کہانیاں جو میں نہیں لکھ سکا

میں نے مٹھی تھرپارکر میں ایک ٹیلے پر بکری کے چھوٹے سے بچے کے ساتھ لپٹی ایک سوتی لڑکی دیکھی تھی۔ میں وہیں کھڑ ا تھا جب اذان شروع ہوئی۔ لڑکی ہڑبڑا کر اٹھی۔ اس نے جلدی جلدی سر پر دوپٹہ سیدھا کیا۔ اس کی جھیل جیسی نیلی آنکھوں میں بیک وقت حسن اور خوف تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس لڑکی کا نام میگھنا تھا ۔ میگھنا شاید بادل کو کہتے ہیںمگر تھرپارکر میں بارش کہاں برستی ہے؟ مجھے میگھنا کی نیلی آنکھوں میں حسن اور خوف کے تال میل کی کہانی لکھنی ہے۔
نصیر الدین شاہ کی فلم ہے ” البرٹ پینٹو کو غصہ کیوں آتا ہے“ جس میں وہ میکینک ہے مگر خواب بنتا رہت
میرے دفتر میں پیٹر نام کا ایک خاکروب تھا۔پیٹر نے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم نما کمرے میں ایک کریانے کی چھوٹی سی دکان کھول رکھی تھی جس کا ایک دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔ چار سال کی رفاقت میں ایک بار پیٹر کی دکان پر گیا۔ اس نے سافٹ ڈرنک کی بوتل نکالی تو میں نے کہا چائے پلا دو۔وہ گھر گیا۔ کافی دیر بعد ایک کپ میں چائے لے آیا۔ کپ کا کنارہ تھوڑا سا ٹوٹا ہوا تھا۔اس نے کانپتے ہاتھوں مجھے کپ پکڑایا اور نحیف آواز میں کہا، ’ سر پتہ نہیں آپ ہمارے کپ میں چائے پئیں گے بھی یا نہیں؟ میں نے بیگم کو کہا کہ کپ کو اچھی طرح دھو لے‘۔ میں نے کپ اٹھایا۔ اس میں سے ایک گھونٹ بھرا۔ چائے میں ایک مانوس سی خوشبو تھی جو چائے کو بدذائقہ سی بنا رہی تھی۔پیٹر کا دل نہ ٹوٹے اس لئے میں نے مجبوراََ دوسرا گھونٹ بھرا۔پیٹر بولا، ’ سر بیگم نے کپ اچھی طرح دھویا ہے۔اسے بھی ڈر تھا کہ پتہ نہیں آپ ہمارے کپ میں چائے پئیں گے یا نہیں۔ اس نے کپ دھونے کے لئے بالکل نیا لکس صابن کاغذ سے کھول کر اس سے کپ دھویا‘۔ مجھے اس ٹوٹے کپ میں نفرتوں کو پاٹتی اس خوشبودار چائے کی کہانی لکھنی ہے۔
میں بہت چھوٹا تھا۔ ماں جی گائےوں کے اصطبل میں گائیوں کا دودھ دھونے چلی گئیں تھیں۔دسمبر کی سرد ہواﺅں میں مجھے اکیلے کمرے میں ڈر لگ رہا تھا۔میں ماں جی کے پیچھے اصطبل چلا گیا۔ سردی کی وجہ سے میری ناک بہہ رہی تھی۔ ماں جی نے اپنے پلو سے میری ناک صاف کی۔ مجھے گوبر کی بدبو سے ابکائی سی آئی۔بہت مدت بعد ایک رات اسلام آباد کے پیرودہائی اڈے کے پاس مجھے دو چوروں نے لوٹا ۔ انہوں نے مجھے ایک ڈنڈا بھی مارا۔ میں اپنے کمرے میں پہنچا تو مجھے محسوس ہوا جیسے میری کمر کچھ گیلی ہے۔ مجھے خوف محسوس ہوا کہ شاید خون ہو۔ ہاتھ لگا کر دیکھا تو کمر سے گوبر چپکا ہوا تھا۔ گوبر کی بدبو اس وقت مجھے خوشبو محسوس ہوئی۔گوبر کی بدبو کیسے خوشبو میں بدلتی ہے، مجھے یہ داستان لکھنی ہے۔
طالب علمی کے زمانے میں ڈائری لکھنا معمول تھا۔ ایک ڈائری میں محبتوں کی بہت ساری کہانیاں لکھی تھیں۔ جانے کیوں ایک رات برستی بوندوں میںفلیٹ کے ٹیرس میں بیٹھے بیٹھے وہ سارے کاغذ پھاڑ ڈالے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے نیچے پانی میں پھینک دیئے۔ وہ سارے کاغذ پانی میں بہتے چلے گئے۔ میں ان بہتے ٹکڑوں پر لکھی کہانیوں کو پھر سے لکھنا چاہتا ہوں۔




