قصہ ایک بسنت کا
ڈور، چرخی، پتنگ سب کچھ تھا
اس کے گھر کی طرف ہوا نہ چلی
لاہوریوں کی زندگی کی بہار، کھٹے پیلے رنگوں میں رنگی چولیوں، ہوا میں لہراتے حسیناؤں کے آنچل، میٹھے پکوانوں، چھتوں پر بو کاٹا کی آواز کی بنا ادھوری ہی رہتی ہے۔ پیلے گیندے کے پھول ہوں یا کسی دوشیزہ کی چنری کا زرد رنگ، زردے کی پلیٹ، سب اپنی مٹھاس لئے ہوتا ہے۔
بدن کو سکون دیتی سورج کی دھوپ، جس میں کھڑے رہنے سے بدن نہیں جلتا، تنگ کرنے والا پسینہ بھی نہیں آتا لیکن جسم کو وہ حرارت ملتی ہے جو سوچ و افکار کو گرمائے رکھتی ہے۔ اور اس چمکیلی دھوپ میں چھتوں پر چڑھے بانکے سجیلے، جن کی نظریں ہوا میں جھولتی پتنگ کا طواف کسی عاشق کی مانند کرتی ہیں۔
جن بچوں کی کل متاع وہ لوٹی ہوئی پتنگ ہوتی ہے جس کی قیمت سے کہیں زیادہ قدم اس کے پیچھے دوڑ کر ادا کی جاتی ہے۔ بظاہر اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر لوٹی پتنگ کا کھیل کھیلا جانا بھی کیا لطف اندوز منظر پیش کرتا تھا۔
فروری کے آغاز سے ہی بسنت کے تہوار کی تیاریاں، مقابلہ کرنے کے لئے ہمسایوں کا چھتوں پر چڑھ جانا اور ایک دوسرے کی گڈی کو بو کاٹا کرنے کے منتظر رہنا۔ پرجوش اور بے ضرر سا تہوار پنجاب کے شہروں خاص طور سے لاہور کی چھتوں اور اندرون لاہور کی تنگ گلیوں میں بڑے بوڑھوں سے بچتے بچاتے کسی محلے میں گرتی پتنگ کا پیچھا کرنا اس دور کی کسی بھی ویڈیو گیم سے زیادہ دلچسپ ہوا کرتا تھا۔ کئی کئی دن پہلے ڈور تیار کی جاتی۔ پتنگیں خریدی جاتیں۔ انہیں سنبھال کر رکھا جاتا۔ پھر ایک مخصوص تاریخ پر چھتوں پر پکوان لگتے۔ ڈھول کی تھاپ ہوتی زرد اور مالٹے رنگ کی چیزوں سے چھتوں کی تزئین ہوتی۔ جوان سفید لٹھے کی قمیص شلوار پہنے زرد رنگ کے۔ گلے میں لئے اور نوجوان لڑکیاں رنگا رنگ ملبوسات پہنے اپنے بھائیوں، چچاؤں، کزنوں کا حوصلہ بڑھانے چھت پر پہنچ جاتیں۔
کھانے پکتے، پتنگ ہوا میں اڑتی، اس سمت تو کبھی اس سمت ہوا میں بلند ہوئی جاتی۔ مخالفین کوشش کرتے کہ ان کی پتنگ زیادہ اوپر جائے اور ساتھ ہی کوشش ہوتی ساتھ والے کی پتنگ کاٹی جائے۔ جیسے ہی اپنے ہدف کو پورا ہوتا دیکھا جاتا تو بو کاٹا کی صدائیں فضا میں گونج کر منظر کو مزید دلچسپ بناتیں۔
کٹی پتنگ کے پیچھے بھاگتے بچے جانتے بھی تھے کہ یہ پری کسی ایک کا ہی نصیب ہوگی لیکن اپنی سی کوشش کی جاتی کہ دوسرے پر سبقت لی جائے۔ کبھی کبھار پتنگ پھٹ جاتی تو بچوں کی آنکھ سے ایسے آنسو بہتے جیسے کسی عزیز چیز کے چھن جانے پر غم منایا جاتا ہے۔ کسی وقت پتنگ کسی اونچی منڈیر یا کسی کھمبے پر اٹک جاتی تو لکڑی لے کر اسے اتنی احتیاط سے اتارا جاتا جیسے کسی نازک پنکھڑی کو کہ کہیں انجانے میں اسے چوٹ نہ پہنچے۔
کچھ گھنٹوں کی اس پر لطف تقریب میں کئی خاندان اکٹھے ہوتے۔ کئی محلے والے مل جل کر مزے کرتے لیکن افسوس بسنت جیسے زندہ دل تہوار کو زہریلی ڈور بنانے والوں نے نگل لیا۔ لیکن پرانے دور کے سبھی افراد اس تہوار سے متاثر رہے۔ حتیٰ کہ افتخار عارف کی خوبصورت نظم اس بات کی غماز ہے۔
”قصہ ایک بسنت کا“
پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا اور کس کی
ڈور ہلکی تھی
انہیں اس سے غرض کیا پینچ پڑتے وقت کن ہاتھوں میں لرزہ آ گیا تھا
اور کس کی کھینچ اچھی تھی
ہوا کس کی طرف تھی، کون سی پالی کی بیری تھی
پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم
انہیں تو بس بسنت آتے ہی اپنی اپنی ڈانگیں لے کے میدانوں میں آنا ہے
گلی کوچوں میں کانٹی مارنا ہے پتنگیں لوٹنا ہے لوٹ کے جوہر دکھانا ہے
پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا
اور کس کی ڈور ہلکی تھی


