقیقت نہیں ہوتا۔ مقدر اور دل کی کبھی بنی نہیں کیونکہ جو دل میں ہوتا ہے وہ مقدر میں نہیں ہوتا اور جو مقدر میں ہوتا ہے وہ دل میں نہیں ہوتا۔ اس کے سبب کچھ خواب ادھورے ہی رہتے ہیں۔ کبھی قسمت کے آگے ہار ماننا پڑتی ہے۔ کبھی بڑوں کے فیصلوں پر سر تسلیم خم کر نا پڑتا ہے۔ زندگی میں بعض دفعہ بڑوں کے فیصلے پاؤں کی زنجیر کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔
وہ صرف ہمیں لہولہان کرتے ہیں اور ہم چاہ کر بھی اس سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتے اور ہمارے پاس صرف سسکیوں اور سرد آہوں کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ ہمارے مقدر میں صرف تڑپنا لکھ دیا جاتا ہے۔ ادھوری خواہش، ادھوری حسرت، ادھوری نیند، ادھورا عشق غرض ہر ادھوری چیز صرف تکلیف دیتی ہے اور عمر بھر کے لیے نا شور بن جاتی ہے۔ وقت پر اپنے لیے آواز نہ اٹھانا یا فرمانبرداری کے عوض اپنے خوابوں کی قربانی دینا اس سے بڑی اعلی ظرفی میرے نزدیک اور کچھ نہیں۔ میں نے بھی بہت کچھ اپنے میں دفن کر لیا اور میرا سب سے بڑا خواب ڈاکٹر بننا اس کو اپنے والدین کی خوشی کے لیے قربان کر دیا۔
وہ ڈاکٹری کا سفید کوٹ اور سٹیتھوسکوپ جو میرا جنون، عشق اور خواب تھا۔ کیا معلوم تھا کہ عمر بھر کے لیے حسرت کا روپ دھار لے گا۔ زندگی بھر ہر چھوٹی چھوٹی خواہش کو دل کے قبرستان میں دفنا کر مسکرا کر آگے بڑھنے والی خوش مزاج، ہنس مکھ لڑکی عمر بھر کے لیے زندہ لاش بن جائے گی اور اپنے خواب کی قبر خود کھود کر اپنے ہاتھوں سے دفنا دیا اور انجینئرنگ کی جانب بڑھ گئی۔ کون جانتا تھا کہ میں پھر دل سے ہنس نہیں سکوں گی۔
پھر لوگ کہتے ہیں کہ تم بدل گئی ہو۔ کوئی کیا جانے اس مرجھائے ہوئے چہرے اور تلخ لہجے کے پیچھے برسوں کے غم ہیں۔ جن کو چھپانے کے لئے جھوٹی مسکراہٹ، نرم میٹھی زبان استعمال کرنا محض مجبوری کے سوا کچھ نہیں۔ صرف لوگوں کے لیے مسکرانا زندگی کا سب سے بڑا فن ہے۔ زندگی بھی بعض دفعہ ہماری قوت سے زیادہ قربانیاں مانگتی ہے۔ اب میرے پاس سوائے ملال و کلالہ کے کچھ نہیں۔ اپنی مرضی کے بغیر جینا یعنی اپنے خوابوں کو چھوڑ کر جینا زندگی میں زہر سے زیادہ کڑوا ہوتا ہے۔
میرے حق میں شاید یہی بہتر ہے۔ اگر انجینئرنگ میرے حق میں بہتر ہے تو اللہ سے دعا گو ہوں کہ میرے من کو اس جانب مائل کر دے کیونکہ یہ میرے والدین کا خواب تھا۔ اگر بیالوجی بہتر تھی اور میں اپنی بزدلی یا شاید فرمانبرداری کے گھیرے میں آ کر چھوڑ تو دیا لیکن اس کے نقش میرے دل سے نہ مٹے ہیں اور نہ مٹے گے۔ صرف اللہ سے التجا ہے کہ میرے دل سے اس محبت کو وفا کر دے اور جس راستے کا میں انتخاب کر چکی ہوں۔ اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔ کچھ زخم صدیوں بعد بھی تازہ رہتے ہیں
وقت کے پاس بھی ہر زخم کی دوا نہیں ہوتی
اپنی کہانی سنا کر میرا مقصد خود کو مظلوم ثابت کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ اس بیان کا اصل مقصد یہ تھا کہ بلاشبہ بڑوں کے فیصلوں کا احترام ہم پر لازم مگر اپنی زندگی کے فیصلے کرنا آپ کا حق ہے۔ یہ حق قانون اور شریعت دونوں دیتے ہیں۔ زندگی کا کوئی بھی فیصلہ ہو تو خود کو اس قابل بناؤ کہ پچھتانا نہ پڑے۔
گہری بات ”انسان بعض دفعہ اپنا سب کچھ قربان کر کے اور اپنا آپ مار کر بھی جن کو خوش کرنا چاہتا ہے وہ پھر بھی نہیں ہوتے۔ آپ جتنے مرضی اچھے بن جائیں لیکن کچھ کہانیوں میں آپ برے ہی رہتے ہو۔ مختصر یہ کہ زندگی اپنے لیے جیو نہ کہ دوسروں کے لیے“
میرے نزدیک وہ لوگ خوش قسمت ہیں جو اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور اپنی منزل حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کو زندگی میں کوئی ملال، رنج، پچھتاوا باقی نہیں رہتا کیونکہ ہر فیصلے کے ذمہ دار وہ خود ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک یہی بہادری اور دلیری ہے۔


