امجد اسلام امجد
اردو ادب کا عظیم سرمایہ 10 فروری 2023 کو لاہور میں منعقدہ پاکستان ادبی میلہ کے دن اپنے چاہنے والوں کو بندش قلب کے باعث داغ مفارقت دے گیا۔ وہ 4 اگست 1944 کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک شاعر، ادیب، دانشور اور ڈرامہ نگار تھے۔ ان کو ڈرامہ وارث تحریر کرنے پر ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ جب ڈرامہ وارث نشر ہوتا تو پاکستان کی گلیاں سنسان ہو جاتی تھیں۔ ڈرامہ وارث کو ہندوستان اور چین میں بھی بہت شوق سے دیکھا گیا۔ ڈرامہ وارث کو ہندوستان کے پونا اداکاری ادارے میں بطور نصاب اداکاری شامل کیا گیا ہے۔ وارث کے علاوہ انہوں نے دہلیز، فشار اور دن جیسے مشہور ڈرامے بھی پی ٹی وی کے لیے تحریر کیے، لیکن جو شہرت و مقبولیت وارث کو حاصل ہوئی وہ نہ کسی اور ڈرامے اور نہ کسی اور ڈرامہ نگار کو مل سکی۔
اسلامیہ۔ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو ادب کیا۔ ایم اے او کالج میں بطور لیکچرار عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1975 تا 1979 پی ٹی وی نیٹ ورک کے ڈائریکٹر رہے۔ اردو سائنس بورڈ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر، چلڈرن لائبریری کے ڈائریکٹر سمیت بہت سے اداروں اور تنظیموں سے وابستہ رہے۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1987 ء میں تمغہ حسن کارکردگی اور 1998 ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا گیا۔ ترکی سمیت بہت سے ممالک سے ادبی اعزازات حاصل کیے۔ بہت سے مشاعروں میں اپنا کلام سنایا۔ 70 سے زائد کتب کے مصنف تھے۔ ان کا ادبی سفر پچاس برس پر محیط ہے۔ نظم کے بہت اعلیٰ شاعر تھے۔ ان کی شاعری کا بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔
ان کی حیات و خدمات پر دس سے زائد کتب لکھی جا چکی ہیں۔ ان کی چند کتب کے نام
برزخ۔ پہلا شعری مجموعہ
بارش کی آواز
شام سرائے
یہیں کہیں
فشار
اس پار
ذرا پھر سے کہنا
شہر در شہر سفر نامہ
ان کا ایک شعر ہے۔
حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے
ان کی ایک نظم ڈاکٹر امجد پرویز نے بہت عرصہ پہلے گائی تھی
جو بھی کچھ ہے
محبت کا پھیلاؤ ہے
تیرے میرے ابد کا کنارا ہے
استعارہ ہے
پیار کا گھاؤ ہے
روپ کا داؤ ہے
جو بھی کچھ ہے
محبت کا پھیلاؤ ہے


