خود فریبی کی کیفیت اور حقائق کی مشکل دنیا
ہمیں ”مفروضوں“ کی ایک خود ساختہ خیالی دنیا میں رہنا بہت پسند ہے۔ نہ جانے ہمیں یہ وہم کیوں لاحق ہے کہ ساری دنیا ہماری مخالف ہے۔ وجہ دریافت کی جائے تو جواب ملے گا کہ سب غیر مسلم ملک، باطنی طور پر مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے۔ کوئی اس نکتے پر غور نہیں کرتا کہ محض مذہب کی وجہ سے دنیا کا اسلامی ملکوں کے خلاف ہو نے کی بھلا کیا منطق ہو سکتی ہے؟ کیا اسلامی ملکوں کی تنظیم (او آئی سی) میں شامل 57 ملک اجتماعی طور پر بھی علم و دانش، صنعت، تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں دوسروں سے برتر ہونے کی وجہ سے ان کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں؟
کتنی ایجادات ان کے نام ہیں اور کتنے نوبل انعام انہوں نے حاصل کیے ہیں؟ تمام 57 اسلامی ملکوں کی مجموعی داخلی پیداوار ( جی ڈی پی) 8 ٹریلین ڈالر ہے جس سے صرف امریکا کی 29 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی تین گنا اور چین کی 18.5 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی دو گنا بڑی ہے، جب کہ یورپ کے تین ملکوں، جرمنی، برطانیہ اور فرانس کی جی ڈی پی او آئی سی کے تمام 57 ممالک سے زیادہ ہے۔ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی کہ جب کسی بھی شعبے میں آپ کا دنیا سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے تو کوئی آپ کا دشمن کیوں ہو جائے گا؟
حقائق سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے جب یہ یقین کر لیا جائے کہ ہمارے مسائل اور پس ماندگی کی وجہ ہمارے فرض کردہ دشمن ہیں تو ناکامیوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا۔ مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بنا ہم نے اسے اپنے دشمنوں کی سازش کہا، آزادی کے 25 سال بعد تک ملک کا آئین بنانے سے ہمیں کس نے روکا تھا؟ کیا دنیا نے ہم پر پابندی عائد کی تھی کہ، 1970 کے عام انتخابات کے بعد اقتدار نو منتخب پارلیمنٹ کی اکثریتی جماعت کو منتقل نہ کیا جائے؟
کیا سارے فوجی آمروں اور ان کی حامی عدلیہ نے دنیا کے حکم پر جمہوریتوں کا تختہ الٹا تھا؟ کیا عالمی برادری کے اصرار پر منتخب وزرائے اعظم کو قتل، گرفتار اور جلا وطن کیا جاتا رہا۔ ایک آمر نے افغان جنگ میں ملوث ہو کر مذہبی جنونیت کے شعلے بھڑکائے، دوسرے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر ملک کو برباد کیا۔ کیا دونوں آمروں نے یہ ’عظیم کام‘ اپنے اقتدار کو طول دینے یا دنیا کے مجبور کرنے پر کیے تھے؟ ہم آئی ایم ایف کے پاس مدد کے لیے 23 بار جا چکے ہیں۔ کیا اس ادارے نے ایک بار بھی قرض لینے کے لیے ہمیں مجبور کیا؟ عجب مذاق ہے قرض اور مدد کے لیے خود جائیں اور الزام امریکا پر لگائیں کہ وہ اس عالمی مالیاتی ادارے کے ذریعے ہمیں اپنا محتاج بنانا چاہتا ہے؟
ہمیں مفروضوں اور خود فریبی کی نفسیاتی کیفیت سے باہر نکل کر حقائق کی مشکل دنیا میں رہنے کی عادت ڈالنی ہو گی۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ ملکوں کی اہمیت کی درجہ بندی، مذہب رنگ و نسل پر نہیں بلکہ ان کی معاشی اور فوجی طاقت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی معاشی اہمیت ہوتی ہے لیکن معاشی اور فوجی دونوں اعتبار سے سبقت رکھنے والے ملک عالمی طاقت کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ جاپان اور جرمنی کی دنیا کی تیسری اور چوتھی سب سے بڑی معیشتیں ہیں لیکن وہ فوجی حیثیت نہیں رکھتے لہٰذا ان کا شمار عالمی طاقتوں میں نہیں کیا جاتا۔
سویت یونین دنیا کی دوسری بڑی عالمی طاقت تھا لیکن وہ سوشلسٹ نظریے کو معاشی ارتقاء کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کر سکا لہٰذا معاشی زوال سے اس کا شیرازہ بکھر گیا۔ 1990 کے بعد اس کی دوسری سب سے بڑی عالمی طاقت کی حیثیت ختم ہو گئی، اب وہ صرف ایک فوجی طاقت بن کر رہ گیا ہے۔ چین 35 سال پہلے غریب ملک تھا۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ نے مفروضوں کی بجائے حقائق کی راہ اپنائی جس کے نتیجے میں چین نے معاشی اور فوجی اعتبار سے مختصر ترین وقت میں ناقابل تصور ترقی کی اور آج وہ دوسری بڑی عالمی طاقت بن چکا ہے جس سے امریکا خائف ہے۔
برطانوی استعمار کے زوال سے سبق نہ سیکھ کر جب امریکا کے سر میں پوری دنیا پر حکم رانی کا انتہائی مہنگا سودا سمایا تو معیشت اس کا بوجھ نہ اٹھا سکی۔ کم آمدنی اور زیادہ اخراجات نے اسے دنیا کا مقروض ترین ملک بنا دیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مجبوراً ’سب سے پہلے امریکا‘ کا نعرہ لگا کر امریکا کو حقائق کی تلخ دنیا میں واپس لانا پڑا۔
امریکا سمیت دنیا کتنی بدل گئی لیکن ہم اب بھی اپنی خیالی دنیا سے باہر نکلنے پر آمادہ نہیں۔ ہم فرض کر چکے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، اقتدار میں آ کر غزہ۔ اسرائیل جنگ ختم کرا دیں گے جس سے حماس اور حزب اللہ کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ یہ دونوں شدت پسند گروہ، اسرائیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ہم یہ سمجھنے، لکھنے اور بولنے پر تیار نہیں تھے کہ حریف کی طاقت کا انداز کیے بغیر حماس کا اسرائیل پر حملہ آور ہونا دانش مندی نہیں تھی۔ چونکہ حقائق سے فرار ہمارا رویہ بن چکا ہے لہٰذا یہ حقیقت بیان نہیں کی گئی کہ ہر جنگ کے بعد اسرائیل کے رقبے میں اضافہ ہوا اور فلسطینوں کو اب تک کم یا زیادہ جو بھی ملا ہے وہ ان کی پرامن سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے۔
صدر ٹرمپ دنیا کی سب سے بڑی عالمی طاقت کے سربراہ اور کرۂ ارض کے طاقت ور ترین فرد ہیں، وہ وہی کریں گے جو امریکا کے قومی اور بین الاقوامی مفاد کے لیے ضروری ہو گا۔ انہوں نے سب سے پہلے اسرائیل کے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ امریکا خود غزہ کی تعمیر نو کرے گا جہاں فلسطینوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ تعمیر نو کے عمل سے امریکی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے ٹھیکوں سے فائدہ ملے گا اور عین ممکن ہے کہ ادائیگی بھی امیر خلیجی ریاستوں سے کرائی جائے۔
صدر ٹرمپ کی ایک اہم ملاقات ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے ہوئی۔ اس حوالے سے بھی یہ فرض کیا جا رہا تھا کہ امریکا، ہندوستان پر معاشی اور سیاسی دباؤ ڈالے گا۔ یہ حقیقت فراموش کردی گئی کہ دباؤ ڈالنے کے لیے کسی ملک کے سربراہ کو سرکاری مہمان کے طور پر مدعو نہیں کیا جاتا۔ ٹرمپ۔ مودی ملاقات، دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور فوجی طاقت اور دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت کے سربراہوں کے درمیان ہوئی جس میں کاروباری معاملات زیر بحث آئے۔
دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کا حجم 118 ارب ڈالر ہے جس میں ہندوستان کو 36 ارب ڈالر کا فائدہ ہے جو کہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ امریکا کو معلوم ہے کہ ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 700 ارب ڈالر کی سطح کو چھونے والے ہیں۔ اس کے لیے پچاس ساٹھ ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی خریدنا معمولی کام ہے، مزید براں، چین سے تعلقات کشیدہ ہونے کی صورت میں امریکی کمپنیاں ہندوستان کو مینوفیکچرنگ کا مرکز بھی بنا سکتی ہیں۔
صدر ٹرمپ اور نریندر مودی، کاروباری اور سیاسی لین دین کے ماہر ہیں اور زیادہ فائدہ لینے کا ہنر فن خوب جانتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جاپان کے وزیر اعظم سے بھی ملاقات کی، جاپان، امریکا کا پرانا اتحادی ہے۔ وہ انڈو پیسیفک میں امریکی مفادات کے لیے نہایت اہم ملک ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں امریکا کو 69 ارب ڈالر کا خسارہ ہے جسے وہ کم کرنا چاہتا ہے۔ جاپان، امریکا کی اسٹیل اور دیگر شعبوں میں ایک ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے مزید گیس اور تیل درآمد کرے گا۔ امریکا اپنے اتحادی پر دباؤ ڈالنے سے بچ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے جاپان پر اضافی ٹیرف سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔
ہمیں صدر ٹرمپ اور دنیا کے کئی دیگر رہنماؤں سے حقائق کو تسلیم اور ناکامیوں کے برملا اعتراف کا سبق ضرور سیکھنا چاہیے۔ تا ہم، ایسا کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ سوچ اور نفسیات بدلنی ہو گی کہ دنیا ہماری دشمن ہے، دراصل ہم اپنے دشمن خود ہیں۔ ہمیں اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی بجائے انہیں قبول کرنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔ سازشی مفروضوں میں فرار تلاش کرنے کی بجائے حقیقت کی دنیا میں رہنے کی عادت ڈالنی ہو گی۔ ذہنی، فکری اور نفسیاتی تبدیلی کا یہ تکلیف دہ مرحلہ جتنی جلد گزر جائے اتنا بہتر ہے۔


