برگر شوارمے والے کتاب میلے کی روداد
کتابیں ہوں، بہت کتابیں ہوں، اور ہر طرف کتابیں ہوں۔ پچھلے ہزاریئے میں جنم لینے والوں میں یہ خواہش اتنی غیر معمولی نہیں تھی، اس لئے جب پچھلے ہزاریئے سے قدم نکال کر ہم نے ایکسپو سینٹر میں قدم رکھا تو ہمیں اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا۔ پہلے تو کچھ وقت ہم بولائے بولائے، آنکھیں پھاڑے ویسے ہی دکان دکان گھومتے رہے جیسے گاؤں کا غریب بچہ شہر کے میلے میں آ کر کھو جاتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں ہمیں احساس ہوا کہ جیب میں کچھ کتابیں خریدنے کی سکت تو ہے، کیا ہوا جو انشا جی کی طرح اب جو چاہیں تو ہر اک دکاں مول لیں، اب جو چاہیں تو سارا جہاں مول لیں، والی معاشی حالت نہیں ہے۔ اس لیے سب سے پہلے سنگ میل پبلی کیشنز کی سجائی دکان پہ جا پہنچے۔ ہم کتاب کا نام لیتے جاتے تھے اور ایک نوجوان چراغ کے جن کی طرح وہ کتاب حاضر کر دیتا تھا۔ اپنے تئیں ڈھیر ساری کتابیں خرید کر جب ہم کاؤنٹر پر گئے تو بل دیکھ کر بابا جی بک فیئر والے کی کرامات پر یقین آیا۔ بابا جی زندہ باد۔
بے شک ہم پچھلے ہزاریئے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن زندگی کی اقدار اور روپے کی قدر تو اسی ہزاریئے کی ہے اس لیے کاؤنٹر پہ موجود صاحب (جن کا نام ہم نے اس لیے جاننے کی کوشش نہیں کی کیونکہ ہماری کوئی کتاب قریب الاشاعت بلکہ قابل اشاعت نہیں ہے ) سے عرض کی کہ اگر وہ یہی میلہ آن لائن منتقل کر دیتے تو ہمارے سفری اخراجات بچ جاتے (جو صرف پٹرول پر مشتمل نہیں تھے ) ہمیں تو کل ملا کر یہ کتابیں اصل قیمت ہی پہ مل رہی ہیں۔ انہوں نے اس خیال کی حوصلہ افزائی تو بہت کی۔
علی اکبر ناطق کو ہم بک کارنر کے شوروم پر اور اس سے پہلے اپنے خواب میں ہی دیکھ چکے تھے، اس لیے بہت ڈرتے ڈرتے قدم رکھا اور ان کی ایک کتاب پر اپنے بھائی کے لیے سائن کروا لیے۔ اگرچہ وہ ہمارے خواب اور اپنے فیس بک تاثر کے بالکل برعکس بہت نرم مزاج شخص معلوم ہوئے، مگر ہم نے اپنے ڈر کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور ایک ہی سانس میں بہت سی باتیں کر ڈالیں لگے ہاتھوں ان کے ساتھ ایک تصویر بھی بنوا لی اور کھسک لئے۔ ہم نے تو ان کا تاثر اچھا ہی لیا، اب انہوں نے ہمیں کیسے پایا یہ تو وہ فیس بک پر ہی بتائیں گے۔
آکسفورڈ والوں سے ملاقات میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا کہ ان کی کتابوں پر محض بیس فیصد رعایت تھی، ایسی ہی فراخ دل پیشکش ریڈنگز والوں کے ہاں بھی دیکھی۔ لیکن اصل ہاتھ تو لبرٹی بکس والوں نے ہمارے ساتھ کیا جو بالکل داخلی دروازے کے سامنے مقیم تھے، ہم پچاس فیصد کے رقص کرتے اسٹیکرز کے سائے تلے کتابیں منتخب کرتے رہے، لیکن جب انہوں نے آنکھوں کے سامنے بل لہرایا تو ہماری آواز گویا حلق میں پھنس سی گئی۔ پوچھا جو ہم نے، آپ کا ڈسکاؤنٹ کیا ہوا تو کہنے لگے ہے نا دس فیصد۔ اور یوں وہ اپنی دکان بڑھا گئے، حقیقی معنوں میں اور ہماری دکان بڑھا گئے محاورے کی زبان میں۔ یہاں آ کر اچھا خاصہ بک فیئر، ان فیئر محسوس ہوا۔
کوالٹی کی بات کریں تو سنگ میل اور بک کارنر کی کتب کے مقابلے میں لبرٹی اور ریڈنگز کی کتب پائریٹڈ معلوم ہوتی ہیں، جبکہ قیمت کا حساب بالکل الٹ ہے۔ مزید انگریزی کے پبلشرز کی شان میں گستاخی اس لیے نہیں کر سکتے کہ مضمون ہمارا انگریزی ہے اور ہماری تمام تر تعلیم و ترقی کا دار و مدار ان ہی اداروں پر ہے، ورنہ ایسے ایسے خیالات ذہن میں نمو پا رہے ہیں کہ یہ اشاعتی ادارے سننے پائیں تو ہمیں بلیک لسٹ کر دیں۔
گو کہ لبرٹی بکس کے اسٹال نے جسم اور اکاؤنٹ کی ساری توانائی نچوڑ لی تھی مگر ہم پھر بھی گھسٹتے گھسٹتے علم و عرفان کے اسٹال پر پہنچ ہی گئے جہاں تمام علم و عرفان کوڑیوں کے مول تو نہیں البتہ کباڑیوں کی طرح ضرور مل رہا تھا۔ کارڈ سے خریداری ممکن نہیں تھی، بل نامی کسی منحوس چیز کا تصور نہیں تھا، بصد معذرت ہمیں یہ ادارہ آخری سانسوں پر نظر آیا کہ اب باجی نمرہ اور عمیرہ نے بھی اپنی کتابوں کی اشاعت خود شروع کر دی ہے۔
اتنا سب کچھ ہونے کے دوران ایک موسیقی جو بیک گراؤنڈ میں بجتی رہی وہ ہمارے بچوں کی بھوک بھوک کی گردان تھی، بہتیرا سمجھایا، ڈرایا، کہ مت کرو، تمام صوبوں والے ہم پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، ذرا جو ہم نے برگر اور شوارمہ کھایا تو فوری تصویر کھینچ دیں گے۔ مجال ہے جو انہوں نے پنجابیوں کی قومی شناخت اور احساس خودداری کو ذرا بھی در خور اعتنا سمجھا ہو۔ ہم بھی نظریں بچا کر ادھر ادھر دیکھتے رہے، لگتا تھا لاہوریوں نے اس عزت افزائی کو زیادہ سنجیدگی سے لے لیا ہے اور ایکسپو سینٹر کی حدود میں کھانے پر پابندی لگا دی ہے۔ لے دے کے ایک کافی مشین بک کارنر کے اسٹال کے بیچوں بیچ نظر آ رہی تھی جہاں سے کافی خریدنے کا کوئی طریقہ ہماری سمجھ سے باہر تھا۔
کچھ گھنٹے گزرنے کے بعد ہمیں بھی احساس ہوا کہ بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے اور جو بھوکا ہو صبح ناشتے سے اسے تو اہل دانش بھی کتاب کی بجائے روٹی لینے کا ہی مشورہ دیں گے۔ اپنی قومی شناخت اور احساس خودداری کو سمجھایا کہ جب دمشق میں قحط پڑا تھا وغیرہ وغیرہ۔ اب ہم نے ایک کاؤنٹر پر جا کر پوچھ ہی لیا کہ کہاں ہے وہ برگر شوارما جس کی خبریں کئی سالوں سے اخباروں کی زینت اور سوشل میڈیا کی رونق ہیں۔ بھائی نے کہا کہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر تشریف لے جائیں، اس قسم کی چیزیں ہم چھپا کے رکھتے ہیں۔ بھاگم بھاگ وہاں پہنچے اور برگر کا پہلا لقمہ لیتے ہی معلوم ہو گیا کہ کیفے والوں نے پنجابی عزت نفس کو قائم رکھنے کا بھرپور انتظام کیا ہوا ہے، ذائقہ ہی ایسا رکھا تھا کہ کوئی غلطی سے بھی برگر اور شوارما کھاتا ہوا نہ پایا جا سکے۔ ہم نے کیفے والوں کی اس جذبہ حب الوطنی کو نم آنکھوں سے سلام پیش کیا اور پھر بکس اسٹالز کی طرف جا نکلے کہ گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے۔


