حالیہ خشک سالی کے اسباب اور ممکنہ اثرات
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے تاہم حالیہ برسوں بالخصوص اس سال ملک کو شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث زراعت، معیشت اور عوامی زندگی پراس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس خطرناک اور پریشان کن خشک سالی کے پیچھے ویسے تو کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق خود انسان کے پیدا کردہ مسائل سے متعلق ہے جن میں چند نمایاں مسائل عالمی ماحولیاتی تبدیلیاں، آبی وسائل کی مسلسل کمی اور ناقص حکومتی منصوبہ بندی قابل ذکر ہیں۔ ماضی میں ان ایام میں ہمیں جب بھی موٹروے پر پشاور اور اسلام آباد کے درمیان سفر کا موقع ملتا تو اس عرصے میں موٹر وے کی دونوں جانب گندم کی وسیع و عریض سرسبز و شاداب فصل کے ساتھ ساتھ سرسوں کے قطار اندر قطار خوبصورت لہلہاتے کھیت دیکھنے کو ملتے تھے لیکن اس سال وقت پر بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے اس روح پرور منظر کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترس رہی ہیں۔
ان ہی ایام میں تقریباً چار پانچ سال سے مجھے مہمند اور ضلع باجوڑ کے سنگم پر ایک وسیع و عریض کیمپس میں مرکزی شاہراہ پر قائم کیڈٹ کالج مہمند (مامد گٹ) میں زیر تعلیم اپنے دو بیٹوں اور ایک بھتیجے سے ملاقات کے لیے جانا پڑتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں کے دوران میں ان ہی دنوں میں جب بھی پشاور اور چارسدہ کے سرسبز و شاداب اضلاع سے ضلع مہمند میں داخل ہوتا ہوں تو یکہ غونڈ سے دروازگئی ٹاپ کے درمیان واقع علاقے جسے کڑپہ اور ڈنڈونہ کہتے ہیں کی پہاڑیاں عموماً خشک اور بے آب و گیا ہونے کے باوجود ان پہاڑیوں پر اِن دنوں میں بارشوں کی وجہ سے تھوڑا بہت سبزہ نظر آتا ہے جہاں مال مویشی چر رہے ہوتے ہیں البتہ جب گزشتہ اتوار کو مجھے یہاں سے گزرنے کا موقع ملا تو اس سال موسم سرما کی بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے یہ سارا علاقہ انتہائی خشک سالی کا شکار نظر آیا یہاں نام کو بھی سبزہ دیکھنے کو نہیں ملا جس کے اثرات یہاں خال خال نظر آنے والی بھیڑ بکریوں اور گایوں کی خستہ حالی اور لاغری کی صورت میں نظر آرہے تھے چونکہ سڑک کا یہ پورشن ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے کچا ہے تو شدید خشک سالی کی وجہ سے یہاں سے گزرنے والی گاڑیاں وہ گرد و غبار اڑاتی دکھائی دیتی ہیں جس میں گاڑی کے شیشے بند ہونے کے باوجود سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی طرح غلنئی سے آگے حلیم زئی، نحقی، صافی، غازی بیگ، قندھاری، لکڑو، بھوتہ اور مامد گٹ تک کے علاقے چونکہ نسبتاً ہموار ہیں تو اس موسم میں ہمیں یہاں سڑک کے دونوں جانب اکثر کھیتوں میں گندم اور سرسوں کی فصلیں لہلہاتی ہوئی نظر آتی تھیں لیکن اس سال چونکہ بارشیں نہیں ہوئیں تو اس کے واضح اثرات ہمیں اس سارے علاقے میں گندم اور سرسوں کی فصلیں یا تو نہ ہونے کے برابر اور یا پھر انتہائی خشک سالی کی شکار نظر آئیں جس سے یہ سارا علاقہ ایک عجیب قسم کی ویرانی اور افسردگی کا منظر پیش کر رہا تھا۔
دراصل حالیہ شدید ترین خشک سالی کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پاکستان میں بارشوں کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مون سون بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافے نے خشک سالی کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، پاکستان میں درجہ حرارت میں ہر سال تقریباً 0.5 ڈگری سیلسیئس اضافہ ہو رہا ہے جو مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے دریا زیادہ تر ہمالیائی گلیشیئرز سے جڑے ہوئے ہیں جو تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر یہ عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ چند دہائیوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے جس کا براہ راست اثر زرعی مقاصد اور پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کی قلت کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑے ڈیموں اور آبی ذخائر کی کمی بھی خشک سالی کا ایک بڑا سبب ہے۔ چونکہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے جس کی وجہ سے خشک سالی کے دوران پانی کی قلت شدت اختیار کر رہی ہے۔ ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کے ذخائر کو بہتر نہ بنایا گیا تو مستقبل میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جنگلات بارشوں کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں اور زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں تاہم پاکستان میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی جا رہی ہے جس سے زمین بنجر ہو رہی ہے اور خشک سالی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ جنگلات کی بحالی اور موثر شجرکاری مہموں کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
حالیہ خشک سالی کی وجہ سے پانی کی ہر سطح پر قلت پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں شدید کمی کا اندیشہ ہے جس کا نتیجہ ملک میں غذائی بحران کی شکل میں سامنے آنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ زرعی پیداوار گھٹنے سے برآمدات میں کمی اور تجارتی خسارہ بڑھنے کا امکان ہے۔ مزید برآں اس صورتحال سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے زراعت کے شعبے میں عدم استحکام پیدا ہو نے کے خدشے کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے زراعت کے شعبے میں روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف ہجرت میں اضافہ ہو سکتا ہے جو شہری علاقوں میں بے روزگاری اور غربت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس چیلنج کا مقابلہ جہاں نئے ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر کے ذریعے بڑے پیمانے پر پانی کی دستیابی کی صورت میں کیا جا سکتا ہے وہاں ڈرپ ایریگیشن اور دیگر جدید طریقوں کے ذریعے بھی پانی کے استعمال میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح جنگلات کی بحالی اور شجرکاری مہموں کے ذریعے بھی بارشوں کے نظام کی بحالی پر کام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے غیر ضروری ضیاع کو روکنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر سخت پالیسیز نافذ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ درحقیقت ہمیں اس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان میں حالیہ خشک سالی ایک سنگین مسئلہ ہے جو مختلف شعبوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومت کا آبی وسائل کے بہتر انتظام، جدید زراعتی تکنیکوں کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانا نہ صرف وقت کا تقاضا ہے بلکہ اگر یہ اقدامات بروقت نہ اٹھائے گئے تو آنے والے ماہ و سال میں پاکستان کو پانی اور غذائی بحران کا شدید سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔


