کھیل اور ہمارا قومی مزاج!


ہائیں، یہ کیا ہو گیا؟ یہ اپنی ہی ٹیم ہے نا؟

”تم ہارو یا جیتو، ہمیں تم سے پیار ہے“ کے نعرے سے لعن طعن کرنے تک ہم ایک الگ جداگانہ مزاج رکھتے ہیں۔ جیسے ہم ہیں، ویسی ہی ہماری کھیلوں کی ٹیمیں ہیں، غیر متوقع نتائج دینے والی، ہارتے ہیں تو ہارتے ہی چلے جاتے ہیں، کون سی ٹیم سے ہارتے ہیں بلا تمیز و ترتیب، بس ہار کا سہرا ہے کہ باندھے چلے آتے ہیں سرکار۔ اور پھر یک دم ایک ”جیت“ ، اور جیت خالی خولی جیت نہیں، چھپڑ پھاڑ قسم کی جیت، جیسا کہ:

ہاکی اولمپکس، ورلڈ کپ، چمپیئنز ٹرافی، کرکٹ ورلڈ کپ، ٹی ٹوئنٹی، چمپیئنز ٹرافی، سنوکر ورلڈ چیمپئین، سکواش تو کیا ہی بات ہے، کراٹے، باکسنگ وغیرہ۔

ہار کی ہلکان ابھی سنبھلتی نہیں کہ جیت کا پھریرا لہرا دیا جاتا ہے اور ہم سب کچھ بھول بھال کر بھنگڑا ڈالنے لگتے ہیں۔ ہماری بھی کیا خوشیاں ہیں۔ ڈھیروں شکستوں کے بدلے ایک جیت کی خوشی چاہیے، بس!

ہم کھیل کو میدانِ جنگ سمجھتے ہیں، جہاں فتح ہے یا موت۔ ہار برداشت سے بالاتر ہے۔

ایک دو شکستوں تک تو ہم پیار جتاتے ہیں، لیکن اس کے بعد ایسی ایسی پھٹکار برستی ہے کہ کھلاڑی منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ شکستگانِ قوم ”ہٹلر بابا“ کو پکارتے پھرتے ہیں

کھیل کو کھیل کی سطح پر رکھنا محال ہے، مجھے یاد ہے 1986 کے لندن ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان اپنے سارے میچ ہار گیا (یاد رہے 1984 میں ہم نے لاس اینجلس اولمپکس میں گولڈ جیتا تھا) ، اور گیارہویں بارویں پوزیشن کے لئے یعنی آخری دو پوزیشنز (ورلڈ کپ میں ٹوٹل 12 ٹیمیں تھیں ) کے لئے پاکستان اور بھارت کا میچ تھا، اس وقت ٹی وی تک ہماری رسائی نہیں تھی، گاؤں میں دو چار ہی گھر تھے جہاں یہ عیاشی میسر تھی۔ بہرحال سب نے بشمول ہمارے ریڈیو پر کمنٹری سنی۔ پاکستان جیت گیا، ہم گیارہویں اور بھارت بارویں نمبر پر آیا، لیکن خوشی تھی کی سنبھالی نہیں جاتی تھی۔ لگتا تھا ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔

بانوے کا کرکٹ ورلڈ کپ کون بھول سکتا ہے، ہار سے شروع ہوتے ہوئے، بارش میں بھیگتے بھیگتے، لُڑکتے پھسلتے سیمی فائنل تک اور پھر تاریخی فتح۔

1986 بھی کیا سال تھا، ہاکی والی فتح سے قبل، شارجہ والا چھکا جسے آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ یوٹیوب پر دیکھ لیں، کپل دیو اور سنیل گواسکر جیسے کھلاڑی کیسے آج بھی اس کی تعریف کرتے اور یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں۔

ہم ایسے ہی ہیں، کھلاڑی بھی اسی قوم کا حصہ ہیں،
Unpredictable!
کرکٹ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ناصر حسین کا کہا ہوا جملہ ہمارے مزاج کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے،
”Pakistan cricket at its best: one minute down, next minute up.“

Facebook Comments HS