انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے


خط دِلی خیالات کا روزنامچہ اور اسرارِ حیات کا صحیفہ ہے۔ تاریخی حوالے سے بغداد کے قریب پانچ ہزار سال پرانی تختیاں اصل میں خطوط ہی تھے۔ ملکہ سبا کو لکھا گیا حضرت سلیمان کا خط بھی تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ اردو میں رجب علی سرور اور غلام غوث بے خبر اولین مکتوب نگار سمجھے جاتے ہیں۔ غالب اور مولانا آزاد کے خطوط نے تو مکتوب نگاری کو صنفِ ادب بنا دیا۔ وقت کے ساتھ ڈاکیا اور قاصد نو دو گیارہ ہوئے اور ان کی جگہ جدید برقی آلات نے لی۔ اسی لیے اقبال نے مشینوں کو دل کی موت اور احساس مروت کی قاتل قراردیا۔ تاہم کچھ عرصہ سے خط اور چٹھی کے چرچے پھر سے ہونے لگے ہیں۔ دیگر انقلابی سرگرمیوں کی طرح خطوط کی دم توڑتی روایت میں بھی ہمارے محبوب قائد نے نئی روح پھونک دی ہے۔ دو سال قبل امریکہ سے، چٹھی آئی ہے، کا مسحورکن راگ کانوں میں رس گھولتا رہا۔ لیکن فروری میں اوپر والوں کو پے در پے تین خطوط لکھ کر نئی تاریخ رقم کردی گئی۔ مرسل کا مکتوب ارسال کرنے کا دعویٰ جاندار سہی مگر مُرسِل الیہ خطوط کی وصولی سے یکسر انکاری ہے۔ کوئی کسی سے طرزِ کہن پر قلمی دوستی کرنا چاہے تو حرج ہی کیا؟ ہماری رائے میں طرزِ نو پر فرینڈ ریکوئسٹ بہتر تھی۔ مگر ہر دو صورتوں میں بیزار کسی مشتاق کو گھاس نہ ڈالے تو کیا کیجئیے؟ بس یہی کہ، الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ خیر کچھ نیا نہیں ہے۔ پہلے بھی لوگوں کو ایسے شکوے رہتے تھے، جیسے قمر بدایونی کہتے ہیں

نامہ بر تُو ہی بتا تونے تو دیکھیں ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

مگر ایسے میں پرانے لوگ مایوس ہونے کی بجائے کچھ نیا کر گزرنے کے خُوگر تھے۔ بقول داغ دہلوی

کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
ان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں

مکتوب کی وصولی سے مُکر بڑے لوگوں کا شیوہ ہے۔ اس سے پہلے امریکہ سے فون کال اور پھر حمایت کی بابت بھی سخت مایوسی کا سامنا رہا۔ مگر مذکورہ مکتوبات کو، کھلے خط، کی اصطلاح دے کر بھرم رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ کھلا خط ایسا خط ہوتا ہے جسے مرسل الیہ سے پہلے پوری قوم حسبِ لیاقت دیکھ، پڑھ اور سمجھ سکتی ہے۔ تاریخ میں خط لے جانے والے پیام بروں کو بعض اوقات مروا دیا جاتا تھا مگر کھلے خط میں یہ اندیشہ نہیں رہتا۔ کھلا خط سوشل میڈیا پر، سپردِ خلا، کر دیا جاتا ہے اور اس کی ترسیل کے لیے کسی قاصد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان خطوط میں اربابِ بست و کشاد کے لیے مَنوں کے حساب سے پند و نصائح اور نشانیاں ہیں کہ جن کے سامنے ارسطو، لقمان، میکیاولی، فارابی، غزالی اور چانکیہ کے اقوال محض ٹوٹکے نظر آتے ہیں۔ اچھا ہو کہ ان خطوط کو غبار خاطر کی طرز پر، غبارِ فاتر، کے عنوان سے مرتب کر لیا جائے۔ حسرت موہانی کی طرح قائد اسیر بھی قید بامشقت کا نوحہ بیان کرتا ہے۔ خیال ہے کہ خط اسی، page، کے کسی گوشے پر لکھا گیا ہے جو کبھی، ایک، ہوا کرتا تھا۔ اک تاریخی رائے کے مطابق جواب نہ دینے کی وجہ سادات کا خطوط پر اعتبار کا اُٹھ جانا بھی ہو سکتا ہے۔ بقول حماد نجیب، مُرسل کو مرسل الیہ کی جانب سے انتہائی مختصر مگر جامع جواب مل چکا ہے۔ اگر کبھی قائد کو اس جواب کی خود وضاحت کرنا پڑی تو لازم ہے ایسی ہی ہوگی۔

انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا، بغاوت نہ کرتے
یہ کیوں اس قدر تم کو جلدی ہے گھر کی بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے

Facebook Comments HS