ضیا الحق خود اپنی تقریریں بھی سنسر کرواتے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اخبارات پر سنسر اور پریس ایڈوائس کا سلسلہ پاکستان بننے کے ساتھہ ہی شروع ہوگیا تھا۔

قائدِاعظم اور مادرِ ملت کی تقریریں بھی محفوظ نہیں رہیں۔

یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ محکمہ اطلاعات والے بقول ان کے request کرتے ہیں کہ وزیر اعظم /وزیر اعلیٰ کی تقریر کا فلاں نکتہ ’’لیڈ‘ بنادیں یا فلاں خبر نہ چھاپیں وغیرہ وغیرہ

ضیا الحق کا دور اخبارات پر سب سے بھاری تھا۔

اس میں تیار شدہ اخبارات کی کاپیوں کو سنسر کرانے کی پابندی لگائی گئی۔ سنسر والے بہت ساری خبریں اور دوسرا مواد اتار لیتے تھے۔ اخبار چھپتے تو ان میں جگہ جگہ خالی، سفید جگہیں ہوتیں ۔

یہ (مزید) بدنامی کی بات تھی ،اس لئےحکم ہوا کہ کافی فالتو مواد تیار رکھا جائے، جہاں سے کچھہ اتارا جائے وہاں لگا دیا جائے۔

سنسرشپ کے دوران پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات پر خصوصی نظر رکھی جاتی تھی ۔ حتیٰ کہ ایک دن اس کےادارئیے کے اوپر لگنے والا قرانی آیات کا ترجمہ بھی سنسر کردیا گیا ۔۔۔ سورہ قصص کی ان آیات کا مفہوم تھا ۔۔۔ فرعون زمین پر بڑا بن بیٹھا، اس نے لوگوں کے کئی گروہ کر دیے ۔ ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر رکھا تھا اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔

یہ آیات ضیا الحق کے آنے سے سات سال پہلے مساوات کے اجرأ کے وقت سے اسی جگہ چھپ رہی تھیں، لیکن سنسر والوں نے کہا یہ ضیا الحق کے خلاف ہے۔

اور تو اور ڈکٹیٹر ضیا الحق کی اپنی تقریریں بھی سنسر ہوتی تھیں۔

وہ اس لئے کہ وہ جوشِ خطابت میں کوئی بونگی ماردیتے تھے۔ کسی گرانٹ کا اعلان کر دیتے،بعد میں ارادہ بدل جاتا یا حکام بتاتے کہ قواعد کے مطابق اتنی گرانٹ نہیں دی جاسکتی۔ یا کسی کے خلاف ایسی بات کر جاتے جو درست نہ ہوتی، اکبرِ اعظم بن کرکوئی ایسا اعلان کر دیتے جو قابلِ عمل ہی نہ ہوتا وغیرہ وغیرہ

تقریر کے یہ حصے نہ چھاپنےکی ہدایت PID والے اخبارات کے دفاتر فون پر کرتے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی تقریر کے اتنے نکات کٹوانے یا بدلوانے ہوتے کہ ٹیلیفون پربتانا مشکل ہوجاتا، جس پر وہ لکھہ کر قاصد کے ہاتھہ یا فیکس پر بھجوائے جاتے۔

ایسا ہی ایک مارشل لائی ’’ہدایت نامہ‘‘ ملاحضہ فرمائیں ۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •