پاکستان کی پیکانائزیشن


کراچی پریس کلب میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور کراچی یونین اف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پیکا ایکٹ (PECA) کے حوالے سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ مذاکرے میں مجھ سمیت سینیئر استاد ڈاکٹر توصیف احمد خان، سینیئر صحافی جناب مظہر عباس، پریس کلب کے سابق صدر جناب سعید سر بازی، حقوق نسواں کی تحریک سے وابستہ سینیئر ایکٹیوسٹ محترمہ مہناز رحمان، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر جناب طاہر حسن خان اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کو چیئر پرسن جناب اسد اقبال بٹ شریک گفتگو تھے۔ اپنی تقریر کو اضافی نکات کے ساتھ ضابطہ تحریر میں لاتے ہوئے درج ذیل گزارشات پیش خدمت ہے۔

آج پاکستان کے پاور سینٹر پاکستانی سماج کو پیکانائزڈ کر رہے ہیں۔ کیونکہ پاکستانی پاور سینٹر اور ان کی ایماء پر حکومتیں پہلے ہی ابلاغ کے روایتی ذرائع پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو فتح کر چکے ہیں۔ ایڈیٹر کا ادارہ پہلے ہی کنٹرول کیا جا چکا ہے۔ اب ان کا اگلا نشانہ سوشل میڈیا پر موجود وہ صحافی یا شہری ہیں جو یوٹیوبرز، بلاگرز اور ویلاگرز ہیں ان کا راستہ روکنا ہے۔ پیکا ایکٹ نہ صرف ان صحافیوں و شہریوں کی ذرائع آمدنی کا خاتمہ کر دے گی بلکہ پاکستان کی موجودہ پیکانائزیشن کا مقصد سوشل میڈیا پر اختلافی آوازوں کو دبانا ہے۔

سوشل میڈیا کے توسط سے ابھرنے والے متبادل سیاسی و مزاحمتی نقطہ نگاہ کو کچلنا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی ریاست حریت فکر کا گلا گھونٹنے والی آمرانہ پیکا ایکٹ کیوں نافذ کر رہی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جو سیاسی جبر کو بطور ماڈل اپناتی ہو، معاشی استحصال جس کا نظریہ ہو، میگا پروجیکٹس، ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی بے دخلی جن کی پالیسیاں ہوں، ملٹی نیشنلز کے مفادات کا تحفظ جن کی ذمہ داری ہو، عوام دشمنی کی بنیاد اور عوامی قیمت پر سرمایہ داروں کے منافع کے استحکام اور مراعات کی بحالی جن کی پالیسی ہوتو ایسے میں ان اقدامات اور پالیسیوں کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمتی آوازوں کو کچلنے کے لیے پیکا ایکٹ کا نفاذ ضروری ہے۔

افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اس طرح کی عوام دشمن قانون سازی ہماری نام نہاد عوامی پارلیمنٹ میں کی جاتی ہے۔ ان قوانین کے نفاذ میں سیاسی جماعتیں ریاستی پاور سینٹر کے سات مکمل شریک جرم ہوتی ہیں۔ پیکا ایکٹ کے حوالے سے کچھ لوگ پیکا ایکٹ کے تحت جرم اور سزا کے تعین کے طریقہ کار کے حوالے سے تیکنیکی پہلوؤں پر بحث و مباحثہ کرتے ہوئے اس میں سدھار، اصلاحات اور تبدیلیوں کی بات کرتے ہیں۔ میرے نزدیک پیکا ایکٹ کا وجود ہی کسی مہذب جمہوری معاشرے کے لیے زہر قاتل کے سوا کچھ نہیں۔

پیکا ایکٹ جیسے کالونیل ورثے کی حامل قوانین کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ بات مد نظر رہنی چاہیے کہ ان تمام قوانین کا ایک کالونیل پس منظر ہے۔ ہندوستان میں کمپنی حکومت بھی سیاسی جبر اور معاشی استحصال کی بنیاد پر قائم تھی لہذا اس وقت بھی ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں تاج برطانیہ کی لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھانے پر قانونی پابندیاں عائد تھی۔

ہمیں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی پارٹیاں اپنے روایتی مفہوم میں سیاسی پارٹیاں نہیں ہیں بلکہ یہ انٹر پرائزز بن چکی ہیں۔ بزنس Entities کا روپ دھار چکی ہیں۔ حالیہ ملکی و قومی الیکشن کے بعد یہ سیاسی جماعتیں کسی بھی طرح کی عوامی نمائندگی نہیں رکھتی نہ ہی ممبران پارلیمنٹ حقیقی عوامی نمائندہ ہونے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ پاکستان کا پارلیمنٹ ہاؤس بھی دنیا کی دیگر ریاستوں (منڈیوں ) کے پارلیمنٹ ہاؤسز کی طرح سرمایہ دارانہ کلاس اور ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے مفادات کی ترجمانی کرتا ہے۔

سیاسی و عوامی نمائندوں کے الیکشن کمپنیز اور الیکشن اخراجات میں چندہ اور ڈونیشن کے نام پر سرمایہ داروں کی اہم ترین مالی امداد شامل حال رہتی ہے۔ ایسے میں سرمایہ داروں اور ان کے ساجھے داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پیکا قوانین کا اطلاق لازمی ہو جاتا ہے۔ پیکا ایکٹ کے خلاف جاری یہ تحریک محض صحافیوں کی تحریک نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کی تحریک ہے جو اپنی آزادانہ رائے رکھتا ہے اور اس کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔ یہ تحریک مزاحمتی آوازوں کی تحریک ہے۔ سوچنے، سمجھنے اور بولنے والوں کی تحریک ہے۔ اپنے شہری، معاشی، سیاسی، سماجی اور قانونی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کی تحریک ہے۔ دستور زباں بندی کے خلاف اس تحریک کو منظم، مربوط، موثر اور ہمہ گیر بنانے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تحریک کو دیگر تحریکوں سے جوڑا جائے اور سماج کی دیگر پرتوں کو آزادی اظہار رائے کی اس تحریک میں شامل کیا جائے۔

Facebook Comments HS