لارنس آف عربیہ: ایک متنازع تاریخی کردار

الحمرا آرٹ کونسل کے زیر اہتمام مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ ادبی ہو یا تخلیقی کسی علاقے کی روایت ہو یا ثقافتی ورثہ۔ ان میں جا کر ہمیشہ احساس طراوت ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں لارنس ان لاہور کے عنوان سے اجوکا تھیٹر کے زیر اہتمام چند نئے چہروں کے ساتھ دلچسپ کھیل دیکھنے کا ملا۔ جس میں ہر اداکار کی اداکاری اس کے فن کے عروج کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ پا منظر اتنا جاندار تھا کہ پیش منظر کی

Read more

پاک بھارت بھائی چارہ

  عجیب ہے نا جب سے جنگ کا لفظ سنا ہے پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا پر مزاح نگاری کی بمباری کر دی ہے۔ کوئی جنگ جیتے یا ہارے، جنگ اچھی نہیں ہوتی۔ اور نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے خواص کا نہیں۔ ریاستی فیصلوں کا خمیازہ عوام بھگتی ہے۔ گھر جلتا ہے عوام کا، موت آتی ہے تو عوام کو ورنہ امرا کے ایوان تو سجے ہی رہتے ہیں۔ وزرا تو محفوظ ہی رہتے ہیں۔ اور المیہ یہ ہے

Read more

کیا یہاں ایمان بھی بکتا ہے؟

”حاجی صاحب! یہ مسنون دعاؤں کی کتاب بھی لے لیں۔ جو بھی لے کر گیا ہے بڑی تعریف کرتا ہے۔ کہتا ہے ہر موقع کی دیا ہے اس میں۔“ ”میں حاجی صاحب نہیں ہوں۔ زندگی میں پہلی مرتبہ تو یہ سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ پروردگار قبول فرمائے۔“ ”بھائی صاحب پھر بھی۔“ ”اچھا یہ باتیں چھوڑو یہ عطر کی شیشی بھی دے دو۔“ ” اسے چھوڑیں جناب آپ یہ والا دیکھیں۔ یہ تو روضہ رسول کی خاص خوشبو دیتا ہے۔“

Read more

قصہ ایک بسنت کا

‏ڈور، چرخی، پتنگ سب کچھ تھا اس کے گھر کی طرف ہوا نہ چلی لاہوریوں کی زندگی کی بہار، کھٹے پیلے رنگوں میں رنگی چولیوں، ہوا میں لہراتے حسیناؤں کے آنچل، میٹھے پکوانوں، چھتوں پر بو کاٹا کی آواز کی بنا ادھوری ہی رہتی ہے۔ پیلے گیندے کے پھول ہوں یا کسی دوشیزہ کی چنری کا زرد رنگ، زردے کی پلیٹ، سب اپنی مٹھاس لئے ہوتا ہے۔ بدن کو سکون دیتی سورج کی دھوپ، جس میں کھڑے رہنے سے بدن

Read more

تہران: ایلیٹ کلاس اور گدھا

تہران کے جس علاقے میں ہماری یونیورسٹی ہے اسے فارسی اصطلاح میں ”بالائی شہر“ کہتے ہیں۔ میں جب پہلے پہل ایران آئی تھی تو فارسی بس مناسب حد تک ہی اچھی تھی۔ یعنی حال احوال پوچھ لیتے یا یہ بتا دیتے کہ ”من فارسی بلد نیستم؛ یعنی مجھے فارسی نہیں آتی“ اور اس جملے کو سن کر کچھ ایرانی تو جان لیتے کہ اچھا فارسی نہیں آتی اور کچھ لوگ بضد کہ جب یہ جملہ آتا ہے تو پھر فارسی

Read more

آپ کو نہیں معلوم پاکستانی آم کتنے اچھے ہوتے ہیں

آم کے عشق میں لوگوں نے ہم ”عام“ انسانوں کو یہ تک کہا عجب! تمہیں آم پسند نہیں؟ مطلب تم جنت میں نہیں جاؤ گی۔ سچ میں پنجاب سے ہو؟ یقین نہیں آتا۔ غضب خدا کا تم انسان تو ہو نا؟ لیکن وہ مٹھاس جو کم ترین مدت حیات میں دل موہ لینے کا ہنر جانتی ہے وہی مٹھاس ہمارا دل نہ جیت پائی۔ غالب کی شاعری قلب و نظر کو مبہوت کر دینے کی صلاحیت سے مالا مال سہی

Read more