پاکستان کا تعلیمی بحران: بجٹ کی کمی، نصاب کی خامیاں اور اساتذہ کے مسائل
پاکستان کا تعلیمی نظام کئی سنگین مسائل کا شکار ہے، جن میں بجٹ کی کمی، غیر معیاری نصاب، اور اساتذہ کو درپیش مشکلات شامل ہیں۔ ایک مضبوط تعلیمی ڈھانچہ کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے، مگر پاکستان میں تعلیمی پالیسیوں میں مستقل عدم استحکام اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے یہ شعبہ زوال پذیر ہے۔ تعلیمی بجٹ میں کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان، فرسودہ نصاب، اور اساتذہ کے مسائل نہ صرف طلبہ کے سیکھنے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ملک کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔
تاریخ کے تناظر میں تعلیمی پالیسی کے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو 2009 میں جی ڈی پی کا صرف چار فیصد حصہ مختص کیا گیا تھا۔ جسے ہر سال بڑھانے کے دعوے تو کیے گئے مگر عملی طور پر مزید کمی ہی دیکھنے میں آئی۔ 2018۔ 19 میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ جی ڈی پی کا 2.0 فیصد تھا، جو کہ 2019۔ 20 میں کم ہو کر 1.9 فیصد تک پہنچا۔ 2020۔ 21 میں یہ بجٹ مزید کمی کے ساتھ جی ڈی پی کا صرف 1.4 فیصد رہ گیا۔ 2021۔ 22 میں تعلیم کے بجٹ میں تھوڑی سی بہتری آئی اور یہ جی ڈی پی کا 1.7 فیصد رہا۔
انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹ ( 2022۔ 23 ) کے مطابق، 2023 میں تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا صرف 1.5 فیصد مختص کیا گیا، جو جنوبی ایشیا کے کسی بھی ملک کے لیے سب سے کم بجٹ ہے۔ یہ مقدار عالمی تنظیموں جیسے یونیسکو انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹسٹکس کی تجویز کردہ جی ڈی پی کے 4.6 فیصد سے بہت کم ہے۔ اس کم بجٹ کا سامنا کرتے ہوئے، ملک کو دو کروڑ 60 لاکھ سکول سے باہر بچوں اور گریڈ آٹھ تک 38 فیصد ڈراپ آؤٹ کی شرح جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے لیے یہ بجٹ ہرگز کافی نہیں ہے۔
علاوہ ازیں، اگر تعلیمی نظام میں مہیا کردہ سہولیات کو پرکھا جائے تو انفراسٹرکچر کی بہتری سے لے کر اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت تک، ہر جگہ شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ کلاس رومز، لائبریریوں اور لیبارٹریوں کی کمی کی وجہ سے طلبا کے لئے سازگار ماحول میں سیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ، پینے کے صاف پانی اور مناسب صفائی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی طلبا کے سیکھنے کے عمل میں مزید رکاوٹ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، تعلیمی شعبے میں صنفی تفریق اور بچوں کے تحفظ کے معاملات بھی سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں۔
ہمارے خطے میں عام طور پر لڑکیاں 10 سے 12 سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچ جاتی ہیں اور دیہی علاقوں کے والدین اس عمر کی بچیوں کو سکول بھیجنے سے کتراتے ہیں کیونکہ بہت سے سکولوں میں واش روم جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں ہوتی۔ چار دیواری کی کمی کے باعث تعلیمی ماحول غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی عدم دستیابی سے نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ کو بھی انٹرنیٹ تک فوری اور بہتر رسائی دستیاب نہیں ہوتی۔ اس اہم وجہ سے اساتذہ اور طلبہ ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ تاہم، 1973 کے آئین میں مفت تعلیم کی آئینی شق کے باوجود تمام پاکستانیوں کے لئے تعلیم تک رسائی ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
چونکہ تعلیم انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور با مقصد زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔ اس لئے اگر غور کیا جائے تو تعلیم کا مقصد صرف نصابی مواد تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کو سوچنے، سمجھنے، پرکھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتی ہے کہ کس طرح معلومات کو حکمت میں تبدیل کرنا ہے۔ لیکن پاکستان میں تعلیمی معیار کے مسائل ابتداء سے ہی موجود رہے ہیں۔ اسی بنا پر، نصاب کی بہتر اور مناسب تشکیل ہمارے ہاں ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔
انٹرمیڈیٹ تک نفسیات، معاشیات، فلسفہ، قانون جیسے مضامین شامل نہیں کیے جاتے۔ جس کی بدولت پاکستان میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ جدید دور کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام زیادہ تر پرانے اور روایتی مواد پر مبنی ہے جو کہ زیادہ تر یادداشت پر مشتمل ہے۔ عالمی سطح پر تعلیم میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی اور تحقیق کے نئے ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ نصاب میں عملی تربیت اور جدید علوم جیسے کہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، ماحولیات اور سوشیالوجی پر بھی مناسب توجہ نہیں دی جاتی جو کہ مستقبل میں طلبہ کی کامیابی کے لیے بہت اہم ہیں۔ اسی طرح، سائنسی مضامین کا نصاب بھی جدید تحقیق کے تقاضوں کو مدِنظر نہیں رکھتا، جس کی وجہ سے طلباء کو عملی اور تجرباتی علم میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں نظام تعلیم اور نصاب کو ترتیب دیتے وقت جدید آراء کو نظر انداز کر کے پرانے اور جامد نظریات کے افراد کی لیڈر شپ کا سہارا لے کر نصاب تشکیل دیا جاتا ہے۔
طلباء، اساتذہ، ماہرین تعلیم اور صنعت کے ماہرین سے کوئی سروے یا ان پٹ نہیں لیا جاتا جس کی وجہ سے نصاب میں عملی تربیت، جدید علوم اور تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے والے پہلوؤں میں کمی پائی جاتی ہے۔ اسی بنا پر پاکستان میں تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل ایک اہم معاملہ ہے۔ جس کو جانتے بوجھتے ہوئے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً، پالیسیاں ہمہ جہت اور مستحکم بنیادوں سے محروم ہوتی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اکثر لوگ کام صرف دکھاوے کے لئے کرتے ہیں تاکہ بظاہر ایک اچھا تاثر قائم ہو سکے۔ پالیسیوں کی تشکیل کے وقت ماہرین تعلیم، اساتذہ اور طلباء کی ضروریات کو مناسب طریقے سے شامل نہیں کیا جاتا بلکہ فیصلہ سازی کا عمل محدود اور بوسیدہ نظریات پر مشتمل ہوتا ہے۔
اسی طرح دنیا کی قدیم تہذیبوں کے افکار کی سمجھ بوجھ ہو یا اکیسویں صدی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت گلوبل ویلج کے روپ میں میسر مکمل کرہ ارض یا پھر اس میں موجود سماج و ماحولیات کے تابناک مستقبل کے لئے شعوری انسانی تگ و دو، یہ سب اساتذہ کی مرہونِ منت ہے۔ علم کی ترسیل، ذہنوں کی تشکیل، ذاتی، قومی، سماجی، سائنسی، اور تمام دیگر علوم و فنون کے مختلف ادوار میں اساتذہ کا مسلسل کردار رہا ہے۔ بلا شبہ، تعلیم اخلاقی اور جمالیاتی عمل ہے۔
اس لئے تعلیمی عمل میں اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ اخلاقی اقدار کو خود اپنائے اور اپنے عمل سے ان اقدار کو طلبہ میں منتقل کرے کیونکہ استاد کی شخصیت براہ راست طلبہ پر اثرانداز ہوتی ہے۔ استاد پر لازم ہے کہ وہ نسلوں کی ذہن سازی اس انداز میں کرے کہ وہ کسی کا آلہ کار بننے کی بجائے معاشرے میں اعلی اخلاقی و سماجی اقدار کی ترویج کر سکے۔ انسان کی زندگی سے جڑے ہر پہلو کا تعلق تعلیم سے ہے۔ معاشرتی اکائیوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما، تخلیقی قوتوں کی تربیت سماجی عوامل و محرکات کے اثرات، نظم و نسق، نقطہ نظر کی اہمیت، تہذیب و تمدن، اعلی اخلاقی اقدار اور زمانی تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہی مقصد تعلیم ہے۔
لہٰذا طالب علموں کی فکری پرورش کی ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں فی استاد طالب علموں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 47.6 ہے جبکہ بھارت میں یہ تناسب 35، بنگلہ دیش میں 33 اور ایران میں 26.7 ہے۔ کلاس روم میں فی استاد طالب علموں کی زیادہ تعداد اساتذہ کے انفرادی سطح پر طلبہ کو توجہ دینے کی راہ میں حائل ہے۔ دوران تدریس اساتذہ کو جن دیگر مسائل کا سامنا ہے ان میں کم تنخواہ، فرسودہ اور غیر متعلقہ نصابی مواد، ناکافی تدریسی مواد، سکولوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان، تدریسی پیشے کے لئے احترام کی کمی بھی اساتذہ کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں پبلک سیکٹر سکولوں میں تعلیم کے معیار میں تنزلی کی وجوہات میں ملٹی گریڈ ٹیچنگ، کام کا زیادہ بوجھ، غیر تدریسی ڈیوٹیاں، تربیتی مواقع کی کمی اور بنیادی سہولتوں کا فقدان شامل ہے۔ دوردراز علاقوں میں تعینات اساتذہ کو رہائش اور نقل و حمل کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں سب سے کمزور و نظرانداز کیے جانے والا پیشہ تدریس کو بنا دیا گیا ہے۔ پولیو ڈیوٹی ہو یا مردم شماری، الیکشن ڈیوٹی، ووٹر لسٹوں کی تیاری، سیلاب ایمرجنسی ہو یا آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال و دیگر ایسی بے شمار ذمہ داریاں اساتذہ پر ڈال دی جاتی ہیں جن کو نبھانے کے دوران تدریسی عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
تعلیمی نظام کے ناقص ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اساتذہ سیاسی رابطوں کے ذریعے اس کا حصہ بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے میرٹ پر مبنی نظام کی تشکیل بے معنی ہو جاتی ہے۔ خیر، اس تحریر میں مسائل کی نشاندہی تو کی گئی ہے مگر بجٹ میں بہتری کے عملی اقدامات، جدید نصاب کی تشکیل میں ماہرین کی شرکت، اور طلبہ و والدین کے کردار جیسے اہم پہلوؤں کو مستقبل کی کسی تحریر میں مزید وضاحت سے بیان کیا جائے گا۔


