پندرہویں صدی میں چینی ایڈمرل ژینگ ہو کی مہمات کا مطالعہ


چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی تہذیبی اقدام ”Global Civilization Initiative (GCI)“ کا تصور مارچ 2023 ء کو بیجنگ میں ایک تقریر کرتے ہوئے پیش کیا۔ اس کا مقصد تہذیبی ہمہ گیری، باہمی آگہی اور لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ ہے۔ ان کے تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے تصور کو بین الاقوامی سطح پر بے انتہا پذیرائی ملی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”تہذیبوں کے درمیان تبادلہ اور باہمی ہم آہنگی انسانی تہذیب کی بڑھوتری اور دنیا کی پرامن ترقی کے لیے ایک اہم محرک ہے“ ۔ وہ کہتے ہیں کہ تہذیبوں کے درمیان تبادلے اور ہم آہنگی کو تمام ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کو بڑھانے اور انسانیت کو فروغ دینے کے ایک پل کا کردار نبھانا چاہیے تاکہ یہ سماجی ترقی کی ایک محرک قوت اور عالمی امن کو برقرار رکھنے کا مضبوط بندھن بن سکے۔ تاریخ کے طالبِ علم کے طور پر مضمونِ ہٰذا میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ انسانی تاریخ میں پہلے ایسی کوشش کب ہوئی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا اور تاریخ کی روشنی میں ایسی کوشش سے حال اور مستقبل کو سمجھنے کی سعی کی جائے۔

یورپی اقوام کی پندرہویں اور سولہویں صدیوں کے دوران نئے سمندری راستوں کی تلاش اور دریافتوں کے لیے بحری اسفار کو عالمِ انسانیت کے لیے بہت بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک کے درمیاں روابط استوار ہوئے۔ مغرب کی طرف کولمبس اور مشرق کی جانب واسکوڈے گاما اور دیگر مہم جوؤں کے اسفار کی بدولت ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ ہوا، عالمی سطح پر تجارت کو فروغ ملا اور جدید دور کا آغاز ہوا۔ یقیناً یہ کوششیں لائقِ تحسین تھیں لیکن ان کوششوں نے ایشیائی اقوام کی ان کاوشوں کو نظر سے اوجھل کر دیا جو اسی زمانے میں یا اس سے بھی پہلے وہ کر رہے تھے۔ ایسی ہی ایک کوشش، جو اس مضمون کا بنیادی موضوع ہے، وہ پندرہویں صدی کے شروع میں چینی بحری مہمات ہیں جن کی قیادت ایڈمرل ژینگ ہو (Zheng He) کر رہے تھے۔

ایڈمرل ژینگ ہو کون تھے۔ ان کا اصل نام حاجی محمود شمس تھا۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ ایک مسلمان تھے۔ ان کا تعلق چین کے صوبہ یونان (Yunnan) سے تھا اور ان کا خاندان سیمو نسل (Semu caste) سے تھا جو یوان (Yuan) دور سے اسلام کی پیروی کرتا آ رہا تھا۔ وہ خود سید اجل شمس الدین عمر کی چھٹی پشت سے تھے جو مشہور یوان گورنر تھے اور جن کا تعلق بخارا (موجودہ ازبکستان) سے تھا۔ ان کا خاندانی نام ”ما“ تھا جو پیغمبرِ اسلام محمدﷺ کے نام کو ظاہر کرتا تھا۔ ان کے دادا اور والد دونوں نے مکہ کا سفر کیا اور اسلامی فریضہ حج کی تکمیل کی۔ یقیناً انہوں نے اپنے والد سے ایران اور ایشیا کی دوسری جگہوں کے بارے میں کہانیاں سنی ہوں گی۔ جب منگ فوج نے یونان صوبہ فتح کیا تو وہ گرفتار ہوئے اور جیسا کہ اس زمانے کا عام دستور تھا، انہیں مردانہ صفات سے محروم کر کے خواجہ سرا بنا دیا گیا۔ منگ شہزادے ژو ڈی (Zhu Di) نے ان کا نام ژینگ ہو رکھ دیا۔ بعد میں یہی شہزادہ شہنشاہ یونگ لی (Yongle) کے نام سے تخت نشین ہوا۔ چونکہ ژینگ ہو نے شہنشاہ کی تخت نشینی میں اہم کردار ادا کیا تھا اس لیے انہیں شہنشاہ کا اعتماد اور بھروسا حاصل ہوا۔ انہوں نے منگ شاہی دربار میں ایک اعلی درجہ پر فائز جنرل، ایڈمرل اور سفارتکار کے فرائض انجام دیے۔

پھر شہنشاہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ بحری مہمات کو منظم کریں اور انہوں نے سات سمندری اسفار میں چینی بحری جہازوں کی قیادت کی۔ یہ اسفار 1405 ء، 1407 ء، 1409 ء، 1413 ء، 1417 ء، 1421 ء اور 1431 ء میں کیے گئے۔ یوں انہوں نے 1405 ء اور 1433 ء کے عرصہ کے دوران سات بحری سفر کیے۔ ان جہازوں نے تیس سے زائد ممالک کے مختلف مقامات کا دورہ کیا جن میں مشرقی افریقہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ موجودہ موزمبیق تک کا علاقہ شامل ہے۔ یہ اسفار واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس زمانے میں چینی دنیائے قدیم یعنی ایشیا، افریقہ اور یورپ کے متعلق مفصل جغرافیائی معلومات رکھتے تھے۔ ماخذوں میں درج ”مغربی سمندر“ ایشیا اور افریقہ کی ان جگہوں کی نشاندہی کرتا ہے جن کا کھوج ایڈمرل ژینگ نے لگایا۔ ان جگہوں میں جنوب مشرقی ایشیا، سماٹرا، جاوا، سیلون، ہندوستان، ایران، خلیجِ فارس، بحیرۂ احمر اور شمال کی طرف مصر اور افریقہ اور جنوب کی طرف موزمبیق چینل شامل ہیں۔

ایک امریکی مصنف گاون منزیز (Gavin Menzies) نے اپنی کتاب ”1421 ء: وہ سال جب چین نے دنیا کو دریافت کیا“ ( 1421 : The year China discovered the world) میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ژینگ ہو کے جہازوں نے فرڈیننڈ میگیلن اور کرسٹو فر کولمبس سے پہلے دنیا کے گرد چکر لگایا اور 1421 ء میں امریکہ دریافت کیا۔ تاہم اس نظریہ کو دیگر اسکالرز نے ابھی تک قبول نہیں کیا ہے۔

ایڈمرل ژینگ ہو کی مہمات میں شامل جہازوں اور عملہ کی تعداد اور حجم سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مہمات پندرہویں صدی میں کولمبس اور دیگر یورپی مہم جوؤں کے بحری اسفار سے کئی گنا بڑھ کر تھیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ ژینگ ہو کا پہلا سفر 1405 ء میں کیا گیا جو کولمبس کی 1492 ء میں امریکہ میں آمد سے کوئی زمانی اعتبار سے 87 سال پہلے ہے۔ اسی طرح واسکو ڈا گاما راس امید کا چکر لگا کر ہندوستان ژینگ ہو سے کوئی 92 سال بعد پہنچا۔ اور فرڈیننڈ میگیلن چینی مہم کے کوئی سو سال بعد دنیا کا چکر لگانے میں کامیاب ہو سکا۔ حجم کے حوالے سے بھی ژینگ ہو کے بحری جہاز اپنی تعداد اور وزن میں مغربی جہاز رانوں کے زیر استعمال کشتیوں سے بہت بڑھ کر تھے۔ پہلے سمندری سفر میں ایڈمرل ژینگ ہونے عظیم الشان شاہی بحری بیڑے کی قیادت کی جو 317 جہازوں پر مشتمل تھا جس میں 27800 عملہ سوار تھا۔ درجِ ذیل جدول چینی اور یورپی مہمات کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے جس سے بالکل واضح ہے کہ چینی مہمات ہر حوالہ سے یورپی کاوشوں سے بڑھ کر تھیں۔

1433 ء میں جب منگ سلطنت نے ان بیرونِ ملک مہمات کو معطل کر دیا تو ژینگ ہو کے یہ اسفار بہت جلد بھلا دیے گئے اور تاریخ کی کتابوں میں دفن ہو گئے۔ ان مہمات کا سرکاری ریکارڈ بھی رجعت پسند سرکاری افسران اور اسکالرز نے فائلوں کے بیچ گم کر دیا۔ نتیجتاً خود چینی زبان میں، ژینگ ہو کے اسفار پر سنجیدہ تحقیقی کام کا آغاز، تقریباً پانچ صدیوں بعد ، 1905 ء سے پہلے نہیں ہوا۔ بیسویں صدی میں محققین نے کئی طرح کے تاریخی آثار کا سراغ لگایا جس میں ژینگ ہو کے اسفار سے متعلق حجری کتبے اور الواح، منگ عہد کے شپ یارڈ کے آثار، اس کے ساتھیوں کے چھوڑے ہوئے سفری نوٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان مہمات سے متعلق اساطیری قصے، ادب، نقشہ جات اور دوسری اشیا کو بھی جمع کیا جانے لگا۔ اس کے باوجود محقق کئی اہم نکات پر متفق نہیں ہیں مثلاً ژینگ ہو کے جہاز کن علاقوں میں پہنچے، ان جہازوں کی جسامت کیا تھی، ان مہمات کا مقصد کیا تھا اور ان کو اچانک کیوں ختم کر دیا گیا۔

منگ شہنشاہ نے ایڈمرل ژینگ ہو کو سمندری سفر پر کن مقاصد کے تحت بھیجا؟ یہ سوال چین کی تاریخ نگاری میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان بحری مہمات کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ایک مقصد تو شاید شہنشاہ کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنی حکومت کی قانونی حیثیت کو منوائے، اپنی شہرت میں اضافہ کرے اور ساحلی علاقوں میں اپنی حکومت کو متعارف کروائے۔ وہ چین کی دولت اور طاقت کو بیرونی علاقوں میں دکھانا چاہتا تھا۔ ایک اور مقصد بیرونی دنیا کے بارے میں چینی علم کو بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی تجارت کا فروغ بنیادی مقصد تھا۔ غیر ملکی منڈیوں کا پھیلاؤ صنعت کاروں اور تاجروں کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ مہم کا ایک اور بہت اہم مقصد بیرونی ممالک کے ساتھ سفارت کاری اور ان سے اشیا کا حصول تھا۔

بعض محققین کے نزدیک ان مہمات کا مقصد استعماری تھا۔ ان کے نزدیک ”دوستی“ کے ان بحری اسفار کے پیچھے اصل مقصد مشرقِ و سطیٰ اور مشرقی ایشیا کو منسلک کرنے والے تجارتی راستوں پر جارحانہ طریقے سے چینی غلبہ کا حصول تھا۔ چنانچہ وہ ایڈمرل ژینگ ہو کی ان مہمات کو سامراجیت سے منسلک کرتے ہیں۔ تاہم کچھ اسکالرز اس طرح کے عزائم کی نفی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ژینگ ہو نے اتنے طاقتور بحری بیڑے کے باوجود نہ تو اپنی فوجی طاقت کو استعمال کر کے کسی علاقہ پر دعویٰ دائر کیا اور نہ ہی کسی بیرونی ملک پر قبضہ جمایا۔ اس کے برخلاف، ژینگ ہو کئی بادشاہوں کے لیے تحائف لے کر گیا، بالخصوص ہرموز (Hormuz) کے بادشاہ کو بہت سے تحائف اس نے پیش کیے۔ ژینگ ہو نے منگ سلطنت کی بحری صلاحیت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا بہت زبردست اظہار کیا لیکن کسی زمین پر قبضہ نہیں جمایا۔ جس سے واضح ہے کہ اس کا اصل مقصد سفارتی تعلقات استوار کرنا تھا نہ کہ استعماریت۔ وہ تیس سے زائد سفیروں کو لے کر چین واپس لوٹا اور بے شمار عجیب و غریب پودے اور مخلوقات اپنے ساتھ لایا جن میں مشرقی افریقہ سے لایا ہوا زرافہ بھی شامل تھا۔

ان چینی مہمات کے نتیجہ میں بہت سے اہم فائدے حاصل ہوئے جنہیں سمجھنا چینی صدر شی جن پنگ کے عالمی تہذیبی روابط کے تصور کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے :

سیاسی طور پر ، اس سے منگ چین کے دائرۂ اثر میں اضافہ ہوا۔ ایڈمرل ژینگ ہو نے اپنی فوجی اور تکنیکی قوت کے باوجود، کسی کمزور پر دھونس جمائے بغیر چین کو ایک عظیم قوم کے طور پر نمایاں کیا۔ اس نے بیرونی حملوں کے خلاف چھوٹی ریاستوں کو مدد فراہم کی مثال کے طور پر اس نے سیام کو اس بات سے باز رکھا کہ وہ ملاکا پر حملہ کرے اور ملاکا کو سری ویجائیا (Srivijaya) پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔

بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے یہ مہمات ”چین اور دیگر ریاستیں ایک خاندان ہیں“ کے تصور کو سامنے لاتی ہیں۔ ایڈمرل ژینگ ہو نے مقامی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ اور باہمی تعلقات کو فروغ دیا۔ جنگوں کی بجائے امن اور توسیع پسندی کی جگہ دوستی اور بھائی چارہ اس کی ترجیح تھا۔ حکمرانوں اور سفارت کاروں کو مدعو کیا گیا کہ وہ چین کا دورہ کریں اور باہمی احترام اور محبت پر مبنی تعلقات قائم کیے جائیں۔

اقتصادی لحاظ سے امداد اور تعاون پر مبنی مشرق و مغرب بین الاقوامی تجارت کو فروغ دیا گیا۔ مشورے اور باہمی تعاون کے ذریعے اس نے ”سب کے لیے جیت“ کی صورت حال پیدا کی اور مادی فوائد سے بڑھ کر عدل و انصاف کو اہمیت دی۔ وہ بحری قزاقی کے سخت خلاف تھا اور اس نے آبنائے ملاکا کے بدنام قزاقوں کی صفِ ہستی سے مٹا دیا۔ ثقافتی حوالے سے، اس نے حفظِ مراتب اور رسوم و رواج اور آدابِ مجلس کی پیروی پر زور دیا۔ سفارتی روابط میں، وہ سخاوت اور خیر سگالی کے اصولوں پر عمل پیرا رہا اور وہ مقامی ریاستیں جنہوں نے مقامی اشیاء بطور خراج پیش کیں انہیں فیاضانہ تحائف سے نوازا گیا۔ ان کا سب سے بڑا مقصد چینی کلچر اور ثقافت کو پھیلانا تھا۔ مذہبی رواداری اور وسیع المشربی پر عمل کرتے ہوئے تمام مذاہب کا احترام کیا گیا۔

یہ سوال بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ ان سمندری مہمات کو کیوں ختم کر دیا گیا۔ عموماً اس بات کی نشاندہی کی جاتی ہے کہ شہنشاہ یونگ لی (Yongle) کے بعد جو شہنشاہ چین میں تخت نشین ہوئے وہ بحری اسفار میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ مہمات انتہائی مہنگی تھیں۔ اس کے ساتھ، شمال کی طرف سے منگولوں کا بڑھتا ہوا دباؤ بھی تھا جو اس بات پر مجبور کر رہا تھا کہ سمندر کی بجائے زمینی تحفظ کو ترجیح دی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شاہی بیڑے اور بحری مہمات کو ترک کر دیا گیا اور دیوارِ چین جیسے عظیم اور پر شکوہ تعمیراتی منصوبہ پر کام کیا گیا۔ اس طرح ان مہمات کے ترک کرنے کو منگ سلطنت کی منگولوں کے خلاف حکمت ِ عملی اور منگ، منگول اور امیر تیمور کے سہ فریقی تعلقات کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اس بات کا اندازہ بھی لگاتے ہیں کہ چین اگر خوف اور تنہائی کا شکار ہو کر ان عالمی مہمات کو ختم نہ کرتا تو اس بات کا بالکل امکان تھا کہ یورپ کی بجائے چین دنیا کا رہبر اور قائد بن جاتا۔

ایڈمرل ژینگ ہو کی ان غیر معمولی مہمات کا مطالعہ نہ صرف چین، ایشیا اور افریقہ کی تاریخ کے لیے اہم ہے بلکہ مجموعی طور پر عالمی تاریخ کے کئی اہم پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ”دریافتوں کی غرض سے بحری مہمات“ (Voyages of Discovery) کے روایتی یورپ مرکزیت کے تصور سے ہٹ کر ایک مختلف نقطۂ نظر کو سامنے لے کر آتا ہے۔ یہ یورپ سے بہت پہلے چین کی گہرے سمندروں میں جہاز رانی کی غیرمعمولی صلاحیت کا پتہ دیتا ہے اور پندرہویں صدی میں یورپ کے منظر پر آنے سے پہلے چین اور بحرِ ہند میں سمندری تجارت، ہجرت اور نقل مکانی، ثقافتی تال میل اور سیاسی تعامل کے پیچیدہ روابط کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے۔

صدر شی جن پنگ کا تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی کا تصور ایڈمرل ژینگ ہو کی بحری مہمات کے ساتھ قریبی مماثلت رکھتا ہے۔ پندرہویں صدی کی چینی مہمات کا مقصد مختلف ممالک اور خطوں کے درمیان پر امن سفارتی تعلقات کا قیام، باہمی تجارت کا فروغ اور لوگوں کے درمیان روابط کو بڑھانا تھا تو اکیسویں صدی میں چین کے صدر شی جن پنگ بھی ایسی ہی دنیا کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ سیموئل پی ہنٹنگٹن کے تہذیبوں کے درمیان تصادم (Clash of Civilizations) کی بجائے صدر شی جن پنگ کا تہذیبوں کے درمیان پر امن بقائے باہمی اور بین الاقوامی مکالمہ (Global Civilization Initiative) عالمی امن و سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

Facebook Comments HS